پی آئی اے۔ جان بچی سو لاکھوں پائے

پھر وہی ہم پاکستانی عوام اور وہی کئی بار کی سنی سنائی کہانی! جس میں ایک بابا ہوتا ہے‘ ایک اس کا پوتا اور ایک کھوتا! ابنِ انشا نے بچوں کیلئے کمال کی نظمیں کہی ہیں! ایک نظم میں کھوتا لفظ استعمال کر کے نیچے حاشیے میں لکھتے ہیں کہ کھوتا پنجابی کا لفظ ہے۔ اس کا مطلب کسی پنجابی سے پوچھ لیجیے۔ خوش قسمتی یا بدقسمتی سے میں پنجابی ہوں اس لیے بتائے دیتا ہوں کہ کھوتا گدھے کو کہتے ہیں! کہانی میں دادا پوتا دونوں گدھے پر سوار ہوتے ہیں تو لوگ گدھے سے ہمدردی کرتے ہوئے دونوں کو ظالم کہتے ہیں۔ صرف دادا سوار ہوتا ہے تو لوگ پوتے سے ہمدردی کرتے ہیں۔ پوتا سوار ہوتا ہے تو پوتے کو سفاک کہتے ہیں کہ بوڑھے دادا کو پیدل چلا رہا ہے۔ تنگ آکر دادا پوتا گدھے کو اٹھا لیتے ہیں! اب انہیں بے وقوف کا خطاب ملتا ہے۔ پوری قوم بال کھول کر‘ پٹکے سے کمر باندھ کر‘ سینہ کوبی کر رہی تھی کہ قومی ایئر لائن سفید ہاتھی ہے‘ ہر روز کروڑوں کی امداد دینا پڑتی ہے‘ عوام کی خون پسینے کی کمائی اس بانجھ گائے پر خرچ ہو رہی ہے۔ اسے بیچو‘ سر سے یہ بوجھ اتارو! سب حکومت کو بے نقط سناتے تھے کہ جان بوجھ کر نہیں بیچ رہی کیونکہ فلاں سیاسی پارٹی کو خوش رکھنا ہے‘ وغیرہ وغیرہ! اب جب خدا خدا کر کے فروخت ہوئی ہے تو اعتراض پر اعتراض ہو رہے ہیں۔ سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ فروخت کرنے کے بجائے اسے ٹھیک کرنا چاہیے تھا۔
ایک گاڑی جب تباہ ہو چکی ہو‘ چلنے کے قابل نہ رہے تو آپ اسے ''ٹھیک‘‘ کرائیں گے یا اونے پونے بیچیں گے؟ بھائی صاحب ! سکریپ میں بھی بک جائے تو آپ خوش قسمت ہیں! پی آئی اے ایک ایسی گاڑی تھی جو ٹھیکرے سے بھی بدتر شکل اختیار کر چکی تھی۔ اس گاڑی کا انجن ٹھس ہو چکا تھا۔ اس کی باڈی ہزار ٹانکوں میں تبدیل ہو چکی تھی۔ اس کی سیٹیں تھیں ہی نہیں! فرش پر چادریں بچھی تھیں اور گندے‘ میلے‘ پھٹے ہوئے بد بودار تکیے رکھے تھے۔ یہ دھکے سے بھی نہیں چلتی تھی۔ قومی ایئر لائن قومی رہی تھی نہ ایئر لائن۔ اندازہ لگائیے‘ دہائیوں تک اسے نوچا گیا‘ بھنبھوڑا گیا‘ چبایا گیا۔ سالہا سال تک بھرتیاں میرٹ پر نہ ہوئیں۔ مدتوں نوکریوں کیلئے عام اشتہارات نہ دیے گئے۔ ہر شعبے میں بھرتیاں چور دروازے سے ہوئیں! جو کسی بڑے کھڑپینچ کا قریبی عزیز ہوتا تھا‘ ڈیپوٹیشن پر پی آئی اے میں آجاتا تھا۔ یہاں راتب اچھا تھا۔ مقدار بھی کثیر تھی۔ سفارش تکڑی تھی اس لیے پوچھ گچھ بھی نہیں تھی۔ یہ کوئی راز کی بات نہ تھی کہ جنہیں جرائم کی وجہ سے نکالا جاتا تھا وہ طاقتور سیاستدانوں سے فون کراتے تھے اور دو دن بعد سزا دینے والے افسروں کے سامنے اکڑ کر چل رہے ہوتے تھے۔ یہ کالم نگار صرف اپنے ذاتی تجربے بیان کرے تو سمجھا جا سکتا ہے کہ ایئر لائن نااہلی کا گڑھ بن چکی تھی۔ ایک عزیز کے انتقال پر بھکر جانا تھا۔ قریب ترین ہوائی اڈا ڈیرہ اسماعیل خان تھا۔ پی آئی اے سے ٹکٹ مانگا تو بتایا گیا کہ جہاز بھرا ہوا ہے‘ کوئی سیٹ خالی نہیں۔ وزارتِ دفاع کو درمیان میں ڈال کر اس کے کوٹے سے ٹکٹ لیا۔ جہاز کے اندر داخل ہوا تو اُس پروردگار کی قسم جس نے پیدا کیا اور جس کے سامنے حاضر ہونا ہے‘ آدھے سے زیادہ جہاز خالی تھا۔ اور سنیے: ہم تین افراد واشنگٹن جا رہے تھے۔ لندن سے جہاز تبدیل ہونا تھا۔ لندن تک پی آئی اے نے پہنچانا تھا۔ پی آئی اے نے اس قدر تاخیر سے پہنچایا کہ واشنگٹن والا جہاز جا چکا تھا۔ اب ہم کہاں جائیں؟ لندن ایئر پورٹ پر پی آئی اے کا دفتر گھاس ہی نہیں ڈال رہا تھا۔ پاکستان فون کر کے کہلوایا اور ہزار دقت کے بعد ایک تھرڈ کلاس ہوٹل میں رات گزاری! مزید سنیے: ایک اجلاس اٹینڈ کرنے کے لیے میکسیکو جانا تھا۔ نیویارک تک پی آئی اے نے پہنچانا تھا۔ پی آئی اے نے تاخیر سے پہنچایا۔ میکسیکو والا جہاز نکل چکا تھا۔ رات تھی۔ نیویارک ہوائی اڈے پر جو خاتون پی آئی اے دفتر کی ہیڈ تھی‘ وہ امریکہ کی جم پل تھی۔ انگریزی بولتی تھی تو چہرہ جیسے تشنج سے اکڑ جاتا تھا۔ پوچھا: تاخیر کی ذمہ دار ایئر لائن ہے‘ رات کہاں گزاری جائے۔ کہنے لگی ''ناٹ مائی پرابلم‘‘۔ اسلام آباد فون کیا‘ تب جا کر ایک ہوٹل میں مَنجی بسترا میسر ہوا! اب تو پی آئی اے کی کوئی پرواز بنکاک نہیں جاتی‘ جس زمانے میں جاتی تھی‘ ہمیشہ اتنی تاخیر سے پہنچتی تھی کہ آسٹریلیا‘ جاپان‘ ہانگ کانگ جانے والوں کے جہاز نکل چکے ہوتے تھے۔ ایک بار جہاز غیرمعمولی تاخیر سے پہنچا کیونکہ پاکستان کی ایک اہم شخصیت نے بنکاک جانا تھا اور وہ اپنے گھر سے دیر سے تشریف لائے تھے۔ جہاز ان کا انتظار کرتا رہا! کوئی احمق ہی اپنی خوشی سے اس ایئر لائن میں سفر کر سکتا تھا۔ پی آئی اے کی بنیادی ڈیوٹیاں صرف دو تھیں۔ اول اہلِ اقتدار کی خدمت۔ دوم اپنے افسروں اور ملازموں کی نا جائز دیکھ بھال! بہترین سیٹیں ان کے اپنے ملازمین کو ملتی تھیں! ان گنہگار آنکھوں نے دیکھا کہ ایک پرواز کے دوران بزنس کلاس میں بہت شور تھا۔ ایک صاحب وہاں سے نکلے جو پائلٹ تھے اور میرے جاننے والے تھے۔ پوچھا: یہ اتنا ہلا گلا کیوں ہے؟ کہنے لگے: سب پی آئی اے ہی کے ملازمین ہیں! ہنس کھیل رہے ہیں! ایک خاص سیاسی جماعت پی آئی اے کو فروخت کرنے کی سب سے زیادہ مخالفت کرتی رہی؟ کیوں؟ اس لیے کہ یہ اس کے لیے دودھ دینے والی گائے تھی۔ کارکن یہاں بھرتی کیے جاتے تھے۔ نصف درجن سے زیادہ یونینیں راج کر رہی تھیں۔ ایک سابق چیئرمین نے پریس کانفرنس میں اعتراف کیا تھا کہ یونینیں کسی کو سزا نہیں دینے دیتیں۔ ایک مذہبی جماعت نے بھی یونینوں کی اس گنگا میں خوب خوب اشنان کیے۔ فی جہاز افرادی قوت اتنی زیادہ تھی کہ اس سے بڑھ کر پوری دنیا میں ایک آدھ ملک ہی تھا۔ جس طاقتور ادارے کا بس چلتا‘ اپنے وی آئی پی کو ایئر لائن کا سربراہ بنا دیتا۔ خدا کے بندو! حکومتوں سے کاروبار نہیں چلتے۔ ایمیریٹ ایئر لائن اور دوسری ایئر لائنیں اس لیے کامیاب ہیں کہ ملک کا سربراہ بھی ان کے معاملات میں دخل اندازی نہیں کر سکتا۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ کارخانے یا کمپنی کی سربراہی جب کسی سرکاری افسر کو ملے تو وہ پہلے دن یہ پوچھتا ہے کہ اسے اور اس کے گھر والوں کو گاڑیاں کتنی ملیں گی؟ مکان کتنا بڑا ہو گا؟ نوکرچاکر کتنے ہوں گے اور کون کون سے بِل کمپنی ادا کرے گی۔ کمپنی کو کوئی بزنس مین یا سیٹھ خریدے تو سب سے پہلے بیلنس شیٹ منگواتا ہے اور دیکھتا ہے کہ کمپنی نفع میں جا رہی ہے یا نقصان میں!
کراچی کی سٹیل مل عبرت کی سب سے بڑی مثال ہے۔ سب کو معلوم ہے کہ اس کے ایک سربراہ کس کے بھائی تھے اور کس کے والد! کتنے کروڑ کے معاملات تھے اورکون کون جیل میں تھا یا تھی؟ بھٹو صاحب نے نجی کارخانوں کو سرکار کے حوالے کیا تو اچھی طرح یاد ہے کہ ایک صاحب جو میرے جاننے والے تھے‘ کتنے خوش تھے۔ چند ہی دنوں کے بعد وہ ایک کارخانے کے سربراہ لگ گئے۔ یہ کارخانہ ان کے اور ان کے دوستوں کے لیے پینے پلانے کا کلب بن کر رہ گیا۔ حکومتوں کا کام ایئر لائنیں اور کارخانے چلانا نہیں‘ ایسے قوانین بنانا ہے جو ان ایئر لائنوں اور کارخانوں کو کسی پر ظلم نہ کرنے دیں! صارفین پر نہ ملازمین پر! ہمارے ملک میں احمقوں کا ایک ٹولہ سوویت یونین کے انہدام کا ذمہ دار مردِ مومن مردِ حق اور نام نہاد افغان جہاد کو قرار دیتا ہے۔ یہ بیانیہ دنیا میں کہیں اور کوئی نہیں خریدتا۔ سوویت یونین اس لیے دھڑام سے گرا کہ سب کچھ سرکاری ملازموں کے ہاتھ میں تھا۔ کرپشن نے پوری عمارت گرا دی!

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں