"IYC" (space) message & send to 7575

بھارتی انتہا پسندی کا ایک اور ثبوت

بنگلہ دیش نے اپنی کرکٹ ٹیم ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کے لیے بھارت بھیجنے سے انکار کر دیا ہے۔ کہا ہے کہ بھارت میں سکیورٹی کی صورتحال بنگلہ دیشی کھلاڑیوں کے لیے سازگار نہیں‘ اس لیے کھلاڑی نہیں بھیج سکتے۔ یہ کہانی شروع ہوئی تھی گزشتہ ماہ یعنی دسمبر میں بھارتی اداکار شاہ رخ خان کی جانب سے آئی پی ایل کے سلسلے میں بنائی گئی اپنی ٹیم کولکتہ نائٹ رائیڈرز کے لیے بنگلہ دیشی کھلاڑی مستفیض الرحمان کی خدمات حاصل کرنے سے۔ مستفیض الرحمان اب تک آٹھ آئی پی ایل سیزن میں شرکت کر چکے ہیں۔ اس دوران انہوں نے سن رائزرز حیدر آباد‘ ممبئی انڈینز‘ دہلی کیپٹلز‘ چنئی سپر کنگز اور راجستھان رائلز جیسی ٹیموں کی نمائندگی کی۔ اب ایک بنگلہ دیشی کھلاڑی کو آئی پی ایل ٹیم کا حصہ بنانے پر انتہا پسند ہندو سیخ پا ہو گئے۔ ہندو انتہا پسند جماعت شیو سینا نے مستفیض الرحمان کو کولکتہ نائٹ رائیڈرز میں شامل کیے جانے پر ٹیم کے مالک شاہ رخ خان کو غدارِ وطن قرار دیتے ہوئے بنگلہ دیشی کرکٹر کو فوری طور پر ٹیم سے نکالنے کا مطالبہ کیا۔ شیو سینا کی دھمکیوں کے بعد بی سی سی آئی نے کولکتہ نائٹ رائیڈرز کو مستفیض الرحمان کو فارغ کرنے کا حکم دیا۔ شاہ رخ خان اس حکم کو فوری طور پر بجا لائے اور انہوں نے مستفیض الرحمان کو اپنی آئی پی ایل ٹیم سے فارغ کر دیا۔ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کی جانب سے اپنی ٹیم بھارت نہ بھیجنے کے فیصلے کے پیچھے یہی ساری سرگرمی کارفرما ہے۔ بنگلہ دیش کا شدید ردِ عمل یہیں تک محدود نہیں۔ بنگلہ دیشی حکومت نے اس سیزن کی آئی پی ایل نشریات بھی ملک میں نہ دکھانے کا اعلان کیا ہے۔ ساتھ ہی بنگلہ دیش پریمیئر لیگ (بی پی ایل) سے بھارتی پریزینٹر کو ہٹا کر پاکستانی پریزینٹر کو شامل کر لیا گیا۔
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے بنگلہ دیش کے میچ بھارت سے کہیں اور منتقل کرنے کی بھی درخواست کی تھی۔ بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے ٹی 20 ورلڈ کپ میچز بھارت سے منتقلی کی بنگلہ دیش کی درخواست مسترد کر دی ہے اور کہا ہے کہ ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کے لیے بھارت نہ آنے کی صورت میں بنگلہ دیش کو پوائنٹس سے ہاتھ دھونا پڑیں گے۔ بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم عالمی درجہ بندی میں اس وقت نویں نمبر پر ہے اور اس کے ناک آؤٹ مرحلے تک پہنچنے کے امکانات بھی موجود ہیں‘ اس لیے اس کی ٹورنامنٹ میں عدم شرکت یا میچز کی منتقلی ٹورنامنٹ کے توازن کو متاثر کر سکتی ہے۔ یہ ہدایت یا دھمکی بنگلہ دیش کے لیے قابلِ قبول ہو سکتی ہے یا نہیں‘ اس کا پتا جلد چل جائے گا۔ اگر بنگلہ دیش نے بھارت میں نہ کھیلنے کا فیصلہ کیا تو ظاہر ہے کہ پوائنٹس کا مسئلہ پیدا ہو گا اور یہ بھی ممکن ہے کہ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ پر کچھ جرمانہ بھی عائد کر دیا جائے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ آگے کیا ہوتا ہے۔ ایک بات طے ہے کہ آگے جو کچھ بھی ہو‘ اس کے اس خطے کی کرکٹ پر اچھے خاصے اثرات مرتب ہوں گے۔
بھارت کو جنگی میدان میں پاکستان نے تھپڑ رسید کیا‘ سفارتی اور تجارتی میدان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تھپڑ رسید کیا‘ گلوان کی لڑائی میں اور اروناچل پردیش کے ایشوز پر چین نے پے در پے کئی تھپڑ رسید کیے اور اب کھیل کے میدان میں بنگلہ دیش نے تھپڑ رسید کر دیا ہے۔ یہ کوئی انوکھی بات نہیں‘ جو کچھ بویا جاتا ہے وہی کاٹنا پڑتا ہے۔ جو بیج کر گندم نہیں کاٹی جا سکتی۔ نفرت کی آبیاری کرنے سے الفت کی پیداوار نہیں ہو سکتی۔ بھارت نے ہر پڑوسی ملک کے ساتھ پنگے لیے‘ ہر ایک کو نیچا دکھانے کی کوشش کی‘ ہر کسی پر دھونس جمانے کا رویہ اپنائے رکھا‘ بھارتی قیادت اپنے جارحانہ عزائم کی تکمیل میں لگی رہی۔ ایسے میں ایک دوسرے کے ساتھ دوستی‘ الفت اور کشش کیسے پیدا ہو سکتی ہے؟ یہ بات درست ہے کہ ممالک اور اقوام کے جذبات نہیں ہوتے بلکہ مفادات ہوتے ہیں لیکن تعلقات اچھے ہوں تو باہمی معاملات کو آسان‘ سہل اور آسودہ بنانے کی راہ نکل سکتی ہے۔ افسوس بھارتی قیادت کی 78 برس کی پالیسیوں نے اس حوالے سے کوئی گنجائش نہیں چھوڑی ہے۔ آج سے ایک صدی پہلے بر صغیر کے عوام ہندو انتہا پسندی‘ جارحانہ عزائم اور جانب داری کے ہاتھوں مجبور ہو کر ایک الگ وطن کے قیام کے لیے متحد ہوئے تھے۔ آج بھارتی انتہا پسندیاں بر صغیر کی سرحدیں عبور کر چکی ہیں۔ اسی لیے آج پورے جنوبی ایشیا کے عوام اپنے اپنے ملک کی سرحدوں کو بھارت کی ریشہ دوانیوں سے بچانے کے لیے فکر مند نظر آتے ہیں۔ سیاسی‘ جغرافیائی‘ معاشی اور معاشرتی حوالوں سے ہی نہیں بلکہ کھیل‘ کھلاڑی اور ثقافت کے حوالوں سے بھی۔
سب جانتے ہیں کہ مارچ2009ء میں سیریز کھیلنے کے لیے پاکستان آئی ہوئی سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر لاہور میں حملہ کیا گیا تھا۔ اس حملے کے پیچھے بھارت کی خفیہ ایجنسی را کے ملوث ہونے کے ثبوت ملے تھے۔ اس حملے کے بعد تقریباً ایک دہائی تک پاکستان میں کرکٹ نہیں کھیلی جا سکی۔ جن ٹیموں نے پاکستان آنا تھا‘ انہوں نے یہاں آنے سے انکار کر دیا۔ کئی سال بعد ملک کے مختلف حصوں میں عسکری آپریشنوں کے نتیجے میں حالات بہتر ہوئے تو عالمی سطح کی کرکٹ ٹیمیں پاکستان آنا شروع ہوئیں اور یہاں کے کرکٹ سٹیڈیمز کی رونقیں بحال ہوئیں۔ لیکن بھارت‘ جس نے ہر موڑ اور ہر قدم پر پاکستان کو نیچا دکھانے کی کوشش کی‘ پھر بھی باز نہ آیا۔ اب اس نے سکیورٹی خدشات کو ہوّا بنا کر پیش کیا اور پاکستان میں کرکٹ میچ کھیلنے سے یکسر انکار کر دیا۔ یہ میچز نیوٹرل وینیو پر کھیلے گئے۔ یہی نہیں بھارتی ٹیم کے کھلاڑیوں نے گزشتہ سال ایشیا کپ ٹورنامنٹ کے دوران پاکستانی کھلاڑیوں کے ساتھ ہاتھ ملانے سے انکار کر دیا تھا۔ علاوہ ازیں جب بھارتی ٹیم نے وہ ٹورنامنٹ جیت لیا تو کپتان نے محض اس لیے ٹرافی وصول کرنے سے انکار کر دیا تھا کہ وہ ٹرافی چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ پیش کر رہے تھے۔ یہ تنازع ابھی تک حل نہیں ہوا۔ اس طرح اس خطے میں اسلحے کی دوڑ شروع کرنے والا بھارت ہی سیاست کو کھیلوں کے میدان میں گھسیٹنے والا دنیا کا پہلا ملک ہے۔
کھیل امن اور سلامتی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں کیونکہ یہ قوموں اور ملکوں کو متحد کرتے ہیں‘ مثبت پیغام دیتے ہیں‘ صحت مند معاشرے کی تعمیر کرتے ہیں اور پُرتشدد رویوں کو روک کر تنازعات کے پُرامن حل کا ذریعہ بنتے ہیں‘ جو بین الاقوامی تعلقات اور داخلی استحکام کے لیے ضروری ہے‘ لیکن بھارت نے کھیلوں کو نفرت کے اظہار کا ذریعہ بنا لیا ہے جو عالمی برادری کے لیے تشویشناک ہونا چاہیے۔ بنگلہ دیش کے اپنی کرکٹ ٹیم بھارت بھیجنے یا نہ بھیجنے کا تو کوئی نہ کوئی متبادل تلاش کر ہی لیا جائے گا‘ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے خطے میں کھیلوں کا انعقاد صرف اور صرف بھارت کی پسند‘ نا پسند پر منحصر ہو گا یا اس کا کوئی اور طریقہ بھی وضع کیا جائے گا؟ ضرورت اس امر کی ہے کہ کھیل کو کھیل رہنے دیا جائے اور اسے کشیدگی کم کرنے اور امن کے فروغ کے لیے استعمال کیا جائے نا کہ سیاسی انتقام کے لیے استعمال ہونے دیا جائے۔ کیا عالمی برادری کی جانب سے بھارت کی انتہا پسندی کے سدِ باب کے لیے کچھ کیا جائے گا؟

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں