قتل کامحرک ثابت نہ ہوتوپھانسی برقرار نہیں رہ سکتی:سپریم کورٹ

قتل کامحرک ثابت نہ ہوتوپھانسی برقرار نہیں رہ سکتی:سپریم کورٹ

جبارکی پٹیشن خارج،لاہورہائیکورٹ کاسزائے موت کوعمرقیدمیں بدلنے کافیصلہ برقرار

اسلام آباد(اے پی پی)سپریم کورٹ نے قتل کیسزمیں سزا کے تعین سے متعلق ایک اہم اصول کو مزید مضبوط کرتے ہوئے عبدالجبار کی جیل پٹیشن مسترد کر دی اور لاہور ہائیکورٹ کا سزائے موت کوعمرقیدمیں تبدیل کرنے کافیصلہ برقرار رکھا ۔سپریم کورٹ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں واضح کیا کہ جب محرک ثابت نہ ہو اور واقعہ کی بنیاد عینی و طبی شہادت پر ہو تو سزائے موت کی بجائے عمر قید دی جانا قانونی تقاضا ہے ۔ جسٹس عرفان سعادت خان اور جسٹس ملک شہزاد احمد خان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے لاہورہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف جیل پٹیشن کی سماعت کی ۔ عدالتی فیصلے کے مطابق عبدالجبار کو ٹرائل کورٹ نے دفعہ 302(b)کے تحت قتل کا مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنائی تھی تاہم لاہور ہائیکورٹ نے اپیل پر سزا کو عمر قید میں تبدیل کر دیا تھا۔ استغاثہ کے مطابق واقعہ 31 مئی 2009 کو ضلع قصور میں پیش آیا جہاں دن دیہاڑے فائرنگ کے نتیجے میں مصطفی نامی شخص جاں بحق جبکہ دیگر افراد زخمی ہوئے ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں