قومی گندم پالیسی کے تحت سٹر ٹیجک ذخائر کی خریداری پر غور
گندم نگران کمیٹی کا اجلاس، عملدرآمد یونٹس ذخائر ، دیگر امور کا جائزہ صوبائی یونٹس قائم کرلئے ، عوام پر غیر ضروری بوجھ نہیں پڑیگا :رانا تنویر
اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین کی زیرِ صدارت قومی گندم نگرا ن کمیٹی کا تیسرا اجلاس ہوا، جس میں عبوری قومی گندم پالیسی کے نفاذ کے لئے صوبوں اور خطوں میں صوبائی عملدرآمد یونٹس کے قیام میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں موجودہ گندم کے ذخائر کی تلفی کے منصوبے اور نجی شعبے کے ذریعے گندم کے سٹر ٹیجک ذخائر کی خریداری کے ماڈل پر بھی غور کیا گیا ،کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ تمام صوبوں اور خطوں نے عبوری قومی گندم پالیسی کے نفاذ کے لئے صوبائی عملدرآمد یونٹس کامیابی سے قائم کر لئے ، جس سے ملک بھر میں مربوط اور مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنایا گیا ہے ۔تلفی کے منصوبے کے ایجنڈے کے تحت تمام صوبوں نے اپنے دستیاب گندم کے ذخائر کی تفصیلات اور متعلقہ تلفی حکمتِ عملیوں سے آگاہ کیا۔
گندم کے سٹر ٹیجک ذخائر کی خریداری کے ماڈل کے حوالے سے بتایا گیا کہ پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان نجی شعبے کی کمپنیوں کے ذریعے خریداری کریں گے ۔وفاقی وزیر نے کہا کہ قومی گندم پالیسی کا بنیادی مقصد کسانوں کے لئے گندم کی قیمتوں کو مستحکم کرنا اور انہیں منڈی کی غیر یقینی صورتحال سے محفوظ رکھنا ہے ۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ پالیسی غذائی تحفظ کو یقینی بنانے اور قیمتوں میں استحکام برقرار رکھنے کے لئے نہایت احتیاط سے تیار کی گئی ہے اور اس کے مکمل نفاذ کے بعد صارفین پر کسی قسم کا غیر ضروری بوجھ نہیں پڑے گا ، وفاقی وزیر نے کہا کہ قومی گندم پالیسی پر مؤثر عملدرآمد سے ایک پائیدار اور متوازن گندم منڈی قائم ہوگی، جس سے کسانوں، صارفین اور قومی معیشت کو فائدہ پہنچے گا۔