مظاہرین کیلئے مدد راستے میں:ٹرمپ:پہلے سے زیادہ تیار ہیں:ایران
اامریکا کا قطر کے العدید ایئربیس پر فضائی دفاع کیلئے نیا سیل قائم ،ٹرمپ کااپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کا مشورہ ،مظاہرین اداروں پر قبضہ کرلیں :امریکی صدر،تیل کی قیمتوں میں 3فیصد اضافہ ٹرمپ کا ایرانی تجارتی شراکت داروں پر 25 فیصد ٹیرف کا اعلان،جوابی اقدامات کرینگے ،فیصلہ بلیک میلنگ ،تہران پر حملوں کی دھمکیاں ناقابل قبول،دباؤ ، جبر مسائل کا حل نہیں :چین ، روس ایران میں ہلاکتیں 2 ہزار تک پہنچ گئیں:برطانوی میڈیا، امتحانات ملتوی،انٹرنیشنل طلبا کو جانے کی اجازت،تہران پر مزید پابندیاں جلد عائد :یورپی یونین، ایرانی حکومت کے آخری دن :جرمنی
واشنگٹن،تہران ،لندن،برسلز (نیوز ایجنسیاں) امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے عوام کو مدد پہنچنے والی ہے ۔ ٹروتھ سوشل پر ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ ایران کے عوام احتجاج جاری رکھیں اور اپنے اداروں کا کنٹرول سنبھالیں۔انہوں نے مظاہرین کے قتل اور تشدد میں ملوث افراد کے نام محفوظ رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہاکہ انہیں اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔ٹرمپ نے اعلان کیاکہ جب تک مظاہرین کے بے مقصد قتل کا سلسلہ بند نہیں ہوتا، وہ ایرانی حکام کے ساتھ تمام ملاقاتیں منسوخ کر رہے ہیں۔دوسری جانب امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق وزارت دفاع کے دو اعلیٰ حکام نے بتایا ہے کہ صدر ٹرمپ کو ایران کے خلاف وسیع پیمانے پر فوجی آپشنز اور خفیہ کارروائیوں کے منصوبے پیش کیے گئے ہیں، جو روایتی فضائی حملوں سے کہیں آگے ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ایران سے تجارتی تعلق رکھنے والے ممالک سے آنے والی اشیا پر 25 فیصد ٹیرف نافذ کر دیا گیا ہے ،یہ ٹیرف فوری طور پر نافذ العمل ہو گیا ہے ۔ چین اور روس نے کہا ہے کہ وہ اپنے جائز حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کریں گے ۔
واشنگٹن میں چینی سفارتخانے کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ ٹیرف کے اندھا دھند نفاذ کے خلاف چین کا مؤقف ہمیشہ واضح اور مستقل رہا ہے ۔ترجمان نے مزید کہا کہ ٹیرف جنگیں اور تجارتی جنگیں کسی کے لیے فائدہ مند نہیں ہوتیں۔ دباؤ اور جبر مسائل کا حل نہیں۔روسی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر نئے فوجی حملوں کی دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے ۔انہوں نے ٹرمپ کی جانب سے تجارتی محصولات کی دھمکی کو بھی بلیک میلنگ قرار دیا۔ترجمان ماریا زاخارووا نے کہا اس طرح کا اقدام مشرقِ وسطیٰ میں تباہ کن نتائج کا باعث بنے گا اور عالمی سلامتی کیلئے بھی خطرہ ہوگا۔ادھر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت تقریباً 3 فیصد بڑھ گئی۔اس کی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ تجارتی تعلق رکھنے والے ممالک پر سخت ٹیکس عائد کیے ہیں۔اس سے خدشہ پیدا ہوا کہ خام تیل کی فراہمی محدود ہو سکتی ہے ،ایران میں داخلی ہنگامے اور ممکنہ فوجی کارروائی کے خطرات نے تیل میں جغرافیائی سیاسی پریمیم کو بڑھا دیا۔علاوہ ازیں امریکی صدر ٹرمپ نے ڈیٹرائٹ اکنامک کلب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بائیڈن کے دور میں تاریخ کی بد ترین مہنگائی ہوئی،ہم نے معاشی طور پر امریکا کو مضبوط کر دیا ہے ،میں ایک سال میں 18 کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری امریکا لایا ہوں ، ٹیرف کی مخالفت کرنے والے چین کے حمایتی ہیں ۔
میرے ساتھ جو رہتے ہیں وہ پیسہ کماتے ہیں ، ایک شخص نے مجھ سے پیسہ کمایا اور بعد میں کہا ٹیرف اچھا نہیں ، امریکی شہری ایران چھوڑ دیں ، تو یہ برا خیال نہیں ، ایران میں ہلاکتوں کی درست تعداد مجھے نہیں بتائی گئی ، آئندہ 24 گھنٹے میں ہلاکتوں کی تعداد کا پتا لگا لیں گے ، امن کے حصول کی راہ میں رکاوٹ ایرانی جوہری صلاحیتوں کو ختم کیا ، البغدادی قاسم سلیمانی کو مارنا ہماری کامیابی ہے ، وینزویلا کے لیے ہم بہترین کام کر رہے ہیں ، وینزویلا سے روزانہ 5کروڑ بیرل آئل تیل لیں گے ، دنیا کا سب سے بڑا جہاز 10لاکھ بیرل تیل اٹھا سکتا ہے ، وینزویلا کو مضبوط کریں گے ، تیل کی قیمتوں میں کمی کریں گے ، وینزویلا میں مداخلت کرنا درست تھا ، ہماری مداخلت کی مخالفت کرنے والے امریکا سے نفرت کرتے ہیں،صحافیوں نے امریکی صدر سے پوچھا کہ کیا انہوں نے امریکی اتحادیوں کو ایران سے نکلنے کی ہدایت دی ہے ، ٹرمپ نے جواب دیامیرا خیال ہے کہ انہیں نکل جانا چاہیے ۔یہ کوئی بری بات نہیں ہے ۔ادھر ایران میں امریکی ورچوئل ایمبیسی نے امریکی شہریوں کیلئے سکیورٹی وارننگ جاری کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر ایران چھوڑنے کا حکم دیا ہے ۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران بھر میں احتجاجی مظاہروں کی شدت میں اضافہ آرہا ہے اور یہ پرتشدد شکل اختیار کر سکتے ہیں جس کے نتیجے میں گرفتاریوں اور تشدد کا خدشہ ہے ۔
ٹرمپ کی ایران پر حملے کی دھمکیوں کے بعد امریکی جنگی طیاروں کی قطر کے العدید ایئر بیس پر سرگرمیاں تیز ہوگئیں، العدید ایئربیس پر فضائی دفاع کیلئے نیا سیل قائم کر دیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق قطر کے العدید بیس سے کئی امریکی جنگی طیاروں نے پروازیں کیں۔میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا کہ کے سی 135 ایئر ریفیولنگ ٹینکر اور بی 52 سٹرٹیجک بمبار طیاروں نے پروازیں کیں۔خبر ایجنسی کے مطابق قطر کا العدید ایئربیس ایرانی سرحد سے 200 سے 300 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے ۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے کسی بھی ممکنہ اقدام کے جواب میں ایران ہر طرح سے تیار ہے ۔ایک انٹرویو میں عباس عراقچی نے کہا کہ ایران کی تیاری اس سے کہیں زیادہ ہے جتنی جون 2025 میں امریکی فضائی حملوں کے وقت تھی۔عباس عراقچی نے 8 جنوری کو 12 روزہ ایران اسرائیل جنگ کا ‘13 واں دن’ قرار دیا۔عراقچی نے کہا دشمن نے اس جنگ میں جو کچھ حاصل نہیں کیا، وہ یہاں ایک اور طریقے سے حاصل کرنے کی کوشش کی اور وہ ایرانی معاشرے میں تناؤ پیدا کیا۔یورپی پارلیمنٹ کی جانب سے ایرانی سفارتکاروں کے اس کی عمارت میں داخلے پر پابندی کے اقدام کے بعد عراقچی نے جوابی کارروائی کی دھمکی دی۔ انہوں نے ایکس پر لکھا کہ ایران یورپی یونین کے ساتھ دشمنی مول نہیں لینا چاہتا لیکن ہم کسی بھی پابندی کے خلاف جوابی کارروائی کریں گے ۔
انہوں نے کہا کہ غزہ میں70ہزار فلسطینی مارے گئے ،جو یورپی پارلیمنٹ کو اسرائیل کے خلاف کوئی حقیقی کارروائی کرنے پر مجبور نہیں کر سکی۔ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ تمام حکومتوں میں سے جرمنی کی حکومت شاید سب سے کم موزوں ہے کہ وہ انسانی حقوق پر بات کرے ۔ انہوں نے جرمنی کے چانسلر کے بیان کے جواب میں مزید کہا کہ ہم سب پر احسان کریں، کچھ شرم کریں۔حکومتی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے کہا کہ ٹرمپ اور اسرائیل کے حمایت یافتہ دہشت گردوں نے عوامی پرامن مظاہروں کو خون میں نہلا دیا۔ایران کے آرمی چیف میجر جنرل امیر حاتمی نے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ کے مقابلے میں ایران آج زیادہ طاقتور ہے ۔ امریکا میں قائم انسانی حقوق کے ادارے ہیومن رائٹس ایکٹوسٹس نیوز ایجنسی (ھرانا) کا کہنا ہے کہ 28 دسمبر سے شروع ہونے والے مظاہروں کے دوران ایران میں 1847 مظاہرین ہلاک ہو چکے ۔ادارے کے مطابق ہلاک شدگان میں 9 افراد کی عمر 18 برس سے کم ہے ، 135 سرکاری اہلکار ہیں جبکہ9عام شہری ہیں۔ مجموعی طور پر ہلاکتوں کی تعداد 2000 تک پہنچ گئی ہے ۔ خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایران کے ایک عہدیدا ر نے دعویٰ کیاہے کہ ایران میں حالیہ احتجاجی مظاہروں کے دوران سکیورٹی اہلکاروں سمیت تقریبا 2 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ۔ایرانی عہدیدارکے مطابق ہلاک ہونے والوں میں مظاہرین اور سکیورٹی اہلکار دونوں شامل ہیں، تاہم انہوں نے ہلاکتوں کی تفصیل فراہم نہیں کی۔
ایران میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے کہا ہے کہ ایران کی جامعات نے اپنے امتحانات ایک ماہ کیلئے ملتوی کردئیے ہیں۔پاکستانی سفیر نے بتایا کہ ایران کی جامعات نے انٹرنیشنل طلبا کو جانے کی اجازت دے دی ہے ۔ یورپی یونین نے ایران میں جاری مظاہروں پر حکومتی کریک ڈاؤن کے معاملے پر برسلز میں تعینات ایرانی سفیر کو طلب کر لیا ہے ۔ یورپی یونین کے ایک عہدیدار کے مطابق سفیر کو حالیہ صورتحال پر سخت تشویش سے آگاہ کیا گیا۔برطانیہ کی وزیر خارجہ یویٹ کوپر نے کہا ایران میں مظاہرین کے قتل کی برطانیہ سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے ۔یویٹ کوپر نے مزید کہا کہ برطانوی حکومت نے ایرانی سفیر کو طلب کیا تاکہ اس لمحے کی سنگینی کو اجاگر کیا اور ایران سے ان ہولناک رپورٹس پر جواب طلب کیا جا سکے ۔برطانوی حکومت نے ایران پر مزید پابندیاں لگانے کا فیصلہ کیا ہے ۔یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈر لیئن نے کہا ہے کہ یورپی یونین ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کو دبانے کے ذمہ دار حکام پر مزید پابندیاں جلد عائد کرے گا ۔آسٹریلیا کی وزیر خارجہ پینی وانگ نے ایکس پر اپنے ایک پیغام میں کہا کہ گزشتہ چند ہفتوں اور دنوں میں ہم نے جو کچھ دیکھا ہے وہ ایک جابرانہ اقدام ہے ۔ پینی وانگ نے ایرانی حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا نہ صرف یہ چاہتی ہے کہ آپ اپنے عوام کا قتل عام بند کریں، بلکہ وہ حکومت جو اقتدار کے لیے اپنے عوام کو قتل کرنے پر مجبور ہو، ایسی حکومت کسی بھی طرح اقتدار میں رہنے کا جواز نہیں رکھتی۔ادھر آسٹریلیا کے وزیرِاعظم انتھونی البانیز نے بھی ایرانی حکومت کے اقدامات کی مذمت کی ہے ۔
انہوں نے ایک مختصر ویڈیو پیغام میں کہا کہ ہم ایرانی عوام کی جدوجہد برائے عزت اور آزادی میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز نے کہا ہے کہ ہم اب ایرانی حکومت کے آخری دنوں اور ہفتوں کو دیکھ رہے ہیں، جب کوئی حکومت صرف تشدد کے ذریعے اقتدار برقرار رکھتی ہے تو اس کا خاتمہ قریب ہوتا ہے ۔ عوام اب اس حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔فن لینڈ کی وزیر خارجہ الینا والتونن نے کہا ہے کہ ایران میں انٹرنیٹ کی بندش اور مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن ناقابلِ برداشت ہے ۔ایرانی حکومت نے انٹرنیٹ بند کر دیا ہے تاکہ وہ اپنے خاموش قتل اور جبر کو انجام دے سکے ۔ہم ایرانی عوام، اس ملک کی خواتین اور مردوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ادھر سپین نے مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرانے کے لیے منگل کو ایران کے سفیر کو میڈرڈ میں طلب کیا ۔یوکرین کے صدر زیلنسکی نے ایران میں حالیہ عوامی مظاہروں کو ‘بغاوت’ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران میں جاری مظاہرے صرف احتجاج نہیں بلکہ دراصل ایک بڑی ‘عوامی بغاوت’ کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔