ویکسین تیاری پرٹیکس چھوٹ،سرمایہ کاری الاؤنس کی سہولت
مالیاتی پیکیج متعارف ،نقصان کی صورت میں حکومتی سطح پر ازالہ،پالیسی ڈرافٹ تیار کلینیکل ٹرائلز، ٹیکنالوجی ٹرانسفر ، ورک فورس کی ٹریننگ پر رعایت دی جائیگی:ذرائع
اسلام آباد (مدثر علی رانا)حکومت کا مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری کافیصلہ ، ٹیکسز میں چھوٹ اور سرمایہ کاری کو تحفظ حاصل ہوگا۔ پالیسی ڈرافٹ تیا ر کرلیا گیا جس کے مطابق ویکسین کی صنعت میں سرمایہ کاری پر مالیاتی اور ریگولیٹری انسینٹو دئیے جائیں گے ۔ باوثوق ذرائع کے مطابق ویکسین کی صنعت میں سرمایہ کاری پر ٹیکسز اور ان پُٹ کاسٹ میں رعایت حاصل ہوگی جبکہ حکومت کی جانب سے مالیاتی پیکیج بھی متعارف کرایا جائے گا۔دستاویز کے مطابق کارپوریٹ ٹیکس میں ریلیف دیا جائے گا، ویکسین کی تیاری کیلئے آلات پر کسٹمز ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس سے استثنیٰ حاصل ہوگا جبکہ سرمایہ کاری الاؤنس اور نقصان کی صورت میں حکومتی سطح پر ازالے کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔ ویکسین کی تیاری، کلینیکل ٹرائلز، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور ورک فورس کی ٹریننگ کے اخراجات پر بھی رعایت دی جائے گی۔
دستاویز کے مطابق پاکستان اس وقت درآمدی ویکسین پر انحصار کرتا ہے جبکہ کووڈ کے دوران عالمی سطح پر ویکسین کی قلت پیدا ہو گئی تھی۔ سالانہ بنیادوں پر پاکستان تقریباً 34 کروڑ ڈالر کی ویکسین درآمد کرتا ہے اور یہ درآمدی بِل 2030 سے 2035 کے درمیان بڑھ کر 1.2 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے ۔ دستاویز میں کہا گیا کہ ویکسین کی مقامی سطح پر تیاری نیشنل ہیلتھ سکیورٹی کا معاملہ ہے جس سے زرمبادلہ کی بچت اور مقامی صنعت کو فروغ ملے گا۔ پالیسی ڈرافٹ کے مطابق مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری سے درآمدی ویکسین پر انحصار کم ہوگا۔ سرمایہ کاروں کو اعتماد دینا ضروری ہے جبکہ ویکسین کی برآمد اس وقت تک ممکن نہیں ہوگی جب تک مقامی ویکسین عالمی سطح پر کریڈیبل نہ ہوں، جس کے لیے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی پری کوالیفکیشن لازمی ہوگی۔دستاویز کے مطابق مقامی ویکسین انڈسٹری کو لانگ ٹرم سرمایہ کاری کا تحفظ فراہم کیا جائے گا جبکہ حکومت معیاری، ریگولیٹڈ اور ویریفائیڈ ویکسین 10 برس تک خریدے گی۔