افغانستان بائی پاس،وسطی ایشیائی ممالک تک نئے راستوں سے رسائی:قازقستان کا50ہزار ٹن آلو خریدنے کا عندیہ

افغانستان بائی پاس،وسطی ایشیائی ممالک تک نئے راستوں سے رسائی:قازقستان کا50ہزار ٹن آلو خریدنے کا عندیہ

افغانستان کیساتھ معاملات ٹھیک کرنے کی کوششیں بے کار ،سوست بارڈر اور خنجراب پاس نئے تجارتی دروازے ہونگے ،سرحدی علاقوں میں مزید ویئر ہاؤسز بنائے جائیں گے :وزیرتجارت آلو کی برآمدات کیلئے اپریل سے جون کی ٹائم لائن طے ، تکنیکی اور تجارتی مشاورت مکمل ہو چکی ، سٹیٹ بینک کی معاونت سے ایرانی راستوں کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے :وزارتی حکام

اسلام آباد (ذیشان یوسفزئی،حریم جدون) افغانستان کے اندر سے ہونے والی دہشتگردی کے باعث افغانستان کے ساتھ تجارت اور ٹرانزٹ ٹریڈ تو بند ہی ہے لیکن افغانستان کے راستے وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارت رکی ہوئی تھی، پاکستان اب افغانستان کو نظر انداز کرکے وسطی ایشیائی ممالک تک رسائی حاصل کرے گا۔دوسری طرف آلو کی ریکارڈ پیداوار کیساتھ برآمدات کے بھی نئے دروازے کھل گئے ہیں اورقازقستان نے پاکستان سے 50 ہزار ٹن آلو خریدنے کا عندیہ دے دیا ہے ۔ پاکستان نے سینٹرل ایشین کنٹریز کے ساتھ تجارت کے لیے ایک اور راستے کا انتخاب کیا ہے ۔ وسطی ایشیائی ریاستوں تک اب گلگت بلتستان کے سوست بارڈر اور خنجراب پاس کو استعمال کیا جائے گا۔۔۔ وفاقی وزیر تجارت جام کمال نے بتایا ہے کہ افغانستان کے ساتھ ہم نے دو سے تین مرتبہ کوشش کی کہ معاملات ٹھیک ہو جائیں لیکن ساری کوششیں بے کار رہیں، اور افغانستان کے اندر سے پاکستان میں دہشت گردی ہو رہی ہے ۔ اب ہماری خارجہ پالیسی کا یہی فیصلہ ہے کہ افغانستان کے ساتھ تجارت بند رہے گی جب تک افغانستان پاکستان کے اندر دہشت گردی کا مسئلہ حل نہیں کرتا۔ افغانستان کے ساتھ دوطرفہ تجارت کے علاوہ ٹرانزٹ ٹریڈ بھی بند ہے ۔۔۔۔ اب پاکستان دوسری منڈیوں تک رسائی حاصل کرے گا۔

جام کمال نے کہا کہ اس کے علاوہ وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارت بھی اب سوست بارڈر اور خنجراب پاس کے ذریعے ہوگی۔ اس بات کو دوسرے ممالک نے بھی سمجھ لیا ہے ۔ جام کمال نے بتایا کہ قازقستان کے وزیر تجارت کے ساتھ ملاقات میں بھی اس پر بات چیت ہوئی، اس کے علاوہ ازبکستان کے وزیر تجارت سے بھی اس بات پر گفتگو ہوئی اور وہ ان باتوں کو سمجھنے لگے ہیں۔۔۔۔ ان سرحدی علاقوں میں اب مزید ویئر ہاؤسز اور گودام بنائے جائیں گے ۔ اس کے علاوہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جو تجارت ہوتی تھی، اس کی دوسری مارکیٹس تک رسائی ممکن بنائی جا رہی ہے ۔ چاول سے متعلق فلپائن کے ساتھ بات چیت جاری ہے جبکہ بنگلہ دیش میں الیکشن کے بعد نئی حکومت کو انگیج کیا جائے گا۔ وزیر تجارت کے مطابق پاکستان نے ترکیہ، چین، سعودی عرب اور دیگر ممالک سے بات چیت جاری رکھی ہوئی ہے ۔۔۔ وزارت تجارت کے مطابق افغانستان پاکستان کے لیے ایک بڑی مارکیٹ تو ہے لیکن پوٹینشل مارکیٹ نہیں ہے ۔

افغانستان میں روزمرہ کی ضروریات کی چیزیں بھیجی جاتی ہیں یا وہ چیزیں جو خراب ہونے والی ہوں، مثلاً کینو افغانستان اس لیے بھیجا جاتا ہے کہ اسے زیادہ دیر رکھا نہیں جا سکتا۔ تاہم اب حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ افغانستان کے بجائے دیگر منڈیوں تک رسائی حاصل کی جائے ۔ نمائندہ دنیا نیوز حریم جدون کے مطابق آلو کی ریکارڈ پیداوار کے باعث برآمدات کے نئے دروازے کھل گئے ہیں اورقازقستان نے بھی پاکستان سے 50 ہزار ٹن آلو خریدنے کا عندیہ دے دیا ہے ۔ملک میں آلو کی بمپر فصل متوقع ہے ، جس کے باعث حکومت نے قیمتوں میں استحکام اور زرعی برآمدات کے فروغ کے لیے نئی بین الاقوامی منڈیوں اور متبادل زمینی راستوں کی تلاش تیز کر دی ہے ۔ وزارتِ تجارت کے مطابق موجودہ سیزن میں آلو کی مجموعی پیداوار ایک کروڑ بیس لاکھ ٹن تک پہنچنے کا امکان ہے ، جبکہ تیس لاکھ ٹن سرپلس دستیاب ہوگا۔وزارتِ تجارت کا کہنا ہے کہ افغان سرحد کی بندش کے باعث آلو کی برآمدات متاثر ہوئیں، جبکہ چین کے ذریعے برآمدی راستے طویل اور مہنگے ثابت ہو رہے ہیں۔

این ایل سی حکام کے مطابق چین کے راستے دیگر ممالک تک آلو پہنچنے میں تقریباً ایک ماہ لگتا ہے ، جس سے لاگت میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے ۔حکومت ایران کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیائی ممالک تک آلو برآمد کرنے کے لیے سرگرم ہے ، جبکہ اسٹیٹ بینک کی معاونت سے آلو اور کینو کی برآمدات کے لیے ایرانی راستوں کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے ۔ وسطی ایشیائی ممالک کو آلو کی برآمدات تافتان اور سوست کے زمینی راستوں سے کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔ وزارت کے مطابق ویتنام کو آلو برآمد کرنے کے لیے پیسٹ رسک اینالیسز کا عمل جاری ہے ، جبکہ کمبوڈیا، ہالینڈ، جرمنی، فرانس، امریکا، میکسیکو اور افریقی ممالک کی منڈیوں پر بھی غور کیا جا رہا ہے ۔ چین کی جانب سے سنگل ویزا پالیسی بھی تجارتی نقل و حمل میں ایک بڑی رکاوٹ کے طور پر سامنے آئی ہے ۔

اسی دوران قازقستان نے پاکستان سے پچاس ہزار ٹن آلو درآمد کرنے میں گہری دلچسپی ظاہر کی ہے ۔ وزارتِ تجارت کے مطابق یہ پیش رفت وزیراعظم شہباز شریف اور قازقستان کے صدر کے درمیان حالیہ رابطے کے بعد ممکن ہوئی ہے ۔ آلو کی برآمدات کے لیے اپریل سے جون 2026 تک کی ٹائم لائن طے کر دی گئی ہے ، جبکہ دونوں ممالک کے متعلقہ حکام کے درمیان تکنیکی اور تجارتی مشاورت بھی مکمل ہو چکی ہے ۔وزارتِ تجارت کا کہنا ہے کہ پاکستانی برآمد کنندگان قازقستانی درآمد کنندگان کو معیاری آلو کی فراہمی یقینی بنائیں گے ۔ حکام کے مطابق پاکستان کے زرعی شعبے ، بالخصوص آلو کی پیداوار، میں نمایاں برآمدی استعداد موجود ہے ، اور قازقستان کی جانب سے بڑی مقدار میں درآمد میں دلچسپی کو پاکستانی کسانوں اور برآمدی شعبے کے لیے خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے ۔

اسلام آباد(اسلم لُڑکا)پاکستان اور قازقستان کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، توانائی ،تعلیم ، کھیل، ریلوے ، مصنوعی ذہانت و ڈیجیٹل ترقی اور صحت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کے لئے مفاہمت کی متعدد یادداشتوں اورمعاہدوں پر دستخط کئے گئے جبکہ پاکستان اور قازقستان نے باہمی اقتصادی تعلقات اور تجارتی حجم کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے سٹریٹجک شراکت داری قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اورآئندہ 2 سال میں تجارتی حجم ایک ارب ڈالر تک لے جانے پر زور دیا ہے جبکہ تجارت اور اقتصادی شعبے میں تعاون کو وسعت دینے کے لئے 5 سالہ روڈ میپ پر اتفاق کیا گیا۔ اسلام آباد میں گزشتہ روز پاکستان قازقستان بزنس فورم کا انعقاد ہوا جس میں وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستان کے دورے پر آئے قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف نے شرکت کی ۔ شہباز شریف نے وسط ایشیائی ریاستوں کو پاکستانی بندرگاہوں کے ذریعے عالمی منڈیوں تک رسائی کے مواقع سے استفادہ کرنے ، ریل اور روڈ رابطوں کو مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے۔

کہ دونوں ملکوں کے درمیان طے پانے والے 37 سمجھوتے دوطرفہ تعاون میں سنگ میل ثابت ہوں گے جبکہ قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف نے دوطرفہ تعلقات کو تزویراتی شراکت داری میں بدلنے کو ایک اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قازقستان، ترکمانستان، افغانستان، پاکستان ٹرانسپورٹ کوریڈور انتہائی اہمیت کا حامل ہے ، پاکستان اور قازقستان علاقائی اور عالمی رابطے کا اہم ذریعہ ہیں، پاکستانی کمپنیوں کو قازقستان میں کاروبار کے لئے سازگار ماحول فراہم کیا جائے گا۔ فورم میں قازقستان کی 50 سے زائد اور پاکستان کی 250 کے قریب کمپنیوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔وزیراعظم شہباز شریف نے فورم میں شریک کاروباری برادری کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ نشست ہمارے مستقبل کے لئے انتہائی اہمیت کی حامل ہے ،انہو ں نے پاکستانی بندرگاہوں کو وسط ایشیائی ریاستوں کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان وسط ایشیائی ریاستوں کو تجارت کے لئے اپنی بندرگاہوں کے ذریعے قریب ترین راستہ فراہم کر سکتا ہے ، قازقستان اپنی مصنوعات گوادر اور کراچی پورٹ کے ذریعے برآمد کر سکتا ہے ،قازقستان کے ساتھ ریل اور روڈ رابطے کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں، یہ منصوبہ گیم چینجر ہوگا اور نہ صرف پاکستان اور قازقستان بلکہ خطے کی اقتصادی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے ، پاکستان اس منصوبے کے لئے پوری طرح تیار ہے ۔

وزیراعظم نے موجودہ تجارتی حجم جو 250 ملین ڈالر ہے ، کو اصل صلاحیت سے بہت کم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں ممالک کے برادرانہ تعلقات کی درست عکاسی نہیں کرتا، پاکستان اور قازقستان کے درمیان تجارتی حجم میں اضافے کے وسیع مواقع موجود ہیں، آئندہ 2 سال میں تجارتی حجم ایک ارب ڈالر تک لے جانے کے لئے پرعزم ہیں اور اس ہدف کو حاصل کرنے کے لئے ہرممکن اقدامات کریں گے ۔ وزیراعظم نے قازقستان کے دورے کی دعوت پر صدر قاسم جومارت توکایووف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ بخوشی یہ دعوت قبول کرتے ہیں۔ وزیراعظم نے بتایا کہ دونوں ممالک نے تجارت اور اقتصادی شعبے میں تعاون کو وسعت دینے کے لئے 5 سالہ روڈ میپ پر اتفاق کیا ہے اور اس سلسلے میں احسن اقبال پاکستانی سائیڈ جبکہ قازقستان کے نائب وزیراعظم قازقستان کی طرف سے سربراہی کریں گے ۔ قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف نے فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بزنس فورم کے انعقاد پر وزیراعظم شہباز شریف کا مشکور ہوں، دوطرفہ تعلقات کو تزویراتی شراکت داری میں بدلنا ایک اہم سنگ میل ہے ، آئندہ 2 برس میں باہمی تجارتی حجم کو ایک ارب ڈالر تک لے جانے کے لئے پرعزم ہیں۔ قبل ازیں وزیراعظم ہاؤس میں پاکستان او ر قازقستان کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کی مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں کی دستاویزات کے تبادلوں کی تقریب ہوئی۔

پاکستان اور قازقستان کے درمیان کان کنی اور پٹرولیم ،اقوام متحدہ کے امن دستوں ، قیدیوں کے تبادلے سے متعلق معاہدے ، میری ٹائم کے شعبے میں مفاہمتی یادداشت،ٹرانزٹ ٹریڈ کے معاہدے ، کسٹمزکے شعبے میں تعاون سے متعلق معاہدے ،ریلوے کے شعبے میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت ،پلانٹ پروٹیکشن اور ویٹرنری کے شعبوں میں تعاون ،مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ترقی کے شعبے میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت، صحت کے شعبے میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت ،اے پی پی اور قازقستان کے سرکاری ٹی وی کے درمیان تعاون کے معاہدے ،موسمیاتی تبدیلی کے شعبے میں تعاون کے معاہدے ،اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں مفاہمتی یادداشت ،مالیاتی نظم ونسق و بینکاری کے شعبے میں مفاہمتی یادداشت ،ثقافت کے شعبے میں تعاون کے معاہدے ، لاجسٹک کے شعبے میں بھی تعاون کے معاہدے ، ورچوئل اثاثوں کے شعبے میں تعاون کے معاہدے ، بندرگاہوں کے شعبے سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کے لئے 19 مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں کی دستاویزات کا تبادلہ کیا گیا۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف اور قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف نے مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کئے ۔شہبازشریف کا کہناتھاکہ پاکستان اور قازقستان کے درمیان تجارتی حجم میں اضافے کے بہت مواقع ہیں، مشترکہ کوششوں سے اقتصادی اور تجارتی تعاون کے اہداف حاصل کریں گے ، دونوں ممالک غزہ بورڈ آف پیس کے بھی رکن ہیں ، دعاگو ہیں کہ غزہ میں مستقل امن اورخوشحالی آئے ۔ قازقستان کے صدر نے کہا کہ پاکستان قازقستان کا قابل اعتماد دوست او ر سٹریٹجک شراکت دار ہے ، خطے میں امن و استحکام کے لئے پاکستان کی کاوشیں قابل تعریف ہیں،دفاع کے شعبے میں بھی پاکستان کی ترقی عالمی سطح پر تسلیم کی جاتی ہے ، پاکستانی سرمایہ کاروں کوکاروبار کے لئے پرکشش مواقع فراہم کریں گے ۔ قازقستان کے صدرقاسم جومارت توکایووف نے کہا کہ بھرپور استقبال اور شاندار مہمان نوازی پر پاکستان کی حکومت اور عوام کا مشکور ہوں،شہباز شریف سے بہت مثبت اور تعمیری بات چیت ہوئی ۔ پیداواری شعبے میں پاکستان کو پروڈکشن پلانٹ لگانے کی دعوت دیتے ہیں، سائنس ، تعلیم اور دوسرے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں