سٹیٹ کی اتھارٹی کو چیلنج کرنا عدلیہ کا دائرہ اختیار نہیں:جسٹس علی باقر نجفی
آئینی عدالت کا قیام دنیا کی کوئی انوکھی چیز نہیں، اتفاق نہیں کرتا عدلیہ کی آزادی کمپرومائز ہوئی :جج آئینی عدالت سویلین کا ملٹری ٹرائل ہوسکتا ہے :اعظم نذیر ، احسن بھون و دیگر کا بھی لاہور میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب
لاہور (کورٹ رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک )وفاقی آئینی عدالت کے جج جسٹس علی باقر نجفی نے کہاہے کہ وفاقی آئینی عدالت کا قیام دنیا کی کوئی انوکھی چیز نہیں ، اب تک آئینی عدالت 2600 سے زائد کیسز کے فیصلے کر چکی ، عدالت میں دائر ہر مقدمے کو جلد نمٹانے کی کوشش کی جاتی ہے ،سٹیٹ کی اتھارٹی کو چیلنج کرنا عدلیہ کا دائرہ اختیار نہیں، اتفاق نہیں کرتا عدلیہ کی آزادی کمپرومائز ہوئی۔ا ن خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز لاہور میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ 2روزہ کانفرنس کا بنیادی موضوع ‘‘بنیادی حقوق کی پامالی اور سرحدوں کے پار مزاحمت ’’ہے۔
اس موقع پر وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، ممبر جوڈیشل کمیشن چودھری احسن بھون ، وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل پیر مسعود چشتی ،صدر سپریم کورٹ بار ہارون رشید، سابق ممبر جوڈیشل کمیشن اختر حسین ،سابق صدر سپریم کورٹ بار یاسین آزاد، سابق چیئرمین سینٹ رضا ربانی ،ترجمان پختونخوا حکومت شفیع جان،وفاقی وزیرمملکت برائے مذہبی امور کھیئل داس کوہستانی،جے یو آئی کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے بھی اظہار خیال کیا جبکہ یورپی یونین کے سفیر سمیت دیگر ممتاز شخصیات بھی کانفرنس میں موجود تھیں۔ جسٹس علی باقر نجفی نے ائینی عدالت کے قیام کی دس وجوہات بتاتے ہوئے کہا کہ آئینی عدالت سے قبل آئینی بینچ کام کر رہا تھا میرے نزدیک آئینی عدالت کے قیام کی متعدد وجوہات تھیں، جن میں جوڈیشل ایکٹوازم، دوہرا معیار اور عدلیہ پر بڑھتا ہوا دباؤ شامل ہے ،ماضی میں سپریم کورٹ پر یہ الزام بھی لگا کہ وہ پالیسی سازی میں مداخلت کر رہی ہے اور بعض فیصلے قانون کے بجائے دیگر عوامل کی بنیاد پر کیے گئے ۔
انہوں نے کہا کہ سٹیٹ اتھارٹی کو چیلنج کرنا عدلیہ کے دائرہ اختیار سے باہر ہے اور وہ اس مؤقف سے اتفاق نہیں کرتے کہ عدلیہ کی آزادی متاثر ہوئی ،سپریم کورٹ میں فوجداری مقدمات، خصوصاً قتل کی اپیلیں برسوں سے زیر التوا تھیں، تاہم آئینی عدالت کے قیام کے بعد یہ مسئلہ بڑی حد تک حل ہو جائے گا۔ سابق جج فیڈرل شریعت کورٹ ظہور احمد نے آئینی عدالت کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ 2600 کیسز کے فیصلے سپریم کورٹ میں بھی کئے جا سکتے تھے ،ججز کی تعداد بڑھا کر کارکردگی کا تاثر دیا جا رہا ہے اور آج کی عدلیہ مزید دباؤ کا شکار ہے ۔ جس پر جسٹس علی باقر نجفی نے جواب دیا کہ ویسے تو کہتے ہیں کہ ججز نہیں انکے فیصلے بولتے ہیں لیکن کچھ باتوں کا جواب دینا چاہو ں گاآپ کو شائد علم نہیں کہ میں نے سپریم کورٹ میں 40 ہزار کیسز نمٹائے ہیں، ہائیکورٹ میں بھی ہزاروں کیسز نمٹائے ہیں، یہ وقت بتائے گا ہم پاکستانی عوام کی امنگوں پر پورا اترے یا نہیں ۔ جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ جنہوں نے یہ ترامیم پاس کرائیں وہ تو یہاں موجود نہیں ہیں ،جنہوں نے ترمیم کی مخالفت کی وہ یہاں موجود ہیں ۔
ترمیم کے نام نہاد بینیفشری بھی یہاں موجود ہیں، پینل میں تھوڑا بیلنس ہونا چاہیے تھا ،بہت سی باتیں ایسی ہیں کہ جن کا جواب شائد عدالت میں ہی دیا جاسکتا ہے ۔ترجمان کے پی کے حکومت شفیع جان نے کہا افغانیوں کو یہاں 40 سال ہوچکے ،کے پی سے افغانیوں کی زبردستی نکالا جارہا ہے ،بلوچستان پنجاب کو اس معاملے میں نرم پالیسی بنانی چاہیے تھی ،ان کے کاروبار یہاں ہیں، پختونخوا حکومت ان کو زبردستی نہیں نکال رہی ۔وفاقی وزیرمملکت برائے مذہبی امور کھیئل داس کوہستانی نے کہا ہندو میرج ایکٹ کا تین صوبوں میں اطلاق ہوگیا،اسلام سمیت کسی مذہب میں زبردستی کی شادی جائز نہیں ،قانونی طور پر اٹھارہ سال سے کم عمر لڑکی کی شادی نہیں ہوسکتی ،بارہ سالہ لڑکی کی شادی پر بات ہونی چاہیے ،مذہبی رواداری کے فروغ کے لئے حکومتی اقدامات تسلی بخش ہیں،مینارٹی کمیشن کا پہلی مرتبہ قیام خوش آئند ہے ۔
جے یو آئی کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ 27 ویں ترمیم کے بعد موجودہ آئین متفقہ نہیں رہا ،پہلے دن سے اور 27 ویں ترمیم کے بعد بھی عدلیہ مقبول نہیں ،جس دن عدلیہ نے انصاف دیا عدلیہ مقبول ہو جائے گی۔ اعظم نذیر تارڑ نے خطاب میں کہاکہ قانون کے تحت سویلین کا ملٹری ٹرائل ہوسکتا ہے ، جب آپ ریڈ لائن کو کراس کرتے ہیں تو پھر قوانین موجود ہیں ، جنہوں نے آرمی تنصیبات پر حملہ کیا ان کے ٹرائل کا فورم فوجی عدالتیں ہی ہیں ،لاپتہ افراد کا معاملہ صرف پاکستان نہیں بلکہ پوری دنیا میں ہے ۔انہوں نے کہا کہ آئینی عدالت نے اپنا کام شروع کر دیا اور وقت کے ساتھ پتا چلے گا کہ یہ فیصلہ درست ہے یا نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ کڑوا سچ ہے کہ ہم دہشت گردی کی جنگ لڑ رہے ہیں، یہ دہشت گردی کا تحفہ ویسٹ سے ملا ،یہ کسی کی جنگ تھی جو ہم پر مسلط ہوئی، دنیا کے کسی ملک نے دہشت گردی کے خلاف اتنی لمبی جنگ نہیں لڑی ۔
انہوں نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن ججز کو تعینات کرسکتا ہے تو انکی ٹرانسفر کیوں نہیں کرسکتا ، اگر پنجاب کے پاس اچھے ججز ہیں تو کیا سندھ ،کے پی کے لوگوں کو حق نہیں کہ یہ ججز ان کو خدمات دیں۔ اعظم نذیر تارڑ نے خطاب میں مزید کہاکہ ماضی میں ایسے واقعات ہوئے کہ سپریم کورٹ نے کریز سے باہر نکل کر کھیلا ،سپریم کورٹ نے ایک وزیراعظم کو سزائے موت کی توثیق کی ، وزرائے اعظم کو گھر بھیجا، جو مرضی ہوجائے یہ بات طے ہے کہ قانون سازی اور آئین میں ترمیم کا اختیارصرف 22 کروڑ عوام کی پارلیمنٹ کے پاس ہے ۔ اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ گھریلو تشدد پر بھی قانون سازی کررہے ہیں۔ رضا ربانی نے ویڈیو لنک خطاب میں کہاکہ بار ایسوسی ایشنز کی لمبی تاریخ ہے وکلاء نے ہمیشہ آئین کی بالادستی اور جمہوریت کیلئے کوششیں کیں ، موجودہ بار ایسوسی ایشن کی قیادت کا کردار سول سپر میسی کیلئے نظر نہیں آرہا ،آئین میں بہت سی غیر ضروری ترامیم کی گئیں ،جو جوڈیشل کمیشن بنایا گیا اس میں ممبران کی تعداد کم ہے اوراس میں وفاقی وزیر قانون کا ہونا غیر ضروری ہے ،میں سمجھتا ہوں اب آئین میں 28 ویں ترمیم کی ضرورت نہیں ، اگر آئینی ترمیم ہوگی تو آئین کا ڈھانچہ مزید متاثر ہوگا ۔
اختر حسین نے خطاب میں کہا کہ عدلیہ کہاں آزاد ہے ،کیا پارلیمنٹ آزاد ہے ؟، جب آئینی عدالت کے جج وزیراعظم کی مرضی سے لگائیں تو عدلیہ کیسے آزاد ہوگی؟۔یہاں پارلیمنٹ ، حکومت ،عدلیہ کمپرومائزڈ ہیں، کہتے ہیں ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں لیکن ہر کوئی سیاست کرتا ہے ۔ احسن بھون نے کہا کہ عاصمہ جہانگیر نے ہمیشہ سچ بولنے کی قیمت چکائی ،عدلیہ بنیادی حقوق کے تحفظ کی ضامن ہے ، مزاحمت کا مطلب انتشار نہیں ہوتا، اختلاف کا مطلب غداری نہیں ہوسکتا۔پیر مسعود چشتی نے کہاکہ پاکستان بار کونسل نے ہمیشہ اپنی آزادنہ رائے دی ، آج بتا دوں آئینی ترامیم پاکستان بار کونسل کی رائے پر ہوئی ہیں،آج جب عام آدمی جج بن جائے تو اشرافیہ کو تکلیف ہوتی ہے ۔ یاسین آزاد نے کہاکہ ہم آمروں کو دس دس سال برداشت کرنے کیلئے تیار ہوتے ہیں جب کوئی جمہوری حکومت آجائے تو ہم ٹانگیں کھینچنے ہیں۔جب بھی مارشل لاء آیا کیا کبھی کسی سپریم کورٹ نے مارشل لاء ختم کیا؟، تب تو عدلیہ آزاد تھی ،خدا کیلئے اس ملک کے سسٹم کو چلنے دیں ۔