سینیٹ قائمہ کمیٹی،سڑک منصوبوں میں تاخیر پراظہار تشویش
موٹرویز ،خصوصاً لواری ٹنل کی ابتر صورتحال اور تعمیراتی معیار پر تحفظات کا اظہار تاخیر کے ذمہ داران کا تعین کرکے اضافی لاگت انہی سے وصول کی جائے :چیئرمین
اسلام آباد (ایس ایم زمان)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات نے سڑکوں کی ابتر صورتحال اور بجٹ کا اجرا نہ ہونے کے باعث ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا ہے ، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر پرویز رشید کی صدارت میں گزشتہ روز منعقد ہوا، جس میں موجودہ مالی سال کے بجٹ، آئندہ مالی سال کی بجٹ تجاویز، نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے ) کے جاری منصوبوں، سڑکوں کی خستہ حالی اور اسکیلیشن پرائس ایڈجسٹمنٹ فارمولے پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں سینیٹر دوست علی جیسار، سینیٹر جام سیف اللہ خان، سینیٹر پلوشہ محمد زئی خان، سینیٹر محمد عبدالقادر، سینیٹر کامل علی آغا، سینیٹر نیاز احمد اور سینیٹر محمد طلحہ محمود نے شرکت کی، جبکہ سینیٹر فلک ناز اور سینیٹر ہدایت اللہ خان خصوصی طور پر شریک ہوئے ۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ این ایچ اے کے بجٹ کا بڑا حصہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت جاری منصوبوں پر مشتمل ہے ، تاہم کمیٹی نے تشویش کا اظہار کیا کہ ناکافی فنڈز کے اجرا کے باعث منصوبوں میں تاخیر ہو رہی ہے ، جس سے لاگت میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔ سینیٹر جام سیف اللہ خان نے سکھر حیدرآباد موٹروے کو ترجیحی منصوبہ قرار دیتے ہوئے ہدایت کی کہ اس کی پیش رفت ہر اجلاس میں پیش کی جائے ۔
کمیٹی نے ملک بھر میں سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی سست روی پر بھی تشویش ظاہر کی اور سفارش کی کہ بیک وقت متعدد منصوبے شروع کرنے کے بجائے مرحلہ وار منصوبے مکمل کیے جائیں تاکہ لاگت میں اضافے اور تاخیر سے بچا جا سکے ۔ اس حوالے سے پلاننگ کمیشن سے مشاورت کی بھی سفارش کی گئی۔ چیئرمین کمیٹی نے ہدایت کی کہ منصوبوں میں تاخیر کے ذمہ داران کا تعین کیا جائے اور اضافی لاگت انہی سے وصول کی جائے ،قائمہ کمیٹی اجلاس میں موٹرویز اور خصوصاً لواری ٹنل کی ابتر صورتحال، حفاظتی اقدامات، وینٹیلیشن اور تعمیراتی معیار پر سنگین تحفظات کا اظہار کیا گیا۔