نئے نصاب میں رٹے کی بجائے تخلیقی شعور پر توجہ :احسن اقبال
مصنوعی ذہانت ناگزیر ، بچوں کو وہ مہارتیں دینی ہیں جن کی دنیا کو ضرورت ہے نوجوانوں کو مقابلہ کرنے کیلئے ذہنی طور پر تیار کرنا ہوگا:قومی نصاب سمٹ سے خطاب
اسلام آباد (دنیا نیوز، اے پی پی، اے این این) وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی اب کوئی انتخاب نہیں بلکہ ضرورت بن چکی ہے ، طلبہ میں رٹے کی بجائے تخلیقی شعور پیدا کیا جائے گا۔قومی نصاب سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ روایتی تعلیم سے کام نہیں چلے گا، اب پاکستان کو جدید تعلیمی نظام سے آراستہ کرنا ہوگا۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کو بین الاقوامی معیار کے مطابق تیار کرنا ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ 2014 میں جدید پاکستان کا جو سفر شروع کیا تھا، اسے اب ‘‘اُڑان پاکستان’’ کے ذریعے منزل تک پہنچانا ہے ۔ نوجوانوں کو بین الاقوامی مارکیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ذہنی طور پر تیار کرنا ہوگا۔ مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی اب کوئی انتخاب نہیں بلکہ ناگزیر ضرورت ہے ، ہمیں اپنے بچوں کو وہ مہارتیں دینی ہیں جن کی دنیا کو ضرورت ہے ۔
احسن اقبال نے مزید کہا کہ تربیتی پروگرام پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو نکھارنے کا ایک اہم ذریعہ ہوتے ہیں۔ نوآبادیاتی نظامِ تعلیم ذہنی غلامی پیدا کرنے کے لیے تشکیل دیا گیا تھا، جبکہ لیڈر جمود کا حصہ نہیں بنتا بلکہ معاشرے میں مثبت تبدیلی کا علمبردار ہوتا ہے ۔وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے خطاب کرتے ہوئے موجودہ دور کے تقاضوں کے پیش نظر پاکستان کے نصاب میں فوری اور جامع تبدیلی کی ضرورت پر زور دیا۔گروپ مباحثوں میں شرکا نے مختلف موضوعاتی شعبوں پر تفصیلی غور و خوض کرتے ہوئے اصلاحات کے لیے عملی تجاویز پیش کیں، سمٹ کے پہلے روز ارکانِ پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے اراکین، جامعات کے وائس چانسلرز، صوبائی و علاقائی محکمہ تعلیم کے نمائندگان، ترقیاتی شراکت داروں، نصاب کے ماہرین اور ملک بھر سے تعلیمی قائدین نے شرکت کی۔ سیکرٹری وزارتِ وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ندیم محبوب نے استقبالیہ خطاب کیا۔