عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے اور ماہر ڈاکٹروں سے علاج کرانیکا فیصلہ : بیٹوں سے فون پر بات کرا دی گئی
ڈاکٹر امجد اور ندیم قریشی پرمشتمل 2رکنی پینل طبی معائنہ کریگا ،بیٹے باپ کی آواز سن کر خوش ، علاج ہونے تک خیبرپختونخوا بند کردیاجائے :علیمہ ،ارکان پارلیمنٹ کا دھرنا جاری خیبرپختونخوا کے کئی داخلی وخارجی راستے بند ،مسئلہ حل ہونے تک دھرنا دینگے :علی امین گنڈاپور، پی ٹی آئی پوائنٹ سکورنگ سے گریزبرتے ،صحت پر سیاست نہ کرے :وفاقی وزرا
اسلام آباد،راولپنڈی ،لاہور(سٹاف رپورٹر ،خبرنگار،کورٹ رپورٹر ،مانیٹرنگ ڈیسک،نیوزایجنسیاں) بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ان کے بیٹوں قاسم اور سلیمان سے ٹیلی فون پر بات کرادی گئی جو 30منٹ تک جاری رہی، جبکہ حکومت نے بانی پی ٹی آئی کو جیل سے ہسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔وفاقی وزیراطلاعات کاکہناہے کہ عمران خان کی آنکھ کے جاری علاج کے تسلسل میں مزید معائنہ اور علاج ایک خصوصی طبی ادارے میں ماہرینِ امراضِ چشم کریں گے اور اِس کی تفصیلی رپورٹ بھی سپریم کورٹ میں جمع کرائی جائے گی۔بانی پی ٹی آئی کے علاج کے معاملے پر اپوزیشن ارکان کا پارلیمنٹ ہاؤس میں دھرنا دوسرے روز بھی جاری رہا جبکہ تحریک انصاف نے بانی پی ٹی آئی کی ہسپتال منتقلی کو خاندان اور ڈاکٹر کے اعتماد سے مشروط کردیا۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے بانی پی ٹی آئی کی صحت کے پیش نظر ان کو جیل سے ہسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ بانی پی ٹی آئی کو اپنے بیٹوں سے بات کرنے کی سہولت فراہم کی گئی ہے ،انکا کہنا تھا کہ حکومت انسانی ہمدردی اور قانونی تقاضوں کو مقدم رکھتی ہے ، پاکستان تحریکِ انصاف کو چاہئے بے بنیاد پراپیگنڈا یا سیاسی پوائنٹ سکورنگ سے گریز کرے ، حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہی ہے ، اس معاملے پر سیاست کی بجائے قومی سنجیدگی اور برداشت کا مظاہرہ کیاجائے ۔انہوں نے بتایاکہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے طبی معائنے کیلئے دو ڈاکٹرز ڈاکٹر امجد اور ڈاکٹر ندیم قریشی پر مشتمل میڈیکل پینل تشکیل دیا گیا ہے ،جن کے معائنہ کرنے کے بعد بانی پی ٹی آئی کو ہسپتال منتقل کرنے کا حتمی فیصلہ کیاجائے گا۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے ایکس پر ایک پیغام میں کہا کہ عمران خان کی آنکھ کے جاری علاج کے تسلسل میں مزید معائنہ اور علاج ایک خصوصی طبی ادارے میں ماہرینِ امراضِ چشم کریں گے ، اِس کی تفصیلی رپورٹ بھی سپریم کورٹ میں جمع کرائی جائے گی۔ اس معاملے پر قیاس آرائیوں، بے بنیاد خبروں اور ذاتی مفاد کیلئے اسے سیاسی رنگ دینے کی کوششوں سے گریز کیا جائے ۔ ان کا کہناتھاکہ جیل میں مبینہ بدسلوکی کے حوالے سے عمران خان کے خاندان کے افراد کی جانب سے غلط بیانیہ پھیلایا جا رہا ہے جو مکمل طور پر ناکام ہو گیا ہے روزمرہ کی روٹین اور غذا کے منصوبے سے متعلق رپورٹ نے تمام ابہام کو دور کر دیا ہے ،عمران خان کو جیل میں تمام سہولیات دستیاب ہیں اور انہیں کسی بھی دوسرے قیدی سے زیادہ مراعات حاصل ہیں۔
دوسری طرف اسلام آباد اور راولپنڈی میں حفاظتی اقدامات مزیدسخت کردئیے گئے ہیں ۔ گزشتہ روز عمران خان کی ان کے لندن میں مقیم بیٹوں سے ٹیلی فون پر بات کرائی گئی ۔اڈیالہ جیل حکام نے بانی کی بیٹوں سے بات کرانے کی تصدیق کی اور کہا کہ سپریم کورٹ کے احکامات پر بانی پی ٹی آئی نے 20 منٹ سے زائد وقت تک بچوں سے بات کی۔عمران خان کی بہن علیمہ خان نے بھی ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ہم اس بات کی تصدیق کر سکتے ہیں کہ عمران خان نے اپنے بچوں کے ساتھ تقریباً 20 منٹ تک بات کی، ان کے بیٹوں نے بتایا کہ اتنے عرصے بعد ان کی آواز سن کر وہ بے حد خوش ہیں ،ہم اب بانی پی ٹی آئی کے فوری طبی علاج کے منتظر ہیں ۔لاہور کی عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان کا کہناتھاکہ عمران خان کی آنکھ کا چھپ کر علاج کروانا قبول نہیں،ہم آپ کی رپورٹس قبول نہیں کریں گے ۔ آنکھ کا علاج نہ کرنے پر غفور انجم جیل سپرنٹنڈنٹ اور ڈاکٹر مجرم ہیں، اگر مریض کلبھوشن ہوتا تو پورے پاکستان کی میڈیکل ٹیم پہنچ جاتی۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کا علاج کرانے تک خیبر پختونخواہ کو بند کر دیا جائے۔
دوسری تحریک انصاف اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کا پارلیمنٹ ہاؤس میں دھرنا دوسرے روز بھی جاری رہا،ارکان پارلیمنٹ نے گزشتہ رات پارلیمنٹ کی راہداری میں بسر کی،مظاہرین کرسیوں اور چٹائیوں پر بیٹھے رہے ۔ خیبرپختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے خیبر پختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ جب تک مسئلے کا حل نہیں نکلتا تب تک ہم دھرنے میں بیٹھے ہیں ، ہمارا مطالبہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالج یا فیملی ممبر کی نگرانی میں علاج کروایا جائے ۔ تحریک انصاف کے ترجمان کاکہناہے کہ بانی چیئرمین کا طبی معائنہ خاندان کے کم از کم ایک فرد کی موجودگی میں کیا جائے اور ذاتی ڈاکٹروں کی عدم موجودگی میں کوئی علاج شروع نہ کیا جائے ،بانی پی ٹی آئی کی صحت کو کسی بھی قسم کا نقصان پہنچا تو ذمہ دار حکومت ہوگی۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹرگوہر علی خان نے کہا ہے کہ حکومت کی طرف سے عمران خان کے علاج سے متعلق ہمیں مثبت اشارہ ملا ہے ،ہمیں امید ہے کہ ہمارے مطالبے پر جلد عمل ہو جائے گا اورعلاج کے دوران ہمارا نمائندہ بھی شامل ہوگا ۔ تحریک انصاف خیبرپختونخوا کی قیادت اور کارکنوں،انصاف یوتھ ونگ اورانصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن نے اٹک پل خیرآباد، صوابی انبارموٹروے انٹرچینج ،ایبٹ آباد حویلیاں انٹرچینج ،ڈی آئی خان بھکر روڈ ،کوہاٹ پنڈی روڈ ،لکی مروت میانوالی روڈ ،نوشہرہ اور خیبر پختونخوا کے تمام اہم داخلی و خارجی راستے بند کر دئیے ہیں۔ مظاہرین کا کہناتھاکہ راستے اس وقت تک بند رہیں گے جب تک عمران خان کو ان کے ذاتی معالج تک مکمل رسائی فراہم نہیں کی جاتی۔تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان نے عمران خان کے علاج کیلئے بین الاقوامی برادری کو اپنا کردار ادا کرنے کی اپیل کردی ۔
تحریکِ تحفظ آئین کی جانب سے کہا گیا ہے کہ سلمان اکرم راجہ سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی نے پاکستان کی صورتحال پر بین الاقوامی برادری اور سفارتی برادری کو پیغام بھیجا ہے جس میں کہاگیاہے کہ بین الاقوامی اور سفارتی برادری کو عمران خان کو شفا ہسپتال منتقل کرنے میں کردار ادا کرنا چاہئے اورعلاج عمران خان کے خاندان کی جانب سے تجویز کردہ ڈاکٹروں کی نگرانی میں ہونا چاہئے ۔ فواد چودھری، عمران اسماعیل اور محمود مولوی پر مشتمل قومی ڈائیلاگ کمیٹی نے چیف جسٹس کے نام لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ تین روز گزرنے کے باوجود حکم نامہ دستخط نہ ہونے اور علاج شروع نہ ہونے پر تشویش ہے ۔خط میں بانی پی ٹی آئی کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کر کے ماہر ڈاکٹروں سے مکمل طبی معائنہ کرانے کی استدعا اور ذاتی معالجین تک فوری اور مستقل رسائی دینے کا مطالبہ کیا گیاہے ۔