تعمیراتی شعبے کیلئے ریلیف دینے جارہے، شرح سود سنگل ڈیجٹ پر لائیں گے : وزیر خزانہ
پراپرٹی سیکٹر میں ٹیکسوں کی شرح میں کمی پر غور ہوگا،10سے 12دن دے دیں،ٹیکسٹائل سیکٹر کیلئے جلد کچھ کرینگے :اورنگزیب سپر ٹیکس کے اثرات ظاہر ہو رہے ، کیا حکومت سے شکوہ نہیں کرسکتے ؟معیشت مستحکم ، اب ہمارے کاروبار کو فروغ دیں:گوہر اعجاز
لاہور (کامرس رپورٹر)وفاقی وزیر خزانہ اورنگزیب نے کہا مہنگائی کنٹرول میں ہے ، حکومت شرح سود بھی سنگل ڈیجٹ پر لائے گی، تعمیراتی شعبے کیلئے ریلیف دینے جارہے ہیں، 10 سے 12 دن دے دیں،ٹیکسٹائل سیکٹر کیلئے بھی جلد کچھ کریں گے۔ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی)ریجنل آفس لاہور میں بزنس کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معیشت مستحکم ہونے کے بعداب اقتصادی گروتھ حاصل کرنے کے لئے انڈسٹریلائزیشن ضروری ہے ۔حکومت ایکسپورٹ لیڈ پالیسی پر عمل پیرا ہے ۔کنسٹرکشن سیکٹر کے لئے ریلیف دینے جا رہے ہیں ،جلد وزیراعظم پاکستان اعلان کریں گے ۔ٹیکسٹائل سیکٹر کے لئے جلد کچھ نہ کچھ کریں گے ۔پراپرٹی سیکٹر میں ٹیکسوں کی شرح میں کمی پر غور کریں گے۔ 25 کروڑ کی آبادی کو حکومت روزگار نہیں دے سکتی، حکومت کا کام نوکریاں دینا نہیں، نجی شعبہ ہی روزگار کے مواقع پیدا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ معیشت کی ڈیجیٹلائزیشن سے شفافیت آئے گی، محصولات میں اضافہ ہو گا، تنخواہ دار طبقہ زیادہ ٹیکس دیتا ہے ، تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینا ہے ۔وفاقی وزیر نے کہا کہ تعمیراتی شعبے میں کام ہو رہا ہے ، ٹیکس نیٹ کو وسیع کر رہے ہیں، ہم ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو الگ اور تعمیرات کے سیکٹر کو الگ دیکھتے ہیں، تعمیراتی سیکٹر سے دیگر سیکٹرز منسلک ہیں، جہاں بھی آپ کو دقت ہو گی ہم مسائل کو حل کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل سیکٹر کے معاملات دیکھ رہے ہیں، 10 سے 12 دن دے دیں، ٹیکسٹائل سیکٹر کے لیے جلد کچھ نہ کچھ کریں گے ۔انہوں نے مزید کہا کہ پراپرٹی سیکٹر کے متعدد ٹیکسوں کی شرح کی کمی پر غور کریں گے ، ہمیں مختلف سیکٹرز کے ایشوز کے ساتھ اپنے فنانس کو دیکھنا ہوتا ہے ۔محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے مثبت اثرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں، ملکی معیشت پر عالمی اداروں کا اعتماد بحال ہو رہا ہے، پاکستان کی معیشت استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ معاشی نظم و ضبط کے لیے سخت مگر ضروری فیصلے کیے ، پاکستان کی معیشت ڈیفالٹ کے خطرے سے دو چار تھی، 2022ء کے سیلاب نے ہماری معیشت پر گہرا اثر ڈالا مگر 2025ء کے سیلاب کے نقصانات کو برداشت کرنے کے ہمارے پاس وسائل موجود تھے ۔ان کا کہنا ہے کہ آئی ٹی ایکسپورٹس پاکستان کا مستقبل ہیں، یہ آئی ٹی ایکسپورٹس 3 سے 4 ارب ڈالرز کی ہیں، آئی ٹی سیکٹر برآمدات میں کردار ادا کر سکتا ہے ، آئی ٹی سیکٹر 8 سے 10 ارب ڈالرز برآمدات کا پوٹینشل رکھتا ہے ، آئی ٹی سیکٹر سارا پیسہ پاکستان نہیں لا رہا، 4 سے 5 ارب ڈالرز باہر رکھتے ہیں، برآمدات کی مد میں سارا پیسہ واپس ملک میں آنا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسٹیٹ بینک کے زرِمبادلہ کے ذخائر میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ، حکومتی پالیسیوں کے باعث مہنگائی کی شرح میں ریکارڈ کمی ہوئی، عام آدمی کو ریلیف فراہم کر رہے ہیں، تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینا ہے ، تنخواہ دار طبقہ زیادہ ٹیکس دیتا ہے ۔جب حکومت میں آئے تودو ہفتہ کا امپورٹ کور تھا، اس وقت اٹھائی ماہ کی امپورٹ کے برابر آگے ہیں۔برا وقت دیکھا ہے وہ دوبارہ نہیں آئے گا۔ مہنگائی کنٹرول میں ہے ، حکومت انٹرسٹ ریٹ بھی سنگل ڈیجٹ کریں گی۔
تقریب میں ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ، سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں،سابق نگران وفاقی وزیر تجارت ڈاکٹر گوہر اعجاز، یوبی جی پیٹرن ان چیف ایس ایم تنویر اور ریجنل چیئرمین و نائب صدر ذکی اعجاز نے وزیر خزانہ کو معیشت کی بہتری کے حوالے سے تجاویز پیش کیں۔پاکستان اکنامک گروتھ کا نفرنس میں تمام ایکسپورٹ سیکٹرز کی ٹریڈ ایسوسی ایشنز کی قیادت نے اپنے اپنے سیکٹر کے مسائل اور ان کے حل کی تجاویز پیش کیں۔سابق نگران وفاقی وزیر گوہر اعجاز نے کہا ہے کہ سپر ٹیکس کے اثرات ظاہر ہو رہے ہیں، کیا حکومت سے شکوہ بھی نہیں کرسکتے ؟پاکستان کا کاروباری شعبہ ٹیکس مشینری کے ساتھ جڑا ہوا ہے ، آپ ہمارے پارٹنر ہیں، سپر ٹیکس کے معاملے پر ہمارا پارٹنر ہی عدالت میں ہمارے سامنے کھڑا تھا۔معیشت مستحکم ہوگئی، ہمارا پارٹنراب ہمارے کاروبار کو فروغ دے ۔