غیر منصفانہ بجٹ : ہسپتالوں میں مفت ادویات کی فراہمی متاثر ہونیکا خدشہ

غیر منصفانہ بجٹ : ہسپتالوں میں مفت ادویات کی فراہمی متاثر ہونیکا خدشہ

2800 بیڈز کے میو ہسپتال کو سالانہ فی بیڈ پونے 5 لاکھ ، 547 بیڈز کے پی آئی سی کو33 لاکھ ملے غریب اور مستحق مریض زیادہ متاثر ہو رہے ہیں :طبی ماہرین، نیا بجٹ فارمولہ تیار کرینگے :وزیر صحت

لاہور (بلال چودھری )لاہور کے سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کے سالانہ بجٹ کی غیر منصفانہ تقسیم کا انکشاف، مریضوں کو مفت ادویات کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ۔ رپورٹ کے مطابق بڑے اور مصروف ہسپتال کم بجٹ کا شکار،کم بیڈز والے ہسپتالوں کو غیر معمولی طور پر زیادہ فنڈز فراہم کئے جا رہے ہیں۔دستاویزات کے مطابق 2800 بیڈز پر مشتمل میو ہسپتال کو فی بیڈ سب سے کم ادویات کا بجٹ دیا گیا جہاں سالانہ فی بیڈ صرف 4 لاکھ 76 ہزار روپے مختص کئے گئے ہیں۔ اس کے برعکس 547 بیڈز پر مشتمل پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کو فی بیڈ 32 لاکھ 90 ہزار روپے سے زائد فنڈز فراہم کئے گئے ہیں، اسی طرح پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف نیوروسائنسز لاہور کو فی بیڈ 30 لاکھ روپے دیئے گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سروسز ہسپتال کو فی بیڈ 8 لاکھ 57 ہزار روپے ، جناح ہسپتال کو 7 لاکھ 27 ہزار روپے اور جنرل ہسپتال کو 8 لاکھ 19 ہزار روپے سالانہ فراہم کئے گئے ۔دوسری جانب سر گنگارام ہسپتال کو فی بیڈ 19 لاکھ 46 ہزار روپے ، کوٹ خواجہ سعیدہسپتال کو فی بیڈ 24 لاکھ روپے مہیا کئے گئے ۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ بجٹ کی غیر منصفانہ تقسیم کے باعث بڑے سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کی قلت بڑھ رہی ہے ، جس سے غریب اور مستحق مریض سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، کئی مریضوں کو مجبوراً مہنگی ادویات باہر سے خریدنا پڑ رہی ہیں جو ان کی مالی مشکلات میں مزید اضافہ کر رہی ہیں۔

دوسری جانب وزیر صحت پنجاب خواجہ سلمان رفیق نے معاملے پر ردعمل میں کہا ہے کہ تمام سرکاری ہسپتالوں میں بجٹ کی منصفانہ تقسیم حکومت کی اولین ترجیح ،یقین دلاتے ہیں کسی مریض کو مفت ادویات سے محروم نہیں ہونے دیا جائے گا،نئے مالی سال سے بیڈز کی تعداد، مریضوں کے دباؤ اور دستیاب سہولیات کے مطابق نیا بجٹ فارمولہ تیار کیا جائے گا۔طبی حلقوں اور شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ادویات کے بجٹ کی تقسیم کے نظام کا فوری ازسرِنو جائزہ لیا جائے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں