عمران،بشری کی ضمانت کیخلاف حکومتی اپیلیں واپس:سزا معطل ہو جائے تو پھر الیکشن لڑنے میں کیارکاوٹ باقی رہتی؟:سپریم کورٹ الیکشن کمیشن سے جواب طلب
زمین کے حصول میں اختیارات کے ناجائز استعمال کے 3مقدمات، زمان پار ک کیس میں اپیلیں واپس،سائفر اپیل میں تفصیلی فیصلہ جمع کرانیکی مہلت صرف سزا معطلی کی استدعا کی گئی، عدالت نے وہی ریلیف دیا:جسٹس ہاشم کے توشہ خانہ کیس میں ریمارکس،وکیل کی ملاقات کرانے کی استدعا مسترد
اسلام آباد (کورٹ رپورٹر،اپنے نامہ نگار سے ،مانیٹرنگ ڈیسک)سپریم کورٹ میں پنجاب حکومت نے 4اہم مقدمات میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور اہلیہ بشریٰ بی بی کی ضمانت کیخلاف اپیلیں واپس لے لیں ، ان میں سے 3 مقدمات زمین کے حصول میں اختیارات کے ناجائز استعمال سے متعلق تھے جو کہ لاہور، اوکاڑہ اور ڈی جی خان میں درج کیے گئے ان کے علاوہ 9 مئی کے حوالے سے زمان پارک کے مقدمے میں بھی ضمانت منسوخی کیلئے اپیل واپس لی گئی۔ سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ انہیں ہدایات ہیں کہ ضمانت کے خلاف اپیلیں واپس لے لی جائیں، جس پر عدالت نے ضمانت کے خلاف اپیلیں واپس لینے کی بنیاد پر خارج کر دیں۔جبکہ توشہ خانہ کیس میں بانی پی ٹی آئی کی سزا معطلی کے باوجود فیصلہ معطل نہ ہونے کے معاملے پر سماعت کرتے ہوئے جسٹس ہاشم کاکڑ نے استفسار کیا کہ اگر اپیل میں سزا معطل ہو جائے تو پھر الیکشن میں شریک ہونے میں کیا رکاوٹ باقی رہتی ہے ؟سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا، جبکہ سائفر کیس میں اپیل بغیر کارروائی ملتوی کر دی گئی۔جسٹس ہاشم خان کاکڑ کی سربراہی میں جسٹس صلاح الدین اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل بینچ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی توشہ خانہ فیصلہ معطلی اپیل، سائفر اپیل، ہتکِ عزت کیس پر بھی سماعت کی۔
سماعت کے آغاز پر جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دئیے کہ یہاں پر میرے استاد بھی ہیں میرا تھوڑا خیال رکھیں، لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہم آپ کا پورا خیال رکھیں گے ۔جبکہ کمرہ عدالت میں گنجائش کی کمی اور آکسیجن کم محسوس ہونے پر مقدمات کمرہ عدالت نمبر دو میں منتقل کرنے کی ہدایت کی گئی۔ توشہ خانہ کیس میں بانی پی ٹی آئی کی سزا معطل ہو چکی ہے تاہم فیصلہ معطل نہ ہونے کے معاملے پر زیرسماعت اپیل میں وکیل لطیف کھوسہ نے مؤقف اختیار کیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے سزا معطل کی تھی لیکن فیصلہ برقرار رہنے کے باعث ان کے مؤکل کو الیکشن لڑنے سے روکا گیا۔ جسٹس ہاشم کاکڑ نے استفسار کیا کہ اگر اپیل میں سزا معطل ہو جائے تو پھر الیکشن میں شرکت پر کیا رکاوٹ باقی رہتی ہے ؟ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ سزا معطل ہونے کی صورت میں ملزم جیل میں رہے گا یا آزاد ہوگا؟ وکیل نے جواب دیا کہ سزا معطل ہونے پر ملزم آزاد ہوتا ہے ۔ عدالت نے ریمارکس دئیے کہ ہائی کورٹ سے صرف سزا معطلی کی استدعا کی گئی تھی اور عدالت نے وہی ریلیف دیا۔
دوران سماعت وکیل کی جانب سے سپریم کورٹ کے 2019 کے فیصلے کا حوالہ دینے پر جسٹس ہاشم کاکڑ نے متعلقہ پیراگراف پڑھنے کی ہدایت کی اور قرار دیا کہ اس فیصلے میں سزا اور فیصلہ دونوں معطل کیے گئے تھے ، جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا لطیف کھوسہ صاحب آپ اپنے ہی خلاف عدالتی فیصلہ لیکر آگئے ہیں۔ اس موقع پر کمرہ عدالت میں قہقہے سنائی دئیے ۔ سماعت کے دوران لطیف کھوسہ کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرانے کی استدعا مسترد کردی گئی۔لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہماری بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرائی جائے ، جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ آپ نے ہم سے ازخود نوٹس کا اختیار لے لیا ہے ، ہم ایک فوجداری مقدمے میں ملاقات کا حکم کیسے دے سکتے ہیں۔جسٹس صلاح الدین نے کہا کہ جو کیس ہمارے سامنے فکس ہی نہیں اس پر حکم کیسے جاری کریں، جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دئیے کہ یہاں عدالت میں کھڑے ہو کر سیاسی باتیں نہ کریں، سیاسی باتیں پارلیمنٹ جاکر کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے مسکراتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ٹھیک ہے آپ نے بات کردی، اب اسکے ٹکرز بھی چلیں گے ، وی لاگز بھی ہو جائیں گے ، جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ ذہن میں رکھیں کل پہلا روزہ ہے اور بینچ میں 2 پٹھان ججز موجود ہیں،بعد ازاں عدالت نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا اور سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔ سائفر اپیل کیس کی سماعت کے دوران پراسیکیوٹر جنرل نے عدالت کو بتایا کہ تفصیلی فیصلہ جمع نہیں کرایا جا سکا اور مہلت دی جائے ۔ عدالت نے مہلت دیتے ہوئے کیس کو غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دیا۔دوران سماعت بیرسٹر سلمان صفدر روسٹرم پر آئے تو عدالت نے دریافت کیا کہ آیا انہیں نوٹس جاری ہوا ہے یا نہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ پہلے یہ طے ہونا ہے کہ اپیل قابل سماعت ہے یا نہیں ، اس کے بعد کارروائی آگے بڑھے گی۔ ہتک عزت کیس میں شہباز شریف کے خلاف بانی پی ٹی آئی کی اپیلوں پر سماعت ہوئی۔ وکیل میاں محمد حسین نے مؤقف اختیار کیا کہ ٹرائل کورٹ میں ایشوز فریم ہی نہیں کئے گئے ، اس کے باوجود جرح اور گواہان پیش کئے گئے ۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے سوال کیا کہ اگر ایشوز فریم نہیں ہوئے تھے تو جرح کیوں کی گئی اور گواہان کیسے پیش ہوئے ؟ وکیل نے جواب دیا کہ ٹرائل کورٹ نے جرح نہ کرنے کی صورت میں حق ختم کرنے کا عندیہ دیا تھا اور کیس اختتامی مراحل میں ہے ، اس لئے سپریم کورٹ ٹرائل کورٹ کو فیصلہ کرنے سے روکے ۔ عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی اور شہباز شریف کے وکیل مصطفیٰ رمدے کو بھی نوٹس جاری کر دیا۔سماعت کے دوران جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دئیے کہ الیکشن کمیشن کا مؤقف سنے بغیر معاملہ آگے نہیں بڑھایا جا سکتا۔ عدالت نے مختلف مقدمات میں کارروائی ملتوی کرتے ہوئے متعلقہ فریقین سے جواب طلب کر لیا۔دریں اثنا اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیر سماعت 190 ملین پاؤنڈ کیس میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواستیں جلد سماعت کی استدعا کے باوجود آج بھی مقرر نہ ہو سکیں۔علاوہ ازیں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکہ کی عدالت میں زیر سماعت بانی پی ٹی آئی کے خلاف اقدام قتل سمیت5 کیسز جبکہ بشریٰ بی بی کے ایک کیس میں ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستوں پر بیرسٹر سلمان صفدر کے دلائل مکمل ہونے پرپراسیکیوشن کی جانب سے تیاری کیلئے مہلت کی استدعا پر سماعت ملتوی کرتے ہوئے کیسز کا ریکارڈ طلب کرلیاگیا۔
گذشتہ روز سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی کی جانب سے وکیل بیرسٹرسلیمان صفدر ، خالد یوسف چودھری اور دیگر عدالت میں پیش ہوئے جبکہ بانی پی ٹی آئی کی تینوں بہنیں بھی کمرہ عدالت میں موجود تھیں، قبل ازیں ڈسٹرکٹ کورٹس آمد پر راولپنڈی پولیس کی جانب سے علیمہ خان سے وارنٹ گرفتاری کی تعمیل کرائی گئی، بیرسٹرسلیمان صفدر نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ ماضی میں جب آپ کے پاس پیش ہوا تو ریلیف لے کر گیا تھا،ہم جاگے تو سنا ہے سرکار بھی جاگ گئی ہے ،عمران خان اور بشریٰ بی بی اس عدالت میں پیش ہوئے ،توشہ خانہ کا ایک معاملہ اس عدالت میں بھی ہے ،2023 میں مقدمات کا اندراج کیا گیا تھا،میری ضمانت کے مستقل ہونے کی سب سے بڑی وجہ سوئی ہوئی سرکار ہے ،سرکار کی جانب سے کوئی درخواست ہی نہیں دی گئی انٹرم ضمانت میں،بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو پیش کیا جائے ،اگر یہاں کسی وجہ سے پیش نہیں کر رہے تو اڈیالہ جیل بھی ہے ،اگر بانی اور بشریٰ بی بی کو پیش نہیں کیا جاتا تو سپرنٹنڈنٹ جیل پیش ہو،ٹینشن ہوتی ہے تو ایک آنکھ کی نظر متاثر ہوتی ہے ،جو فیصلہ بنتا ہے وہ عدالت آج دے۔
جج افضل مجوکہ نے کہاکہ مجھے بتایا جائے میری عدالت میں سے کس کی ضمانت خارج ہوئی،سلمان صفدر کی جانب سے 4 آپشنز دی گئی ہیں،اس موقع پر پراسیکیوشن کی جانب سے تاریخ مانگتے ہوئے کہاگیا کہ مناسب تاریخ دے دیں ہم نے تیاری کرنی ہے ،بیرسٹر سلمان صفدر نے کہاکہ حکومت کی مقدمات میں دلچسپی نہیں، مقدمات کے تفتیشی افسران بھی یہاں موجود نہیں،کسی تفتیشی افسر نے مقدمات میں شامل تفتیش بھی نہیں کیا،عدالت نے آئندہ سماعت پرتفتیشی افسروں کو تمام مقدمات کے ریکارڈ سمیت طلب کرتے ہوئے یہ حکم بھی دیاکہ آئندہ سماعت پر بانی پی ٹی آئی کو عدالت میں براہ راست یا بذریعہ ویڈیو لنک پیش کیاجائے ، جج افضل مجوکہ نے کہاکہ آئندہ سماعت پر تمام تفتیشی افسرریکارڈ سمیت عدالت پیش ہوں،عدالت نے کیس کی سماعت 24 فروری تک ملتوی کر دی۔بانی پی ٹی آئی کے خلاف 9 مئی، اقدام قتل ، جعلی رسیدوں سمیت مقدمات درج ہیں جبکہ بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ جعلی رسیدوں پر ایک مقدمہ درج ہے ۔مزید برآں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس میں زیر سماعت 26 نومبراحتجاج کیس میں بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانت میں توسیع کرتے ہوئے سماعت 24 فروری تک ملتو ی کردی گئی۔