عدم اعتماد صرف میں لا سکتا، کامیاب کرانا جانتا ہوں:زرداری

عدم اعتماد صرف میں لا سکتا، کامیاب کرانا جانتا ہوں:زرداری

پنجاب میں گروپنگ،کوتاہیاں ہماری کمزوری کا نتیجہ ، پارٹی کو مضبوط بنانا ہے میں نے جیل میں کبھی ہڑتال کی کال نہیں دی، خدمت کی سیاست کرناہوگی،گفتگو

لاہور(محمد حسن رضا سے )صدر مملکت آصف زرداری کی پیپلزپارٹی پنجاب کے رہنماؤں سے ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔ذرائع کے مطابق صدر زرداری نے  پارٹی رہنماؤں سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات سب یاد رکھیں، عدم اعتماد صرف میں لاسکتا ہوں، یہ مت بھولیں، عدم اعتماد لانا اور پھر کامیاب کرانا بھی جانتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں وزارتوں اور اختیارات کی بجائے خدمت کی سیاست کرنا ہوگی، پیپلزپارٹی کا مفاد پاکستان ہے ، پاکستان ہے تو ہم ہیں، میں نے صدر بن کر پاکستان کی سپورٹ کی، پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا، وزارتیں اس لئے ہم نے نہیں لیں کہ ہم پارٹی کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا میں نے جیل میں کبھی ہڑتال کی کال نہیں دی ، مجھے بہت سوں نے بہت کچھ کہا، مگر صبر اور تحمل سے کام لیا، پنجاب میں بدقسمتی سے گروپنگ اور کوتاہیاں ہماری کمزوری کا نتیجہ ہیں، ہم نے ان کو ختم کر کے پارٹی کو مضبوط بنانا ہے ۔

صدر مملکت نے کہا کہ گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر نے پنجاب میں پارٹی کی مضبوطی کے لئے بہت کام کیا، گورنر ہاؤس کو آپ سب کے لئے کھول دیا، ہر وقت آپ کے لئے دستیاب رہتے ہیں، میں اپنے کاموں کی وجہ سے نواب شاہ سے جیتا ہوں، سب کو عوامی خدمت پر فوکس کرنا ہوگا پھر مضبوط ہوں گے ، عوام کے بغیر آپ کسی کام کے نہیں، عوام سے تعلق جوڑے رکھنا ہے ۔آصف زرداری نے کہا بھٹو پاکستان کو ایٹمی طاقت نہ بناتے تو آج ہماری نیپال سے بھی بری حالت ہوتی، اب تک سندھ میں سوا چار ہزار نہروں کو پختہ کیا جا چکا ہے ، پندرہ برسوں میں پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت کئی پل بنا چکے ہیں۔دریں اثنا صدر زرداری نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب میاں منظور وٹو کے انتقال پر مرحوم کی صاحبزادی اور ڈائریکٹر جنرل آپریشنز پنجاب عائشہ منظور وٹوکی رہائشگاہ ماڈل ٹاؤن جا کر اظہار تعزیت کیا اور فاتحہ خوانی کی، گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان ،حسن مرتضیٰ ،ندیم افضل چن ،میاں منظور وٹو کے صاحبزادے خرم وٹو ،صاحبزادی روبینہ شاہین وٹو ،جہاں آرا وٹو ،سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری ،عزیز الرحمان چن ،شہزاد سعید چیمہ اور دیگر بھی اس موقع پر موجود تھے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں