افغان متاثرہ ایریاز تک میڈیا رسائی محدود، حقائع چھپانے کا تاثر مضبوط

 افغان متاثرہ ایریاز تک میڈیا رسائی  محدود، حقائع چھپانے کا تاثر مضبوط

اسلام آباد (خصوصی نیوز رپورٹر) افغانستان میں دہشت گرد ٹھکانوں کے خلاف پاکستانی فضائی کارروائی کے بعد متاثرہ علاقوں تک میڈیا اور شہریوں کی رسائی محدود کی گئی جس پر ماہرین نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق کارروائی مصدقہ انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی۔ برطانوی نشریاتی ادارے سائوتھ ایشیا ٹائمزنے دعویٰ کیا ہے کہ افغان حکام نے متاثرہ مقامات پر مقامی میڈیا اور عام شہریوں کا داخلہ روک دیا۔اطلاعات کے مطابق ضلع بہسود میں ایک مقام کی محدود ویڈیو جاری کی گئی جبکہ دیگر متاثرہ علاقوں سے تفصیلی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ پکتیکا، خوست اور ننگرہار کے بعض رہائشیوں کے مطابق کارروائی کے بعد سکیورٹی اہلکاروں نے علاقوں کو گھیرے میں لے کر غیر متعلقہ افراد کی رسائی بند کر دی۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آزاد میڈیا کو رسائی نہ دینا شفافیت پر سوالات پیدا کرتا ہے اور نقصانات اور ہلاکتوں سے متعلق معلومات فراہم نہ کرنا مزید شکوک و شبہات پیدا کر سکتا ہے ۔ دفاعی ماہرین کا موقف ہے کہ مستند شواہد اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ افغانستان کی سرزمین مختلف شدت پسند گروہوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہو رہی ہے اور میڈیا پر پابندیاں اسی تناظر میں تشویش کو بڑھا رہی ہیں۔دفاعی ماہرین نے کہا کہ خطے میں اعتماد قائم رکھنے کے لیے مستند اور بروقت معلومات کی فراہمی ضروری ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں