پنجاب پراپرٹی اونرشپ کے تحت ڈی آر سی کے فیصلے کالعدم
نئے آرڈیننس کے تحت جوڈیشل اختیارات واپس، درخواستیں ٹربیونل کو منتقل ٹربیونل کو 30 روز میں فیصلہ کرنیکا پابند، جھوٹی شکایت پر 5 سال سزا کا اختیار
لاہور (کورٹ رپورٹر) لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب پراپرٹی اونرشپ قانون کے تحت کارروائیوں کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے قبضوں سے متعلق ڈی آر سی کمیٹیوں کے تمام فیصلے کالعدم قرار د یتے ہوئے تمام درخواستیں کارروائی کے لیے ٹربیونل کو بھجوا دیں۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم کی سربراہی میں تین رکنی فل بینچ نے 1500 سے زائد درخواستوں پر سماعت کی۔ فل بینچ میں جسٹس جواد ظفر اور جسٹس عبہر گل خان شامل تھے ۔دورانِ سماعت ایڈووکیٹ جنرل پنجاب امجد پرویز نے پنجاب پراپرٹی اونرشپ سے متعلق نیا ترمیمی آرڈیننس عدالت میں پیش کرتے ہوئے بتایا کہ درخواستیں زیرِ التوا ہونے کے دوران ترمیمی آرڈیننس جاری کیا گیا، جس میں متعدد تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ نئے آرڈیننس کے تحت ڈی آر سی کمیٹیوں کے پاس جوڈیشل اختیارات نہیں ہوں گے ، شکایت درج کرانے کے لیے بائیو میٹرک سسٹم متعارف کرایا گیا ہے اور ایگزیکٹو سے اختیارات واپس لے کر ٹربیونل دئیے گئے ہیں۔
ریٹائرڈ ججز کے بجائے حاضر سروس ایڈیشنل سیشن ججز ٹربیونل میں تعینات کیے جائیں گے ۔ ٹربیونل کو جھوٹی شکایت درج کرانے والوں کو پانچ سال تک سزا دینے کا اختیار ہوگا اور وہ 30 روز کے اندر درخواست پر فیصلہ کرنے کا پابند ہوگا۔ اگر کوئی درخواست پہلے سے عدالت میں زیرِ سماعت ہو تو شکایت کنندہ کیس ٹربیونل منتقل کرنے کی درخواست دے سکے گا، جس پر متعلقہ عدالت ریکارڈ کا جائزہ لے کر مناسب فیصلہ کرے گی۔ ٹربیونل کی کارروائی کے خلاف آئینی عدالت، سپریم کورٹ یا ہائیکورٹ سے رجوع کیا جا سکے گا۔ایڈووکیٹ جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ جن درخواستوں میں قانون کو چیلنج کیا گیا تھا وہ ترمیم کے بعد غیر مؤثر ہو چکی ہیں۔ چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیئے کہ قانون میں واضح تبدیلیاں آ چکی ہیں، جبکہ قانون کے غیر آئینی ہونے سے متعلق درخواستوں کو بعد میں دیکھا جائے گا۔عدالت نے ڈی آر سی کمیٹیوں کی تمام کارروائیاں کالعدم قرار دیتے ہوئے حکم دیا کہ ٹربیونل تمام درخواستوں کو نئے ترمیمی آرڈیننس کے تحت سن کر فیصلہ کرے ۔