پاکستان اور افغانستان میں سرحدی جھڑپ:کوہاٹ میں دہشتگردوں کی فائرنگ ڈی ایس پی سمیت7شہید،بھکر میں چیک پوسٹ پر حملہ،2اہلکار شہید
افغان طالبان رجیم کی طورخم اور تیراہ کے سرحدی علاقوں میں 3مقامات پر بلااشتعال فائرنگ ، پاکستانی فورسز نے فوری جواب دیتے ہوئے جارحیت کو روک دیا،طالبان کی ایک چیک پوسٹ مکمل تباہ شکردرہ میں پولیس موبائل جلادی، 3اہلکار زخمی ،بھکر میں مسجد کی جانب بڑھنے والے خودکش بمبار نے داجل چیک پوسٹ پر روکے جانے پر خود کو اڑایا،جنوبی وزیرستان میں سکول بارودی مواد سے تباہ
اسلام آباد،کوہاٹ، بھکر(سٹاف رپورٹر، نامہ نگار،دنیا نیوز، مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان اور افغانستان میں سرحدی جھڑپ، سکیورٹی فورسز نے فوری جواب دیتے ہوئے طالبان کی جارحیت کو روک دیا جبکہ کوہاٹ میں دہشتگردوں کی فائرنگ سے ڈی ایس پی سمیت 7 اور بھکر میں چیک پوسٹ پر حملے کے دوران 2اہلکار شہید ہوگئے ۔ وزیرِ اعظم کے ترجمان برائے غیرملکی میڈیا مشرف زیدی نے ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا کہ افغان طالبان رجیم نے طورخم اور تیراہ کے سرحدی علاقوں میں ‘بلااشتعال’ فائرنگ کی جس کا پاکستانی سکیورٹی فورسز نے فوری جواب دیا اور طالبان کی جارحیت کو روک دیا۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق جھڑپیں سرحدی علاقے کے تین مختلف پوائنٹس پر ہوئیں اور فائرنگ کا سلسلہ تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہا۔ پاک فوج کے تمام جوان محفوظ رہے جبکہ جوابی کارروائی کے دوران افغان فورسز کی ایک چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا گیا جو مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔مشرف زیدی نے خبردار کیا کہ کسی بھی اشتعال انگیزی کا فوری اور سخت جواب دیا جائے گا۔دریں اثنا پولیس حکام کے مطابق کوہاٹ کے نواحی علاقے شکردرہ کے مقام پر دہشت گردوں کی جانب سے پولیس موبائل پر فائرنگ کی گئی۔ڈی پی او شہباز الٰہی نے تصدیق کی کہ پولیس موبائل پر دہشت گرد حملے میں ڈی ایس پی اسد محمود، ایس آئی انار گل سمیت 5 اہلکار شہید ہوئے ، شہدا میں 2 شہری بھی شامل ہیں جبکہ 3 اہلکار زخمی بھی ہوئے جنہیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا ۔
پولیس حکام کے مطابق دہشت گردوں نے حملے کے بعد پولیس موبائل کو بھی آگ لگا دی اور موقع سے فرار ہوگئے جبکہ پولیس کی بھاری نفری موقع پر طلب کر لی گئی ۔علاوہ ازیں خیبرپختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان اور بھکر کی سرحد پر واقع داجل چیک پوسٹ پر خود کش حملے میں 2پولیس اہلکار فہیم اورشہباز شہید جبکہ 2اہلکاروں سمیت 4افراد زخمی ہوگئے ، زخمیوں میں عینی شاہدین کے مطابق خودکش حملہ آور مغرب کی نماز کے وقت چیک پوسٹ کے اندر موجود مسجد کی جانب جارہا تھا، ڈیوٹی پر ماموراہلکاروں نے روکا اور گن سیدھی کی تو حملہ آور نے وہیں خود کو اڑا لیا۔ زخمیوں کو طبی امداد کیلئے ہسپتال منتقل کردیا گیا جہاں ایک زخمی کی حالت تشویش ناک ہے ۔ڈسٹرکٹ ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔ادھر خیبر پختونخوا کے ضلع جنوبی وزیرستان میں نامعلوم مسلح افراد نے سرکاری سکول کو بارودی مواد سے اڑا دیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق تحصیل برمل میں دھماکے سے گورنمنٹ مڈل سکول شریف خان کوٹ کے دو کمرے ، باتھ رومز، مین گیٹ اور ایک دیوار مکمل تباہ ہوگئی جبکہ قریبی گھروں کو بھی نقصان پہنچا۔ذرائع نے مزید بتایا کہ بارودی مواد کے دھماکے میں جانی نقصان نہیں ہوا۔ اِس سے قبل دہشتگردوں نے گورنمنٹ ہائی سکول اعظم ورسک کو بارودی مواد سے دھماکے کے ذریعے تباہ کر دیا تھا۔صدرآصف علی زرداری اور وزیراعظم شہبازشریف نے دہشتگردی کی مذمت کرتے ہوئے شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا ، صدر زرداری نے کہا شہید ہونے والے اہلکاروں نے وطن کے لیے عظیم قربانی دی ہے ۔ ملک سے بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کے ناسور کا جڑ سے خاتمہ کیا جا رہا ہے ۔شہبازشریف نے کہا ملک سے دہشتگردی کے ناسور کا جڑ سے خاتمہ کیا جائے گا۔وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے کہا شہدا کے خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو، نیئر بخاری ودیگر نے بھی دہشتگردی کی مذمت کی۔