معطل سرکاری ملازم پوری تنخواہ ،مراعات کا حقدار:سپریم کورٹ
معطلی برطرفی یا ملازمت خاتمے کے مترادف نہیں:فیصلہ ،ایف بی آر کی اپیل خارج
اسلام آباد (حسیب ریاض ملک)سپریم کورٹ نے بڑا فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ معطل سرکاری ملازم پوری تنخواہ اور مراعات کا حقدار ہے ،عدالت نے ایف بی آرکی اپیل خارج کرتے ہوئے وفاقی سروس ٹربیونل کا فیصلہ برقرار رکھا۔ سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ معطلی برطرفی یا ملازمت کے خاتمے کے مترادف نہیں، معطلی کے دوران سول سروس کا ملازم اپنے عہدے پر برقرار رہتا ہے چاہے وہ ڈیوٹی انجام نہ دے رہا ہو، جب تک ملازمت کا معاہدہ برقرار رہتا ہے تنخواہ سمیت تمام حقوق بھی برقرار رہتے اور قانونی اجازت کے بغیر ملازم کی تنخواہ روکنا تقرری کی شرائط کے منافی ہے جبکہ معطل ملازم کو مکمل تنخواہ اور فوائد سے محروم کرنا ناانصافی اور ظلم ہے ۔ عدالت نے قرار دیا کہ فیصلے سے قبل مالی محرومی سزا کے مترادف ہے اور معطلی کی مدت کے دوران ملازم سے کسی قسم کی ریکوری غیر قانونی ہے ۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں قرآن مجید کی سورت المائدہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اے ایمان والو اپنے معاہدوں کو پورا کرو، اور حدیث نبوی ﷺ کا حوالہ بھی دیا کہ مزدور کو اس کا پسینہ سوکھنے سے پہلے مزدوری دو۔
عدالت نے کہا اسلام معاہدوں کی پاسداری اور جائز کمائی کے تحفظ کا حکم دیتا ہے ۔ سپریم کورٹ نے جائیداد کی ملکیت اور تقسیم کے تنازع پر خیبر پختونخوا حکومت اور محتسب کی اپیلیں ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کر دیں۔ جسٹس مسرت ہلالی نے تحریری فیصلہ میں قرار دیا کہ جب نجی فریقین خاموش ہیں تو حکومت اور محتسب کیوں اپیل میں آئے ؟ محتسب جج ہے فریق نہیں، وہ اعلیٰ عدالتوں میں اپنے فیصلوں کی وکالت نہیں کر سکتا۔ محتسب کی حیثیت ایک منصف کی ہے اسے غیر جانبدار رہنا چاہیے ۔ حکومت اور محتسب کو اپیل دائر کرنے کا قانونی حق حاصل نہیں ۔اگر جائیداد کے اصل دعویدار اپیل کرنا چاہیں تو ان کا حق متاثر نہیں ہوگا ۔ خیبر پختونخوا کی خاتون محتسب نے ویمن پراپرٹی ایکٹ دو ہزار انیس کے تحت اس کیس میں فیصلہ دیا تھا۔ پشاور ہائیکورٹ نے محتسب کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے اسے دائرہ اختیار سے تجاوز قرار دیا۔ سپریم کورٹ نے مبینہ عدالتی غلطی درست کرنے سے متعلق کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان کی استدعا مسترد کرتے ہوئے نظرثانی درخواستیں خارج کردیں۔