تیل کی عالمی قیمتوں میں بڑی کمی:ایک روز میں نرخ120ڈالر سے84ڈالر تک گر گئے،ٹرمپ کسی بھی وقت جنگ ختم کر سکتے:اسرائیلی فوج کا اندازہ،ایران طویل جنگ کا خواہاں
تہران پر فضائی حملے ، تیل کی ترسیل روکنے پر 20گنا سخت جواب دینگے ، ممکن ہے شرائط کیساتھ ایران سے مذاکرات پر تیار ہوجاؤں :ٹرمپ ، ہم بھی لامتناہی جنگ نہیں چاہتے :اسرائیل حملے جاری رہے تو ایک لیٹر تیل بھی نہیں گزرنے دینگے :پاسداران ، امریکا سے مذاکرات نہیں کر نا چاہتے :عراقچی ،اپنی فکر کرو ، کہیں خود ختم نہ ہو جاؤ :لاریجانی کا ٹرمپ کو جواب
دبئی ،تل ابیب ، واشنگٹن ( نیوز ایجنسیاں) امریکا اور اسرائیل نے منگل کے روز ایران پر شدید فضائی حملے کئے جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جلد جنگ روکنے کی امیدوں کے ساتھ تیل کی عالمی منڈیوں میں قیمتیں 120 ڈالر سے گر کر 84 ڈالر فی بیر ل پر پہنچ گئیں ۔پیر کے روز ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کی فوجی طاقت اتنی ہے کہ تیل کی ترسیل کو جاری رکھا جا سکے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل روکنے کی کوشش کرتا ہے تو ہم انہیں اس قدر سخت جواب دیں گے کہ نہ وہ اور نہ ہی ان کی مدد کرنے والا کوئی اور فریق اس خطے میں دوبارہ سنبھل سکے گا۔دوسری جانب ایران کے پاسدارانِ انقلاب کے ایک ترجمان نے کہا کہ جب تک امریکا اور اسرائیل کے حملے جاری رہیں گے ، تہران مشرقِ وسطیٰ کا ایک لیٹر تیل بھی امریکا یا اس کے اتحادیوں تک پہنچنے نہیں دے گا۔ترجمان نے مزید کہا: جنگ کب اور کیسے ختم ہوگی، اس کا فیصلہ ہم کریں گے ۔
بعد میں سوشل میڈیا پر ایک اور پیغام میں ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل روکنے کی کوئی کوشش کی تو امریکا اسے اب تک کے مقابلے میں بیس گنا زیادہ سخت جواب دے گا۔ایران کے سکیورٹی چیف علی لاریجانی نے ٹرمپ کی دھمکیوں کو مسترد کر دیا، لاریجانی نے ایکس پر لکھا:ایران تمہاری کھوکھلی دھمکیوں سے نہیں ڈرتا۔ یہاں تک کہ تم سے بڑے بھی ایرانی قوم کو ختم نہیں کر سکتے ۔ اپنا خیال رکھو کہ کہیں تم ختم نہ ہو جاؤ! ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے Fox News کو دئیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ ممکن ہے وہ ایران کے ساتھ مذاکرات پر آمادہ ہو جائیں لیکن یہ بات صرف شرائط پر منحصر ہے ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے سنا ہے کہ تہران مذاکرات کے لیے بہت خواہش مند ہے ۔اسرائیل کے جنگی منصوبوں سے واقف ایک ذریعے نے رائٹرز کو بتایا کہ اسرائیلی فوج اس اندازے کے تحت کہ ٹرمپ کسی بھی وقت جنگ ختم کر سکتے ہیں، حملوں کے لیے دستیاب وقت ختم ہونے سے پہلے ایران کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے ۔اسرائیل کے وزیرِ خارجہ گڈیون ساعر نے منگل کے روز کہا کہ اسرائیل ایران کے ساتھ لامتناہی جنگ کا خواہاں نہیں ہے اور جب لڑائی ختم کرنے کا وقت آئے گا تو وہ امریکا کے ساتھ تعاون کرے گا۔
پیر کے روز پریس کانفرنس کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کے بعض اوقات متضاد بیانات نے بظاہر منڈیوں کو یہ اطمینان دلایا کہ وہ 1970 کی دہائی میں مشرقِ وسطیٰ کے تیل کے بحران کے بعد آنے والے معاشی جھٹکوں جیسا عالمی اقتصادی بحران پیدا ہونے سے پہلے ہی جنگ روک دیں گے ۔انہوں نے کہا کہ امریکا پہلے ہی ایران کو شدید نقصان پہنچا چکا ہے اور پیش گوئی کی کہ یہ تنازع اُس چار ہفتوں کی مدت سے پہلے ختم ہو جائے گا جو انہوں نے ابتدا میں بتائی تھی۔ جنگ کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری آمد و رفت تقریباً رک گئی ہے ۔ اس راستے سے عام حالات میں دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے برابر تیل اور مائع قدرتی گیس ایران کے ساحل کے ساتھ ساتھ گزرتی ہے ۔ اب صورتِ حال یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ تیل پیدا کرنے والوں کے پاس ذخیرہ کرنے کی جگہ ختم ہو گئی ہے اور انہوں نے تیل نکالنا بھی روک دیا ہے ۔ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے انٹرویو میں واضح طور پر کہا ہے کہ تہران اب امریکا کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا، کیونکہ امریکیوں کے ساتھ بات چیت کا ہمارا بہت تلخ تجربہ ہے ۔دوسری جانب ڈرون حملے کے بعد آگ لگنے سے متحدہ عر ب امارات کی سب سے بڑی ریفائنری بند ہوگئی ، یہاں روزانہ 9 لاکھ 22 ہزار بیرل تیل صاف کیا جاتا تھا ۔