بچت پالیسی:عدالتوں میں بھی4دن کام،سڑکوں اور موٹرویز پر رفتار کی حد میں کمی،جمعہ کو تعطیل

 بچت پالیسی:عدالتوں میں بھی4دن کام،سڑکوں اور موٹرویز پر رفتار کی حد میں کمی،جمعہ کو تعطیل

توانائی بچت اقدامات کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرائیں،ٹیکس چوری روکنے کیلئے ایف بی آر انفورسمنٹ موثر بنائے :شہبازشریف، مجتبیٰ خامنہ ای کو خط،مل کر کام کرنے کا عزم ججز کا پٹرول الاؤنس نصف،ویڈیو لنک سماعت کا فروغ ،ہائی ویز پرحد رفتار 65تا80کلومیٹر فی گھنٹہ،سندھ کابینہ 3ماہ تنخواہ نہیں لے گی،ایف بی آر کی عملدرآمد کمیٹی قائم

اسلام آباد(نامہ نگار)وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ہفتہ وار اضافی تعطیل جمعہ کے روز کی جائے گی۔شہباز شریف نے کہا کفایت شعاری اور توانائی کی بچت کے اقدامات کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کروایا جائے تاکہ ان کی بدولت ہونے والے اثرات کو جانچا جاسکے۔ اجلاس کے شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حکومت ہر ممکن کوشش کررہی ہے کہ عالمی حالات کے  باوجود معیشت کو مستحکم رکھا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ کفایت شعاری اور توانائی کی بچت کے حوالے سے حکومت کے اعلان کردہ اقدامات پر نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کی زیر قیادت ایک خصوصی کمیٹی کر دی گئی ہے جو کہ روزانہ کی بنیاد پر اقدامات کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کرے گی ۔ وزیراعظم نے تمام وزارتوں اور ڈویژنز کو سادگی، کفایت شعاری اور توانائی کے بچت کے حوالے سے اقدامات کو بھرپور طریقے سے نافذ کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ تمام وزارتیں اور ادارے کفایت شعاری کے تحت بند کی گئی گاڑیوں کی تصاویر کابینہ ڈویژن کو بھیجیں ۔

انہوں نے کہا کہ ورک فرام ہوم کو مؤثر بنانے کے حوالے سے ہر وزارت اپنی رپورٹ وزیر اعظم آفس بھیجے گی۔اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ تمام وفاقی وزارتیں اور ڈویژنز کفایت شعاری اور توانائی بچت کے لئے اٹھائے جا رہے اقدامات اور ورک فورس مینجمنٹ کے حوالے سے روزانہ اور ہفتہ وار رپورٹ کمیٹی کو جمع کروائیں گی۔بعد ازاں وفاقی حکومت نے ہفتے میں چار روزہ ورکنگ ڈے کے نفاذ کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق دفاتر پیر، منگل، بدھ اور جمعرات کو کھلے رہیں گے جبکہ جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو چھٹی ہوگی۔کابینہ ڈویژن نے تمام وفاقی اور صوبائی حکومتی اداروں میں گریڈ 20 یا 3 لاکھ روپے سے زائد تنخواہ حاصل کرنے والے افسروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ رضاکارانہ طور پر دو دن کی تنخواہ میں کٹوتی کریں۔ تاہم، یہ کٹوتی شعبہ صحت اور تعلیم پر لاگو نہیں ہوگی۔دریں اثناوزیر اعظم نے ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس محصولات میں اضافے کے لیے زیادہ سے زیادہ پیداواری شعبوں کو خودکار نگرانی کے دائرہ کار میں لانے اورایف بی آر محصولات میں اضافے اور ٹیکس چوری کے سدباب کیلئے انفورسمنٹ کو مزید موثر بنائے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایف بی آر کے امور پر ہفتہ وار جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔علاو ہ ازیں شہباز شریف نے ایران کے رہبر معظم مجتبیٰ خامنہ ای کو ایک خط لکھا ہے جس میں ان کے والد ، اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت پر تعزیت کا اظہار کیا گیا ہے اور انہیں سپریم لیڈر کی ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارکباد بھی دی گئی ہے ۔وزیراعظم نے کہا ہے کہ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت کی وجہ سے پاکستانی عوام شدید دکھ میں ہے اور اس مشکل وقت میں ایران کی قیادت اور عوام کے ساتھ یکجہتی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ وزیر اعظم نے امید کا اظہار کیا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت آنے والے سالوں میں امن، استحکام، وقار اور خوشحالی کی طرف ایران کی رہنمائی کرے گی۔وزیراعظم نے ایران کے ساتھ مل کر کام جاری رکھنے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا تاکہ دونوں برادر ممالک کے مفاد کے لیے باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مستحکم کیا جا سکے ۔

اسلام آباد(کورٹ رپورٹر،نیوز رپورٹر) کفایت شعاری اور توانائی بچت پالیسی کے تحت عدالتوں میں بھی 4دن کا م ہوگا جبکہ ملک بھر کی اہم سڑکوں اور موٹرویز پر گاڑیوں کی رفتار کی حد میں کمی کردی گئی۔چیف جسٹس پاکستان کی زیر صدارت نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں پٹرولیم سپلائی میں ممکنہ تعطل اور عالمی توانائی اخراجات میں اضافے کے پیش نظر حکمت عملی اپناتے ہوئے فیصلہ کیا گیا کہ ملک بھر کی عدالتوں میں وسائل کے ذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بنایا جائے گا جبکہ عدلیہ توانائی بچت اور قومی وسائل کے تحفظ کے لیے قومی کوششوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرے گی۔کمیٹی نے وفاقی شرعی عدالت اور تمام ہائی کورٹس میں چار روزہ ورکنگ ویک نافذ کرنے کی منظوری دے دی۔ فیصلے کے مطابق وفاقی شرعی عدالت اور ہائی کورٹس پیر سے جمعرات تک مکمل استعداد کے ساتھ کام کریں گی جبکہ جمعہ اور ہفتہ کو ہنگامی عدالتی اور انتظامی امور جاری رکھنے کے لیے داخلی انتظامات کیے جائیں گے ۔ ضلعی عدالتوں میں بھی پیر سے جمعرات تک چار روزہ ورکنگ ویک نافذ ہوگا۔

اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ جمعہ اور ہفتہ کو ہائی کورٹس میں عملے کی کم سے کم حاضری رکھی جائے گی جبکہ ہائی کورٹس اور ضلعی عدالتوں میں عملے کی روٹیشنل حاضری کا نظام متعارف کرایا جائے گا۔کمیٹی نے وفاقی شرعی عدالت اور ہائی کورٹس کے جج صاحبان کے پٹرول،آئل، لبریکنٹس(پی او ایل )الاؤنس میں 50 فیصد جبکہ جوڈیشل افسروں کے الاؤنس میں 25 فیصد کمی کی منظوری بھی دی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ہائی سکیورٹی زونز کے اندر نقل و حرکت کے دوران اضافی پروٹوکول اور سکیورٹی گاڑیاں تعینات نہیں کی جائیں گی، تاہم خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سکیورٹی حالات کے مطابق اسے برقراررکھا جائے گا۔نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی نے مقدمات کی سماعت میں ویڈیو لنک سہولت کے استعمال کو فروغ دینے کا بھی فیصلہ کیا اور وکلاو سائلین کو ویڈیو لنک کے ذریعے عدالتی کارروائی میں شرکت کی ترغیب دینے کی ہدایت کی۔اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ کفایت شعاری اقدامات کے باوجود عوام کو انصاف کی فراہمی کا عمل بلا تعطل جاری رکھا جائے گا۔ادھر کابینہ ڈویژن کے احکامات کے مطابق موٹرویز پر گاڑیوں کی رفتار کی حد کم کر کے 90 سے 100 کلومیٹر فی گھنٹہ مقرر کر دی گئی ہے جبکہ ہائی ویز پر رفتار کی حد 65 سے 80 کلومیٹر فی گھنٹہ کر دی گئی ہے ۔

جبکہ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی زیر صدارت سندھ کابینہ نے بھی کفایت شعاری اور پٹرول بچاؤ کیلئے متعدد اصلاحات کی منظوری دے دی ،سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے اجلاس کے بعد میڈیا کو بتایا کہ حکومت نے سرکاری گاڑیوں کے پٹرول میں دو ماہ کے لیے 50 فیصد کمی کر دی ہے ،محکموں کی 60 فیصد گاڑیاں دو ماہ تک بند رہیں گی ،صوبائی وزراء، مشیران اور معاونین خصوصی نے اپریل، مئی اور جون میں تنخواہیں اور الاؤنسز نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے ،صوبائی اراکین اسمبلی کی تنخواہوں میں 25 فیصد رضاکارانہ کمی کی تجویز بھی دی گئی،گریڈ 20 اورزائد کے سینئرافسر جو ماہانہ تین لاکھ سے زائد تنخواہ حاصل کرتے ہیں، انہیں بھی دو دن کی تنخواہ ترک کرنے کا کہا گیا ہے ،کابینہ نے موجودہ مالی سال کی آخری سہ ماہی کے لیے غیر ضروری حکومتی اخراجات میں 20 فیصد کمی کی منظوری بھی دی ، نئی سرکاری گاڑیوں اور دیگراشیاء کی خریداری پر جون 2026 تک مکمل پابندی برقرار رہے گی۔

سرکاری بیرون ملک دوروں، عشائیوں اور بڑی تقریبات پر پابندی عائد کر دی گئی ، ضروری خدمات کے علاوہ عملے کے 50 فیصد تک کو متبادل دنوں میں گھر سے کام (ورک فرام ہوم)کی اجازت دے دی گئی۔سرکاری اور نجی شعبے کے دفاتر میں چار روزہ ورک ویک بھی نافذ کیا جائے گا،جمعے کے روز سرکاری ملازمین ورک فرام ہوم کریں گے ، سکولوں میں 16 مارچ سے 31 مارچ تک تعطیلات ہوں گی ،جبکہ اس دوران کالجوں اور جامعات میں سو فیصد آن لائن کلاسز منعقد کی جائیں گی،کوئی امتحان ملتوی نہیں ہوگا۔شادی کی تقریبات اور عوامی اجتماعات میں مہمانوں کی تعداد 200 تک کر دی گئی، جبکہ ون ڈش قانون پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے گا۔ سابق نگراں وزراء اور دیگر شخصیات سے سکیورٹی واپس لینے کا بھی فیصلہ کیا ہے ، کفایت شعاری اقدامات کے تحت وزیراعلیٰ کا جہاز بھی گراؤنڈ رہے گا جبکہ گندم کی خورد برد میں ملوث 25 افراد کو برطرف کر دیا گیا ہے ۔ادھر ایف بی آر نے کفایت شعاری پالیسی پر عملدرآمد کیلئے تین رکنی کمیٹی تشکیل دیدی ، جو اقدامات کا جائزہ لے گی ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں