ایران خارگ جزیرہ پرامریکی قبضے سے نہیں جھکے گا:نجم سیٹھی

ایران خارگ جزیرہ پرامریکی قبضے سے نہیں جھکے گا:نجم سیٹھی

ٹرمپ کوموجودہ صورتحال میں شکست نظر آرہی ، وہ شدید کنفیوژن کا شکار ہیں مشورہ دیا جارہاہے کہ ٹرمپ لمبی جنگ سے گریز کریں:آج کی بات سیٹھی کیساتھ

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر تجزیہ کار نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی یہ غلط فہمی ہے کہ جزیرہ خارگ پر قبضہ کرکے ایران کو جھکایا جا سکتا ہے ،موجودہ صورتحال میں ٹرمپ کو شکست نظر آرہی ہے اور وہ شدید کنفیوژن کا شکار ہیں۔دنیا نیوز کے پروگرام ’’آج کی بات سیٹھی کے ساتھ‘‘میں گفتگو کرتے ہوئے نجم سیٹھی نے کہا کہ ٹرمپ نے 1988 میں ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر وہ صدر بنے تو انہیں معلوم ہے کہ ایران کو کیسے قابو کرنا ہے ،ٹرمپ کا منصوبہ یہ تھا کہ خارگ جزیرے پر قبضہ کرکے ایران کی تیل برآمدات بند کردی جائیں کیونکہ ایران کی زیادہ تر آئل ایکسپورٹ اسی بندرگاہ سے ہوتی ہے ۔نجم سیٹھی نے کہا کہ ٹرمپ نے ایران کو دباؤ میں لانے کیلئے ہر ممکن طریقہ استعمال کیا، جن میں میزائل، ڈرون، بم اور ٹیلی کمیونیکیشن حملے شامل ہیں۔

ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ اس نے ایران کی نیوی، فضائیہ، ٹیلی کام اور میزائل نظام کو تباہ کردیا ہے ، مگر اس کے باوجود ایران ڈٹ کر مقابلہ کر رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اب ٹرمپ کو سمجھ نہیں آرہی کہ اس صورتحال سے کیسے نکلا جائے ، انہیں مشورہ دیا جا رہا ہے کہ لمبی جنگ سے گریز کیا جائے اور فوج بھیجنے کی بجائے کوئی اور راستہ نکالا جائے کیونکہ طویل جنگ امریکا کے مفاد میں نہیں ہوگی۔ اسی وجہ سے ٹرمپ ایک دن جنگ کے خاتمے کی بات کرتے ہیں اور دوسرے دن کہتے ہیں کہ ابھی کچھ کام باقی ہے ۔نجم سیٹھی کاکہناتھاکہ اگر امریکا نے ایران کے آئل انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا تو ایران خلیجی ممالک کے تیل کے انفراسٹرکچر کو تباہ کرنے کی دھمکی دے چکا ہے ۔ ایسی صورت میں عالمی سطح پر تیل کی شدید قلت پیدا ہوسکتی ہے ، سٹاک ایکسچینجز متاثر ہوں گی اور دنیا بھر میں مہنگائی بڑھ جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے حالات میں ٹرمپ کو سیاسی طور پر بھی نقصان ہو سکتا ہے جبکہ ایران مزاحمت جاری رکھے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں