ایران کیساتھ مذاکرات جاری : ٹرمپ مزید ہزاروں فوجی مشرق وسطیٰ بھیجنے کی تیاریاں

ایران کیساتھ مذاکرات جاری : ٹرمپ مزید ہزاروں فوجی مشرق وسطیٰ بھیجنے کی تیاریاں

ایران نے امریکا کو تیل اور گیس سے متعلق بہت بڑا تحفہ دیا :امریکی صدر، اسرائیل کے ایرانی گیس تنصیبات پر حملے ، ایرانی میزائلوں سے تل ابیب لرز اٹھا، عراق پر امریکی بمباری،15ہلاکتیں امریکی کمک میں ایئربورن ڈویژن کے 3سے 4ہزارفوجی شامل، آبنائے ہرمز یا خارگ جزیرے کیلئے فوج استعمال کرنے کے آپشنز پر غور، 61فیصد امریکی جنگ کے مخالف:نئی سروے رپورٹ

واشنگٹن،تہران،مقبوضہ بیت المقدس(اے ایف پی،مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز کہا ہے کہ مشرقِ وسطٰی میں جاری جنگ کے خاتمے کیلئے ایران کے ساتھ مذاکرات اس وقت جاری ہیں، اور تہران ایک معاہدہ کرنے کیلئے بے حد بے چین ہے ۔ ٹرمپ نے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ہم اس وقت مذاکرات میں ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ان مذاکرات میں نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو، خصوصی نمائندہ سٹیو وٹکوف، اور ان کے دامادجیرڈکشنر شامل ہیں۔ امریکی صدر نے کہا کہ ایران نے امریکا کو تیل اور گیس سے متعلق ایک بہت بڑا تحفہ دیا ہے ، جس کی قیمت بہت زیادہ ہے ،تاہم انہوں نے اس کے بارے میں تفصیلات نہیں بتائیں اور کہا کہ اس سے انہیں تہران کے رہنماؤں پر نیا اعتماد ملا۔ٹرمپ نے کہا سعودی عرب، یو اے ای اور قطر ایران کے معاملے میں بہت بہترین رہے۔

دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں جنگ کے 25 ویں روز اسرائیل نے ٹرمپ کا حملے مؤخر کرنے کا فیصلہ نظرانداز کرتے ہوئے ایران پر حملے جاری رکھنے کا اعلان کیا اور ایرانی گیس تنصیبات کو نشانہ بنایا، جبکہ جواب میں ایران نے اسرائیل اور امریکی اڈوں پر ملٹی وار ہیڈ میزائل داغ دئیے ، جس سے تل ابیب سمیت کئے علاقے لرز اٹھے ۔اسرائیلی فوج کے ترجمان کے مطابق اسرائیلی فضائیہ نے ایران پر ایک بڑا فضائی حملہ کیا ہے جس میں ملک کے مختلف علاقوں میں اہم اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ پاسدارانِ انقلاب کے انٹیلی جنس کے 2 ہیڈکوارٹرز اور ایرانی وزارتِ انٹیلی جنس کے ایک ہیڈکوارٹر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔مزید کہا گیا کہ ایرانی ہتھیاروں کے ذخائر اور فضائی دفاعی نظام کے مقامات پر بھی حملے کیے گئے ، اس فضائی کارروائی میں شمالی اور وسطی ایران میں 50 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے تہران میں پاسدارانِ انقلاب کے ایک ایسے مقام کو نشانہ بنایا ہے جو پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ رضاکار فورس (بسیج) کے یونٹوں کی رہنمائی کیلئے استعمال کیا جاتا تھا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کے شہر تبریز کے رہائشی علاقوں پرگزشتہ رات ہونے والے امریکی و اسرائیلی حملوں میں 6 افراد شہید اور 9 زخمی ہوئے ۔ فارس نیوز ایجنسی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل نے وسطی اصفہان میں ایک ہی سڑک پر واقع گیس کی ایک انتظامی عمارت اور گیس پریشر کم کرنے والے سٹیشن پر حملہ کیا ہے ۔اس حملے سے ان تنصیبات کے کچھ حصوں کے ساتھ ساتھ قریبی گھروں کو بھی نقصان پہنچا ہے ، مغربی ایران میں واقع خرمشہر پاور پلانٹ کو گیس فراہم کرنے والی پائپ لائن کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ایرانی ایمرجنسی سروس کے مطابق جنگ کے آغاز سے امریکا اور اسرائیل نے ایران کے 215 شہروں کو نشانہ بنایا، 83 ہزار سے زائد عمارتوں کو نقصان پہنچا، امریکی اسرائیلی حملوں میں اب تک 208 بچے شہید ہو چکے ،168 بچے میناب سکول پر امریکی میزائل حملے میں جاں بحق ہوئے ۔شہید بچوں میں 13 کی عمر 5 سال سے بھی کم تھی، شہید بچوں میں سب سے کم عمر بچہ صرف 3 دن کا تھا، ایران بھر میں امریکی واسرائیلی حملوں میں شہادتوں کی مجموعی تعداد 1500 سے تجاوز کر گئی۔

ایرانی ہلال احمر کا کہنا ہے کہ جنگ کے آغاز سے اب تک281 ہسپتالوں و طبی مراکز سمیت 82ہزار مقامات اسرائیلی و امریکی حملوں میں تباہ ہو چکے ہیں۔دوسری جانب پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ آپریشن وعدہ صادق 4 کے تحت حملوں کی نئی لہر کا آغاز کردیا، 78ویں لہر کے دوران خطے میں امریکی اہداف اور اسرائیل کو نشانہ بنایا گیا، ایلات، دیمونا اور شمالی تل ابیب سمیت مختلف اہداف پر ملٹی وارہیڈ میزائل اور ڈرونز کے ذریعے حملے کیے گئے ۔پاسداران انقلاب کے مطابق ان کارروائیوں میں عماد اور قدر میزائل استعمال کیے گئے جبکہ خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، اب تک پاسداران انقلاب کی زیادہ تر جنگی یونٹس اور بسیج فورسز کو مکمل طور پر میدان میں نہیں اتارا گیا، تاہم ضرورت پڑنے پر انہیں بھی شامل کیا جائے گا۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی صدر شمالی اسرائیل میں موجود تھے جب پہاڑی پر میزائل گرا، اسرائیلی صدر شمونہ کریات میں نیوز کانفرنس کررہے تھے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق تل ابیب پر میزائل حملے میں ایک اسرائیلی خاتون ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے ، ایرانی میزائل حملے میں تل ابیب میں متعدد عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا۔ادھر عراق کے دو سکیورٹی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ موصل سے شمال مشرقی شام میں واقع امریکی بیس کی جانب میزائل داغے جانے کا واقعہ پیش آیا ہے ، امریکی فوجی اڈے کی جانب کم از کم7میزائل داغے گئے ۔مغربی موصل کے علاقے ربیعہ میں میزائل لانچر برآمد کر لیا گیا اور شام کی جانب سات میزائل داغنے کے لیے استعمال ہونے والی ایک جلی ہوئی گاڑی کو بھی قبضے میں لے لیا گیا ہے ۔جبکہ امریکا کی جانب سے مغربی عراق کے صوبہ انبار میں ایران کے حمایت یافتہ گروپ الحشد الشعبی کے ہیڈ کوارٹرز پر کیے گئے فضائی حملے میں الحشد الشعبی کے کمانڈر سعد الباجی سمیت 15 جنگجو ہلاک جبکہ 30 شدید زخمی ہوئے ہیں۔یہ فضائی حملے اس وقت کیے گئے جب پاپولر موبلائزیشن فورسز کے اعلیٰ کمانڈرز کی میٹنگ جاری تھی۔الحشد الشعبی کو پاپولر موبلائزیشن فورسز (پی ایم ایف) کے نام سے بھی جانا جاتا ہے جو کہ اب عراق کی فوج کا باقاعدہ حصّہ ہے ، لیکن اس میں کچھ ایران نواز گروپ بھی شامل ہیں۔

رائٹرز کے مطابق شمالی اربیل میں کُرد فورس کے ایک اڈے کو میزائل حملے کا نشانہ بنایا گیا جس میں کم از کم 6 کُرد جنگجو ہلاک اور 22 زخمی ہوئے ہیں۔متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ بحرین پر ایک ایرانی میزائل حملے میں اماراتی فوج کے ساتھ کام کرنے والا سویلین کنٹریکٹر جاں بحق ہوگیا جو مراکشی شہری ہے جبکہ اماراتی فوج کے بھی پانچ افراد زخمی ہوئے ہیں۔بحرین کے مطابق حملے میں درجن سے زائد افراد زخمی ہوئے ، جن میں سے چار کی حالت نازک ہے ، زخمی ہونے والوں میں بحرینی فوجی اہلکار بھی شامل ہیں۔بحرین میں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کا ہیڈکوارٹرز موجود ہے ، لیکن جنگ شروع ہونے سے چند روز قبل اس اڈے کو خالی کر دیا گیا تھا اور جہاز سمندر میں پھیل گئے تھے ۔دریں اثنا لبنان کی وزارتِ صحت کے تحت ہنگامی آپریشنز سنٹرکی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اعلیٰ ضلع کے بشامون قصبے پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں ابتدائی طور پر2 شہری ہلاک اور 5زخمی ہوئے ہیں۔

اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے کچھ علاقوں کے رہائشیوں کو انخلا کی ہدایت جاری کی ہے ۔اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کے خلاف مہم کے دوران اسرائیل کے فوجی اہلکار جنوبی لبنان کے بڑے حصوں کا کنٹرول سنبھالیں گے ۔اسرائیلی فوج دریائے لیطانی تک سکیورٹی زون قائم کرے گی، جو کہ لبنان اسرائیل سرحد سے 30 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے ۔ بے گھر ہونے والے لبنانی شہریوں کو شمالی اسرائیل کے محفوظ ہو جانے تک ان علاقوں میں واپس نہیں آنے دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا دہشتگردوں اور اسلحے کی ترسیل کیلئے حزب اللہ کے زیرِ استعمال’5پلوں کو بھی اڑا دیا گیا ہے ۔خیال رہے لبنان مشرق وسطٰی کی جنگ میں اس وقت کھنچ گیا جب ایران کے حمایت یافتہ حزب اللہ نے 2 مارچ کو اسرائیل پر راکٹ فائر کیے ۔ اسرائیل نے لبنان بھر میں حملے کیے اور جنوب میں زمینی فوجی بھی بھیجی، جس سے اب تک ایک ہزار 39 افراد جاں بحق اورلاکھوں بے گھر ہوئے ہیں۔

مزید برآں کویتی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس کا فضائی دفاعی نظام اس وقت ان حملوں کا مقابلہ کر رہا ہے جنہیں اُن کی جانب سے دشمن کے میزائل اور ڈرون حملے قرار دیاگیا ہے ۔ کویتی انتظامیہ کی جانب سے جاری ایک حالیہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ سوموار اور منگل کی درمیانی شب ہونے والا تیسرا حملہ ہے اور اس سے متعلق جاری کیا جانے والا یہ تیسرا اسی نوعیت کا بیان ہے ۔ادھر اسرائیلی وزیراعظم کا امریکی صدر سے ٹیلیفونک گفتگو کے بعد میڈیا پر پیغام میں کہنا تھا کہ ڈیل ہونے تک ایران اور حزب اللہ پر حملے جاری رکھیں گے ۔نیتن یاہو نے کہا کہ امریکا اور ایران امن بات چیت کرتے ہیں تو اسرائیل اپنے مفادات کا تحفظ کرے گا، صدر ٹرمپ سمجھتے ہیں جنگ کے تمام مقاصد معاہدے سے حاصل کیے جاسکتے ہیں، ایسا معاہدہ ہمارے مفادات کا تحفظ کرے گا۔ادھر ایرانی فوج نے کہا کہ صدر ٹرمپ ٹیلیفون اورسوشل میڈیا سے اپنا سرہٹائیں اور اپنی آنکھوں کو آسمان، سٹاک مارکیٹ اور تیل کی قیمتوں پر مرکوز کریں، ایران بڑا سرپرائز دینے والا ہے ۔پاسداران انقلاب کے خاتم الانبیائبریگیڈ کے ترجمان نے ڈونلڈ ٹرمپ کا جملہ طنزاً دہرایا کہ ٹرمپ یو آر فائرڈ، تھینک یو فاراٹینشن ٹو دِس میٹر۔

واشنگٹن (رائٹرز )، پینٹاگون مشرقِ وسطٰی میں امریکی فوجی موجودگی میں اضافے کیلئے بری فوج کی 82ویں ایئربورن ڈویژن کے ہزاروں اہلکار بھیجنے پر غور کر رہا ہے ۔ اس معاملے سے آگاہ دو ذرائع نے بتایا کہ یہ اقدام ایسے وقت کیا جا رہا ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کیلئے ممکنہ معاہدے کی بات بھی کر رہے ہیں۔ ایسی پیش رفت سے نہ صرف جنگ کی شدت بڑھ سکتی ہے بلکہ یہ تنازع، جو پہلے ہی چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکا ہے عالمی منڈیوں میں مزید ہلچل پیدا کر سکتا ہے ۔ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ابھی یہ واضح نہیں کیا گیا کہ فوجیوں کو مشرقِ وسطٰی میں کہاں تعینات کیا جائے گا یا وہ کب پہنچیں گے ۔ یہ اہلکار اس وقت فورٹ بریگ، نارتھ کیرولینا میں موجود ہیں۔ امریکی فوج نے اس حوالے سے سوالات وائٹ ہاؤس کو بھیج دئیے ، تاہم وہاں سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

ایک ذریعے کے مطابق فی الحال ایران کے اندر زمینی افواج بھیجنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا، لیکن یہ تعیناتی خطے میں مستقبل کی ممکنہ کارروائیوں کیلئے تیاری کے طور پر دیکھی جا رہی ہے ۔ پینٹاگون ممکنہ طور پر 3000 سے 4000 فوجی بھیج سکتا ہے ۔ اضافی افواج بھیجنے سے پہلے خطے میں تقریباً 50000 امریکی فوجی پہلے ہی موجود تھے ۔ مزید کمک کی خبر ایک روز بعد سامنے آئی، جب ٹرمپ نے ایران کے پاور پلانٹس پر حملے کی دھمکی مؤخر کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ مثبت بات چیت ہوئی ہے ، تاہم ایران نے اس دعوے کی تردید کر دی۔ذرائع کے مطابق امریکی فوج ایران کے خلاف مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے ، جن میں آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانا بھی شامل ہے ، جس کے لیے ممکنہ طور پر ایران کے ساحل کے قریب افواج تعینات کی جا سکتی ہیں۔

اسی طرح خارگ جزیرے پر زمینی افواج بھیجنے کا امکان بھی زیر غور آیا ہے ، جو ایران کی 90 فیصد تیل برآمدات کا مرکز ہے ۔82ویں ایئربورن ڈویژن اپنی تیز رفتار تعیناتی کی صلاحیت کیلئے جانی جاتی ہے اور احکامات ملنے کے بعد 18 گھنٹوں کے اندر کارروائی کیلئے تیار ہو سکتی ہے ۔دوسری جانب ایران میں زمینی افواج کے استعمال کا کوئی بھی فیصلہ، چاہے محدود پیمانے پر ہی کیوں نہ ہو، صدر ٹرمپ کیلئے سیاسی خطرہ بن سکتا ہے ، کیونکہ امریکی عوام میں ایران کے خلاف مہم کی حمایت کم ہے ، اور ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران امریکہ کو نئے مشرقِ وسطٰی تنازعات میں نہ الجھانے کا وعدہ کیا تھا۔منگل کو جاری ہونے والے ایک سروے کے مطابق 35 فیصد امریکی ایران پر حملوں کی حمایت کرتے ہیں، جو گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں کم ہے ، جبکہ 61 فیصد اس کے خلاف ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں