ایران جنگ میں ناکامی : امریکی وزیر دفاع نے فوج کے سربراہ کو جبری ریٹائر کرکے گھر بھیج دیا

ایران جنگ میں ناکامی : امریکی وزیر دفاع نے فوج کے سربراہ کو جبری ریٹائر کرکے گھر بھیج دیا

ٹرمپ کی ایران کونئی دھمکیاں ، چین کے سفارتی رابطے تیز ، پوٹن کا سعودی ولی عہد کو فون ،آبنائے ہرمز کو فوجی طاقت سے آزاد نہیں کر ایا جاسکتا :فرانس آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے 40 ممالک یکجا، مشترکہ اقدامات پر غور، آئندہ ہفتے فوجی منصوبہ ساز وں کا اجلاس:برطانیہ،امریکی شہریوں کو عراق چھوڑنے کی ہدایت تہران،کرج پر نئے حملے ، صدی پرانا طبی تحقیقاتی مرکز، پل نشانہ،8 شہید، اسرائیل، خلیجی ممالک پر جوابی حملے ،ایرانی فوج میں 70لاکھ شہری رضاکارانہ شامل

واشنگٹن،بیجنگ، پیرس، تہران(نیوز ایجنسیاں،مانیٹرنگ نیوز)ایران جنگ میں ناکامی پر امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے فوج کے سربراہ جنرل رینڈی جارج کو جبری ریٹائر کر کے گھر بھیج دیا،جنرل جارج نے اگست 2023 سے چیف آف آرمی سٹاف کا منصب سنبھالا ہوا تھا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی رہنماؤں کی ایک دوسرے کے خلاف نئی دھمکیوں کے بعد جاری جنگ میں کشیدگی مزید بڑھ گئی، چینی وزیرخارجہ وانگ یی نے سفارتی رابطے تیز کرتے ہوئے یورپی یونین، جرمنی اور سعودی عرب کے ہم منصبوں سے فون پر بات چیت کی اور واضح کیا کہ ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو کردار ادا کرتے ہوئے تنازع کے پھیلاؤ کو روکنا چاہیے جبکہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن کا سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں مشرق وسطیٰ کے بحران، عالمی توانائی کی صورت حال اور اوپیک کے فریم ورک میں تعاون پر بات چیت کی گئی،دونوں رہنماؤں نے توانائی کی پیداوار اور ترسیل میں پیدا ہونے والے مسائل اور عالمی تیل کی مارکیٹ میں استحکام برقرار رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

دونوں رہنماؤں نے خطے میں بڑھتی ہوئی عسکری اور سیاسی کشیدگی، شہری ہلاکتوں اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی پر گہری تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے فوری جنگ بندی اور تنازع کے حل کیلئے سیاسی و سفارتی کوششیں تیز کرنے پر زور دیا۔ادھر فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکخواں نے کہا آبنائے ہرمز کو فوجی طاقت سے آزاد نہیں کرایا جاسکتا، ایسا کرانا غیر حقیقی ہوگا کیونکہ اس میں غیر معمولی وقت لگے گا اور جو بھی اس گزرگاہ سے گزرے گا، وہ ایرانی پاسداران انقلاب کا سامنا کرے گا جس کے پاس کافی وسائل، میزائل اور دیگر ہتھیار موجود ہیں۔قبل ازیں امریکی صدر ٹرمپ نے امریکی عوام سے 19 منٹ کے خطاب میں ایران کو دھمکی دیتے ہوئے کہا آنے والے دو سے تین ہفتوں میں ‘شدید حملے ’ کیے جائیں گے ، ایران کو پتھر کے دور میں واپس بھیج دیں گے ،ایران بات چیت کے ذریعے سمجھوتا نہیں کرے گا تو ان کے ہر بجلی پیدا کرنے والے پلانٹ کو نشانہ بنائیں گے ،ٹرمپ نے خطے میں موجود امریکا کے اتحادیوں، جن میں اسرائیل اور خلیجی ریاستیں شامل ہیں، کا بالخصوص شکریہ ادا کیا ۔انہوں نے کہا کہ وہ بہت شاندار رہے ہیں، اور ہم انہیں کسی بھی صورت میں نقصان پہنچنے یا ناکام ہونے نہیں دیں گے۔

ٹرمپ نے نشاندہی کی کہ ایران نے اُن میں سے کئی (خلیجی) ممالک پر حملے کیے ہیں، اور یہ بات اس امر کو مزید واضح کرتی ہے کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں ملنے چاہئیں۔صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکا ایران میں اپنے مختلف فوجی اہداف کی ‘تکمیل کے قریب’ ہے اور ساتھ ہی انہوں نے عہد کیا کہ وہ جلد از جلد ‘یہ کام مکمل’ کر لیں گے ۔ٹرمپ نے بھی یہ وعدہ کیا کہ امریکا جنگ کے معاشی اثرات سے نمٹنے کیلئے پہلے سے کہیں زیادہ ‘تیار’ہے ،انہوں نے سابق امریکی صدر اوباما کے دور میں ایران کے ساتھ طے پانے والے جوہری معاہدے کو ایک غلطی قرار دیا اور کہا کہ انہیں اسے ختم کرنے پر فخر ہے ،انہوں نے کہا ایران جوہری ہتھیار بنانے کے ‘بہت قریب تھا۔ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو ترک نہیں کیا تھا اور تیزی سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل تیار کر رہا تھا۔انہوں نے کہا کہ امریکا منظم طریقے سے ایرانی حکومت کی اس صلاحیت کو ختم کر رہا ہے کہ وہ امریکا کو دھمکی دے سکے یا اپنی سرحدوں سے باہر طاقت کا مظاہرہ کر سکے۔

انہوں نے کہا ہم جنگ میں ہلاک ہونے والے 13 امریکی فوجیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں،ٹرمپ نے کہا کہ ہمیں وینزویلا کے بعد مشرق وسطیٰ کے تیل کی اب ضرورت نہیں رہی کیونکہ امریکا اب آئل اور گیس کا نمبر ون پروڈیوسر ہے ۔وہ ممالک جو مشرقِ وسطیٰ سے تیل حاصل کرنا چاہتے ہیں اب انہیں چاہیے کہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے میں کردار ادا کریں اور کُھل کر سامنے آئیں۔ کچھ تاخیر سے ہی سہی، ہمت پیدا کریں، آبنائے ہرمز تک جائیں اور اسے اپنے کنٹرول میں لیں۔ اس کی حفاظت کریں۔ ٹرمپ نے خطاب کے دوران اس بات کا بھی اظہار کیا کہ جنہیں تیل چاہیے وہ ممالک امریکی تیل خریدیں۔امریکی صدر نے کہا امریکا ایک ناقابلِ شکست فوجی طاقت ہے ۔’ انہوں نے کہا کہ ‘یہ جنگ امریکی بچوں اور آنے والی نسلوں کے لیے ‘ایک حقیقی سرمایہ کاری’ ہے ۔’اس کے بعد صدر ٹرمپ نے 20ویں اور 21ویں صدی کی جنگوں کے دورانیے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ‘وہ برسوں تک جاری رہیں، لیکن یہ تنازع صرف 32 دنوں سے جاری ہے ۔صدر ٹرمپ نے تقریر میں نیٹو کا ذکر نہیں کیا،حالانکہ ایک روز قبل انہوں نے انٹرویو میں کہا تھا وہ امریکا کو اس اتحاد سے نکالنے پر غور کر رہے ہیں۔

دوسری جانب ایران نے دھمکی دی ہے کہ وہ امریکا اور اسرائیل پر ‘تباہ کن’اور ‘وسیع تر’ حملے کرے گا۔خاتم الانبیا سنٹرل ہیڈکوارٹرز کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے کہا مشرقِ وسطیٰ میں جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک امریکا مستقل ذلت اور ہتھیار ڈالنے پر مجبور نہیں ہو جاتا۔امریکا اور اسرائیل کو ‘اس جارحیت کی قیمت چکانی ہو گی جس کا آغاز آپ نے کیا۔دونوں ممالک کے پاس تہران کی فوجی صلاحیتوں اور سازوسامان کے بارے میں ‘نامکمل’ معلومات ہیں۔ایران کی فوجی پیداوار ‘ایسی جگہوں پر ہوتی ہے جن کے بارے میں آپ کو بالکل بھی علم نہیں۔ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا اسرائیل اور امریکا کے ساتھ جنگ کے آغاز کے بعد سے 70 لاکھ ایرانیوں نے فوجی خدمات کے لیے رضاکارانہ طور پر خود کو پیش کیا ہے ۔ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے رکن محسن رضاعی نے کہا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز بند کرسکتا ہے مگر پوری دنیا بھی جمع ہوجائے تو اسے نہیں کھول سکتی۔

ادھر دوسری جانب برطانیہ کی وزیرخارجہ یوویٹ کوپر کی صدارت میں 40 ممالک کا ورچوئل اجلاس ہوا، جس میں فرانس، جرمنی، کینیڈا، متحدہ عرب امارات، بھارت اور دیگر ممالک نے شرکت کی۔ یوویٹ کوپر نے کہا ہے کہ 40 ممالک ایران کو عالمی معیشت کو یرغمال بنانے سے روکنے اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کیلئے مشترکہ اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔ایران کی جانب سے اس اہم سمندری راستے کی مؤثر ناکہ بندی نے بین الاقوامی تجارت کو شدید متاثر کیا ہے ۔برطانیہ کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ آئندہ ہفتے فوجی منصوبہ سازوں کا اجلاس برطانوی فوج کے مرکز میں ہو گا، جس میں آبنائے ہرمز سے متعلق صورتحال پر غور کیا جائے گا۔خیال رہے ایران پر امریکا اور اسرائیل نے اپنے حملوں میں ایک بار پھر شدت پیدا کر دی ہے ، جن میں تہران میں واقع ایک صدی پرانے طبی تحقیقاتی مرکز، دارالحکومت کے قریب ایک پل اور سٹیل کارخانوں کو نشانہ بنایا گیا، یہ سب اُس وقت ہوا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو پتھر کے زمانے  میں واپس بمباری کرنے کی دھمکی دی تھی۔

تہران کے مغرب میں واقع ایرانی شہر کرج کو شدید حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے ۔جنگی طیاروں کی بھی آوازیں سنی گئیں۔تہران اور مغربی شہر کرج کے درمیان واقع ہائی وے پل بھی نشانہ بنا، حملے میں 8 افراد شہید 95 زخمی ہوئے ، جب امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر موجود تھیں تبھی ہائی وے پل کو ایک بار پھر نشانہ بنایا گیا۔ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ پل زمین بوس ہوگیا ہے ، جسے اب کبھی استعمال نہیں کیا جاسکے گا۔ٹرمپ نے کہا ایران کے ساتھ اوربھی بہت کچھ ہونے والاہے ، ایران کیلئے ابھی بھی وقت ہے معاہدہ کرلے اس سے پہلے دیر ہو جائے ۔ایران کی وزارتِ صحت کے ترجمان حسین کرمانپور نے کہا ہے کہ ایک حملے میں ایران کے پاسچر انسٹی ٹیوٹ کو نشانہ بنایا گیا، جو 1920 میں قائم ہونے والا ایک طبی تحقیقاتی مرکز ہے ، اور اسے شدید نقصان پہنچا ہے ۔ایران کے دو سب سے بڑے سٹیل کارخانے اہواز شہر میں واقع خوزستان سٹیل کمپنی اور سطی صوبہ اصفہان میں واقع مبارکہ سٹیل کمپنی کے حکام نے بتایا کہ متعدد امریکی و اسرائیلی حملوں کے بعد اب ان کی پیداواری لائنیں مکمل طور پر بند ہو گئی ہیں۔

جبکہ ایران کی طرف سے اسرائیل پر میزائل حملوں کی نئی لہرکا آغاز کیا گیا،اسرائیلی فوج کے مطابق میزائلوں کو روکنے کیلئے دفاعی نظام فعال کردیا گیا۔متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے بتایا ہے کہ گزشتہ روز ایران کی جانب سے 19 میزائل اور 26 ڈرون داغے گئے ،اب تک فضائی دفاعی نظام نے مجموعی طور پر 457 میزائلوں اور 2038 ڈرونز کو ناکام بنایا۔سعودی عرب کی وزارتِ دفاع کے ایک ترجمان نے کہا کہ ملک کے دفاعی نظام نے ڈرونز کی ایک نئی لہر کو ناکام بنا دیا ہے ۔ملک کے مشرقی علاقے کی جانب آنے والے ایک بیلسٹک میزائل کو بھی مار گرایا ہے ۔مزید برآں بغداد میں امریکی سفارت خانے نے امریکی شہریوں کو فوری طور پر عراق چھوڑنے کی ہدایت کر دی ہے ۔بغداد میں امریکی سفارت خانے نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران عراقی دارالحکومت کے وسطی علاقوں میں، جنہیں اس نے مسلح دہشت گرد گروہوں سے منسوب کیا ہے ممکنہ حملے کیے جا سکتے ہیں۔

ادھر شمالی عراق کے شہر تلعفر میں ایران کے حمایت یافتہ پاپولر موبلائزیشن فورسز کی 53ویں بریگیڈ کو نشانہ بنایا گیا،حملے کے نتیجے میں کمانڈو بٹالین کا کمانڈر اور ایک اہلکار جاں بحق جبکہ 4 دیگر اہلکار زخمی ہوئے ہیں جبکہ اسرائیلی فضائی حملوں نے جنوبی لبنان کے شہروں سلطانیہ، عیتا الجبل، الجمیمہ اور تِبنین کو نشانہ بنایا ہے ۔لبنان میں مزید 27افراد جاں بحق 105 زخمی ہوگئے ، اب تک اسرائیلی حملوں میں 1345 افراد جاں بحق اور 4040 زخمی ہو چکے ہیں۔جبکہ لبنان سے شمالی اسرائیل کی جانب حزب اللہ نے 50 سے زائد راکٹ داغے ،اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک راکٹ سرحدی شہر کریت شمونا میں اسرائیلیوں کی پاس اوور کی ابتدائی تقریبات کے دوران گراجس کے نتیجے میں 2 افراد زخمی ہو گئے ۔سیکڑوں افراد کو حفاظتی پناہ گاہوں میں جانے پر مجبور ہونا پڑا۔حزب اللہ کے مطابق انہوں نے اسرائیلی فورسز پر مالکیہ اور یارون کی بستیوں میں میزائل داغے جبکہ ‘بڑی تعداد میں ڈرونز’ کے ذریعے اسرائیل میں واقع اون مناخم کمپنی کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں