موجودہ حکومت کا امن و امان کا دور برصغیر کی تاریخ کا چوتھا مثالی دور ہے۔
پہلا مثالی دور علاء الدین خلجی کا تھا۔ اُس کے زمانے میں قانون کی عملداری کمال کی تھی‘ خفیہ پولیس اسے ملک کے اطراف و اکناف سے پل پل کی خبر دیتی تھی۔ گندم سے لے کر سوئی تک ہر شے کی قیمت مقرر تھی۔ کم تولنے والے کے جسم سے گوشت کاٹ لیا جاتا تھا۔ چور‘ ڈاکو اور قاتل ختم ہو گئے تھے۔ دوسرا مثالی دور شیر شاہ سوری کا تھا۔ قاتل نہ پکڑا جاتا تو متعلقہ نمبردار یا پولیس افسر کو پھانسی دے دی جاتی۔ شیر شاہ سوری کے ایک لشکری نے ایک کھیت کو لوٹا تو اس کا کان کاٹ کر اسے پورے لشکر میں پھرایا گیا۔ تیسرا مثالی دور انگریز کا عہد تھا۔ درست کہ وہ جارح تھے‘ غاصب اور سامراجی تھے مگر فوائد بچھو اور سانپ کے بھی ہیں۔ انگریز قتل اور ڈاکے کو برداشت نہیں کرتے تھے۔ جس گاؤں میں قتل ہوتا‘ انگریز پولیس افسر وہاں خیمہ زن ہو جاتا اور جب تک قاتل پکڑا نہ جاتا وہیں رہتا۔ انگریزی دور کے پولیس افسروں کی ڈائریاں اور آپ بیتیاں پڑھ لیجیے۔ عادی مجرموں کو کالے پانی (دریائے شور) بھیج دیا جاتا۔ برصغیر سے ٹھگی کی لعنت کو انگریز سرکار ہی نے ختم کیا۔
چوتھا مثالی دور آج کا ہے۔ اس سے پہلے کہ اس دور کا ذکر کیا جائے آپ چاروں قُل پڑھ کر ادھر ادھر پھونک دیجیے تا کہ اس سنہری دور کو نظر نہ لگ جائے۔ ہر صبح اخبار پکڑتے ہوئے ہاتھ کانپنے لگ جاتے ہیں اور جسم پر لرزہ طاری ہو جاتا ہے۔ صرف آج کی خبریں دیکھیے۔ وہ بھی صرف وفاقی دار الحکومت کی! سب سے زیادہ متمول علاقے میں‘ جہاں امرا رہتے ہیں اور کئی کئی ایکڑ کے گھروں میں رہتے ہیں‘ ڈاکوؤں نے ایک گھر میں داخل ہو کر گھر کے مالک کو قتل کر دیا۔ مقتول گاڑیوں کے ایک معروف شو روم کا مالک تھا۔ اسی رات وفاقی دارالحکومت میں ترنول کے مقام پر ڈاکوؤں نے ایک شخص کو ہلاک کر دیا اور دوسرے کو زخمی۔ اسی بستی میں ایک اور ڈکیتی ہوئی جس میں دو بھائیوں کو قتل کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ ایکسپریس وے کے دو مقامات پر ڈاکے پڑے۔ ایک ڈاکہ پنڈوریاں میں پڑا۔ باقی شہروں اور قصبوں کے حالات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں!! اب یہ خبر پڑھیے۔ ''اسلام آباد پولیس کے سربراہ نے ریڈ زون کا دورہ کیا اور سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا‘ داخلی اور خارجی ناکوں کا بھی معائنہ کیا‘‘۔ یوں سمجھیے اسلام آباد اتنا ہی ہے جتنا ریڈ زون میں سما سکتا ہے۔ شہر کے باقی حصوں کو ڈاکوؤں کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ اس سے بھی زیادہ مضحکہ خیز اور افسوسناک خبر یہ ہے کہ وزیر صاحب اور پولیس کے سربراہ نے قوم کو نوید دی کہ شو روم کے نوجوان مالک کے قاتل پکڑ لیے گئے ہیں‘ اور یہ کہ یہ ایک گینگ کی کارروائی تھی۔ ایک باقاعدہ پریس کانفرنس کے ذریعے یہ خوش خبری سنائی گئی۔ سوال یہ ہے کہ مسلح ڈاکو دارالحکومت میں جب دندنا رہے تھے تب پولیس نے انہیں کیوں نہ پکڑا؟ یہ قدم قدم پر جو ناکے لگائے گئے ہیں کیا یہ صرف عام شہریوں کو چیک کرنے کیلئے ہیں؟ سنگا پور کا قانون یاد آ گیا۔ قانون یہ ہے کہ اگر کوئی شہری اسلحہ سے فائر کرتا ہے اور اس سے کوئی زخمی ہوتا ہے نہ ہلاک‘ اس کے باوجود فائر کرنے والے کو سزائے موت دی جاتی ہے۔ امریکیوں نے اس پر اعتراض کیا تو سنگاپور نے جواب دیا کہ تم قتل کے بعد سزا دیتے ہو‘ ہم قتل سے پہلے سزا دیتے ہیں تاکہ قتل کی واردات پیش ہی نہ آئے۔ وزیر صاحب! اگر قتل سے پہلے ڈاکوؤں کو پکڑتے اور پریس کانفرنس کرتے تو ہم تعریف کرتے۔ ایک نوجوان بزنس مین‘ جس نے بیسیوں افراد کو ملازمتیں دے رکھی تھیں‘ ڈاکوؤں کی بھینٹ چڑھ گیا‘ اب آپ جو مرضی کرتے پھریں‘ آپ کسی طور یہ دعویٰ نہیں کر سکتے کہ وفاقی دارالحکومت ایک محفوظ شہر ہے۔
اس ملک میں پولیس پر کروڑوں اربوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔ ایک آئی جی‘ ایک ڈی آئی جی اور ایک ایس پی کو جو مراعات حاصل ہیں وہ ترقی یافتہ ملکوں میں وزیروں کو نہیں میسر۔ ایکڑوں میں ان کے محلات ہیں۔ گاڑیوں کی ریل پیل ہے۔ معیارِ زندگی آسمان کو چھو رہا ہے۔ ان کے سرکاری اور نجی محلات کے سامنے خیمے نصب ہیں جہاں پولیس کے جوان شفٹوں میں 24گھنٹے پہرہ دیتے ہیں۔ بہت سے ریٹائرڈ پولیس افسران بھی یہ مراعات لیتے ہیں۔ یہ کالم نگار جب سٹاف کالج میں وہ کورس کر رہا تھا جو گریڈ اکیس کیلئے لازم ہے تو کالج کے سٹاف میں ایک پولیس افسر بھی تھا جو ڈیپوٹیشن پر آیا ہوا تھا۔ اس کے گھر کے سامنے بھی پولیس کے جوانوں کا خیمہ نصب تھا حالانکہ وہ پولیس کی ڈیوٹی پر نہیں تھا اور یقینا ڈیپوٹیشن الاؤنس بھی لے رہا ہو گا۔ سینئر افسروں کو تو چھوڑ یے‘ ایک ایس ایچ او کا (الّا ماشاء اللہ) معیارِ زندگی دیکھیے۔ آپ کا سر چکرا جائے گا۔ یہ سب مراعات قوم اپنا پیٹ کاٹ کر پولیس کو مہیا کر رہی ہے۔ بدلے میں قوم کو کیا مل رہا ہے؟ کسی دن کا‘ کسی شہر کا اخبار دیکھ لیجیے۔ ڈاکے‘ چوریاں‘ کیش کی لوٹ‘ زیورات کی لوٹ‘ گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی چوریاں!! اس قدر کہ پولیس کے وجود کا احساس تک نہیں ہوتا!! بس کر دو یار!! یا تو ڈاکوؤں کا راج ختم کرو یا قوم کو صاف صاف بتا دو کہ ہم پر اپنے خون پسینے کی کمائی نہ لگاؤ! ہم تمہاری حفاظت نہیں کر سکتے!! اس افسری کا‘ اس وردی کا‘ اس چھڑی کا‘ ان تھانوں کا‘ ان ناکوں کا کیا فائدہ؟؟
جب ہم ہی نہ مہکے پھر صاحب
تم بادِ صبا کہلاؤ تو کیا
وفاقی دارالحکومت کو تو ایک مثالی شہر ہونا چاہیے تھا! ایک محفوظ ترین شہر!! مگر یہاں مال محفوظ ہے نہ جان! گھر نہ گاڑیاں!! ہاں پولیس آپ کو قدم قدم پر‘ موڑ موڑ پر ضرور نظر آئے گی! اسلام آباد کی کسی شاہراہ کے کنارے شام کے بعد کھڑے ہو جائیے! ہر چند منٹ کے بعد ایک گاڑی بتیوں کے بغیر ہو گی۔ اسی‘ نوے فیصد موٹر سائیکلوں کی عقبی بتی غائب ملے گی۔ کیا حُسنِ انتظام ہے! کیا کارکردگی ہے!!
سکول کے نصاب میں ایک کہانی پڑھی تھی۔ سمرنا کا قاضی! (سمرنا ترکیہ کے شہر ازمیر کا قدیم نام ہے)۔ قاضی بازاروں میں پھر کر ماپ تول چیک کرتا اور دیکھتا کہ باٹ درست ہیں یا نہیں!! مجرموں کو موقع پر ہی سزا دیتا! کاش سمرنا کا کوئی قاضی پردۂ غیب سے نکلے اور اس ملک میں اترے! راتوں کو گلیوں میں پھرے اور ڈاکوؤں کو پکڑ کر وہیں‘ اسی وقت سزا دے! بغیر بتی کی گاڑیاں چلانے والوں کو کوڑے مارے! کوئی علاء الدین خلجی آئے اور ڈاکوؤں کی لاشوں کو چوراہوں پر لٹکانے کا حکم دے۔ کوئی شیر شاہ سوری آئے اور غافل کوتوالوں اور شہروں کے نالائق والیوں کو عبرتناک سزائیں دے۔ ورنہ مجبوراً برطانیہ کے شہنشاہ چارلس سوم کی خدمت میں عرض گزاریں اور اس کی آنجہانی ماں‘ ملکہ الزبتھ کا واسطہ دیں کہ جو انگریز افسران تقسیمِ ہند سے پہلے برصغیر میں تعینات تھے‘ ان کی آل اولاد میں سے کچھ کو ہمارے ہاں بھیجے تاکہ ڈاکوؤں‘ چوروں اور قاتلوں کو پکڑ یں اور پکڑ کر خدا کے لیے ہماری اپنی پولیس کے حوالے نہ کریں! ویسے پولیس کے اس مؤقف پر بھی غور کرنا چاہیے کہ پولیس مجرموں‘ ڈاکوؤں چوروں اور قاتلوں کو پکڑتی ہے مگر کہیں اور‘ ان کی ضمانتیں بھی ہو جاتی ہیں اور رہائی کے احکام بھی صادر ہو جاتے ہیں! اس سے زیادہ کچھ کہہ بھی نہیں سکتے کہ بقول اقبال:
نہیں منّت کشِ تابِ شنیدن داستاں میری
خموشی گفتگو ہے‘ بے زبانی ہے زباں میری
یہ دستورِ زباں بندی ہے کیسا تیری محفل میں
یہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میری