حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے نبیﷺ سے عرض کیا: کیا آپ کے اوپر کوئی دن ایسابھی آیا ہے جو آپ کے نزدیک غزوۂ اُحد کے دن سے بھی زیادہ شدید تھا۔ آپﷺ نے فرمایا: تمہاری قوم سے مجھے جو مصائب پہنچے‘سو پہنچے اور ان تمام مصائب میں سب سے زیادہ سخت مصیبت وہ تھی جو مجھے عقبہ (طائف) کے دن پہنچی۔ جب میں نے اپنے (دعویٔ نبوت )کو ابن عبد یا لیل بن عبد کلال پر پیش کیا۔ اس نے میری خواہش کے برعکس میری دعوت کو قبول نہیں کیا۔ میں وہاں سے انتہائی غمزدہ حالت میں چل پڑا‘ پھر جب میں قرن الثعالب پر پہنچا تو میری حالت سنبھلی‘ پس میں نے سر اٹھاکر دیکھا تو مجھ پر ایک بادل نے سایہ کیا ہوا تھا۔ پھر میں نے غور کیا تو اس میں (حضرت) جبریل تھے‘ انہوں نے مجھے آواز دی اور کہا: بیشک اللہ نے آپ کی قوم کی باتیں سن لی ہیں اور انہوں نے آپ کو جو جواب دیا ہے وہ بھی سن لیا ہے اور اللہ نے آپ کی طرف پہاڑوں کا فرشتہ بھیجا ہے تاکہ آپ اس کو ان لوگوں کے متعلق جو چاہیں حکم دے دیں۔ پھر مجھ کو پہاڑوں کے فرشتے نے آواز دی اور اس نے مجھ کو سلام کیا‘ پھر کہا: اے محمد(ﷺ)! اللہ نے مجھے یہی حکم دیا ہے کہ میں آپ کے حکم کی تعمیل کروں‘ اگر آپ چاہیں تو جن دو پہاڑوں کے درمیان یہ لوگ ہیں‘ ان دو پہاڑوں کو آپس میں ملا دوں (جس سے یہ ان کے درمیان پس جائیں)‘ تب نبیؐ نے فرمایا: (نہیں!) بلکہ مجھے یہ امید ہے کہ اللہ ان لوگوں کی پشتوں سے ایسے لوگوں کو نکالے گا جو صرف اللہ وحدہٗ کی عبادت کریں گے اور کسی کو اس کیساتھ شریک نہیں کریں گے‘‘ (بخاری: 3231)۔ اس سے معلوم ہوا کہ کفار کو عذاب دینے کیلئے ایک فرشتہ بھی کافی ہے‘ تنہا ایک فرشتہ بستیوں اور پہاڑوں کو الٹ سکتا ہے‘ تو تین ہزار یا پانچ ہزار فرشتوں کی نوبت کیسے آئے گی۔ پس قرینِ قیاس یہی ہے کہ فرشتے مسلمانوں کا حوصلہ بڑھانے اور انکی طمانیت قلب کیلئے نازل کیے گئے تھے۔ میدانِ جنگ میں دادِ شجاعت دینے والے اور مشرکینِ مکہ کو جہنم رسید کرنیوالے صحابۂ کرامؓ ہی تھے۔ اسلئے دنیا آج تک ان کی جرأت‘استقامت‘ ایثار اور حوصلہ مندی کو سلام پیش کر رہی ہے۔
بدر کے مقام پر اور بھی غیر معمولی واقعات کا ظہور ہوا۔ رسول اللہﷺ کیلئے میدانِ بدر میں ایک بلند مقام پر سائبان بنایا گیا تھا تاکہ آپ لشکر کو سامنے دیکھیں اور دشمن کے مقابل منصوبہ بندی کریں‘ آپ ساری رات گڑگڑاکر دعائیں کرتے رہے یہاں تک کہ ایک مرحلے پر آپ نے فرمایا: ''اے اللہ! اگر توآج (مجاہدین کی) اس جماعت کو ہلاک کر دے گا تو (پھر زمین پر) تیری کبھی بھی عبادت نہ ہو گی‘‘۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ معرکۂ بدر سے آج تک اللہ تعالیٰ کی جتنی عبادت ہوئی‘ جو زمانۂ حال میں ہو رہی ہے اور جو قیامت تک ہو گی‘ وہ شرکائے بدر اور شہدائے بدر رضوان اللہ علیہم اجمعین کی بے مثل وبے مثال قربانیوں کا صدقہ ہے۔ اس لیے قیامت تک کیلئے اہلِ ایمان کو ان کا احسان مند ہونا چاہیے۔
چشمِ فلک نے ایک نظارا یہ بھی دیکھا: علامہ محمد بن اثیر جذری لکھتے ہیں: ''رسول اللہﷺ جب بدر کے دن مجاہدین کی صفوں کو درست کر رہے تھے تو آپ کے ہاتھ میں ایک تیر تھا جس سے لوگوں کو سیدھا کرتے تھے‘ بنو عدی بن نجار کے حلیف سواد بن غزیّہ کے پاس سے آپﷺ کا گزر ہوا اور وہ صف سے آگے نکلے ہوئے تھے تو رسول اللہﷺ نے اُس تیر سے ان کے پیٹ میں ٹہوکا دیتے ہوئے فرمایا: سواد! صف میں سیدھے کھڑے ہو جائو۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! آپ نے مجھے تکلیف پہنچائی ہے اور اللہ نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے‘ سو مجھے قصاص دیجیے۔ رسول اللہﷺ نے اپنے بطنِ مبارک سے چادر ہٹائی اور فرمایا: قصاص لو‘ وہ آپﷺ سے گلے ملے اور آپ کے بطنِ مبارک کے اُس حصے کو بوسا دیا۔ آپﷺ نے فرمایا: 'سواد! اس بات پر تمہیں کس چیز نے برانگیختہ کیا‘‘ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! آپ کو معلوم ہے کہ معرکۂ حق وباطل سر پر ہے اور ہو سکتا ہے میں شہید ہو جائوں‘ میں چاہتا ہوں کہ زندگی کے آخری لمحات میں میری جلد آپ کی جلد سے مَس ہو جائے تو رسول اللہﷺ نے اُن کیلئے خیر کی دعا فرمائی‘‘ (اسد الغابہ‘ج: 2‘ ص: 590)۔ یہ بلاشبہ ایک ایمان افروز منظر تھا۔ آج کل کی جدید متمدن دنیا میں حالتِ جنگ میں بنیادی حقوق معطل ہو جاتے ہیں‘ لیکن سالارِ بدر‘ خاتم النبیین سیدنا محمد رسول اللہﷺ نے عین حالتِ جنگ میں اپنے آپ کو قصاص کیلئے پیش کیا۔ آپﷺ سپہ سالار بھی تھے‘ قاضی القضاۃ بھی تھے‘ حاکمِ وقت بھی تھے‘خاتم النبیین اور امام الانبیاء بھی تھے‘ لیکن آپﷺ نے اپنے لیے قانونِ الٰہی سے کوئی استثنا نہیں رکھا۔
جب جنگ کا آغاز ہوتا تو اس زمانے میں سب سے پہلے صفِ اعداء میں سے بڑے بڑے سورما آتے‘ جنہیں اپنی شَجاعت پر ناز ہوتا اور مخالف کو للکارتے: ''ھَلْ مِنْ مُّبَارِزٍ‘‘ (کیا کوئی مردِ میدان ہے جو مقابلے کیلئے سامنے آئے)۔ چنانچہ مشرکین مکہ کے لشکر سے عتبہ بن ربیعہ‘ شیبہ بن ربیعہ‘ ولید بن عتبہ‘ امیہ بن خلف اور بڑے بڑے سورما آئے اور للکارا۔ ادھر سے انصار صحابۂ کرام مقابلے کیلئے نکلے تو قریش کے سورمائوں نے کہا: آپ لوگ یثرب کے کاشتکار ہو‘ ہمارے مقابل اور جوڑ کے نہیں ہو‘ ہمارے مقابل بنو ہاشم اور قریش کے نامی گرامی لوگوں کو لے آئو۔ چنانچہ رسول اللہﷺ نے اس موقع پر سب سے پہلے اپنے خاندان کا سب سے قیمتی اثاثہ حضرت امیر حمزہ‘ حضرت علی المرتضیٰ اور حضرت عبید ہ بن حارث رضی اللہ عنہم کو فرمایا کہ جائو اور مقابلہ کرو؛ چنانچہ حضرت علیؓ اور حضرت حمزہؓ نے عتبہ اور ولید کو جہنم رسید کیا‘ حضرت عبیدہؓ بن حارث نے شیبہ بن ربیعہ پر حملہ کیا مگر اس کے وار سے آپ زخمی ہو گئے اور اسی کے نتیجے میں جامِ شہادت نوش کیا اور پھر حضرت علیؓ نے پلٹ کر اُسے بھی جہنم رسید کیا۔ ابوجہل کو‘ جسے رسول اللہﷺ نے اس امت کا فرعون قرار دیا تھا‘ حضرت عفراءؓ کے بیٹوں معاذ اور معوّذ رضی اللہ عنہما نے جہنم رسید کیا اور جب رسول اللہﷺ کو اس کے قتل کی خبر ملی تو آپﷺ نے اللہ تعالیٰ کے حضور سجدۂ شکر ادا کیا۔ حدیث پاک میں ہے: ''حضرت عبداللہؓ بن ابی اوفیٰ بیان کرتے ہیں: جب رسول اللہﷺ کو (بدر کے دن) ابوجہل کے قتل ہونے کی خبر ملی تو آپﷺ نے شکرانے کے نوافل ادا کیے‘‘ (ابن ماجہ: 1391) (2) ''حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں: نبیﷺ کو کسی حاجت کے پورا ہونے کی بشارت دی گئی تو (سنتے ہی) آپﷺ اللہ تعالیٰ کے حضور سجدے میں چلے گئے‘‘ (ابن ماجہ: 1392)۔ (3) ''حضرت ابوبکرہؓ بیان کرتے ہیں: نبیﷺ کو جب کوئی ایسی خبر ملتی جو آپ کیلئے باعثِ مسرت ہوتی یا آپ کو ایسی خبر کی خوشخبری سنائی جاتی تو آپؐ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کیلئے سجدہ ریز ہو جاتے‘‘ (ابن ماجہ: 1394)۔ اس جنگ میں ستّر بڑے بڑے رُؤسائِ قریش جہنم رسید ہوئے اور 14 صحابۂ کرام نے جامِ شہادت نوش کیا اور قرآنِ کریم کی بشارت کے مطابق معرکۂ بدر ''یوم الفرقان‘‘ قرار پایا۔
معرکۂ بدر کو ''یوم الفرقان‘‘ قرار دینے کا سبب یہ ہے کہ یہ حق کو باطل سے ممتاز کرنے کیلئے کسوٹی ہے‘ معیار ہے‘ میزان ہے۔ بدر میں جو لشکر صف آراء ہوئے‘ ان کے مابین وہ تمام رشتے اور قرابتیں موجود تھیں جو انسانوں کو آپس میں جوڑتی ہیں‘ یعنی زبان کا رشتہ‘ وطن کا رشتہ‘ نسب کا رشتہ‘ قبیلے اور خاندان کا رشتہ وغیرہ۔ لیکن جب یہ سب رشتے یکجا ہو کر رشتۂ ایمان کے مقابل آگئے تو بدر کا سبق یہ ہے کہ ایمان کے رشتے پر ان سب رشتوں کو قربان کر دیا جائے گا اور بدر میں ایسا ہی ہوا۔ لشکرِ اسلام میں رسول اللہﷺ اور حضرت حمزہؓ تھے اور لشکرِ کفار میں آپﷺکے چچا اور حضرت حمزہؓ کے بھائی عباس بن عبدالمطلب اور حارث بن عبدالمطلب تھے۔ لشکر اسلام میں حضرت علی المرتضیٰؓ تھے اور لشکرِ کفار میں آپ کے بھائی عقیل بن ابی طالب‘ طالب بن ابی طالب اور چچا زاد حارث بن عبدالمطلب اور نوفل بن حارث تھے۔ (جاری)