بجلی،گیس مزید مہنگی ہوگی،سبسڈی830ارب روپے تک محدود:آئی ایم ایف کو یقین دہانی
ٹیوب ویلز، قبائلی علاقوں کے واجبات کیلئے محدود سبسڈی دی جائے گی، اصلاحاتی پیکیج پر عملدرآمد تیز کرنے کا فیصلہ گردشی قرضے کا بہاؤ صفر ،فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ، سالانہ ری بیسنگ سے مکمل لاگت وصول کی جائیگی، مہنگائی بڑھنے کا خدشہ
اسلام آباد (مدثر علی رانا) حکومت نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ آئندہ مالی سال میں توانائی شعبے کو دی جانے والی سبسڈی 830 ارب روپے تک محدود رکھی جائے گی جبکہ بجلی و گیس نرخوں میں مرحلہ وار اضافہ جاری رکھا جائے گا۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے مطالبہ کیا ہے کہ توانائی شعبے میں سبسڈی بتدریج کم کی جائے اور 2031 تک پاور سیکٹر کے گردشی قرضے کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جائے ۔ حکومت نے اس مقصد کیلئے سخت اصلاحاتی پیکیج پر عملدرآمد تیز کرنے کا عندیہ دیا ہے جس میں نرخوں میں اضافہ، نجکاری اور مالی نظم و ضبط شامل ہے ۔دستاویز کے مطابق مالی سال 2026-27 میں بجلی کے گردشی قرضے کے بہاؤ کو مکمل طور پر صفر کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جبکہ مجموعی قرضے کو مرحلہ وار کم کیا جائے گا۔ اس کیلئے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ اور سالانہ ری بیسنگ کے ذریعے صارفین سے مکمل لاگت وصول کی جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ بجٹ میں سبسڈی صرف مخصوص شعبوں تک محدود ہوگی جن میں بجلی تقسیم کار کمپنیاں، زرعی ٹیوب ویلز، قبائلی علاقوں کے واجبات اور گردشی قرضے کا بوجھ کم کرنا شامل ہے ۔ رواں مالی سال میں اس مد میں 1186 ارب روپے دیے گئے تھے جن میں نمایاں کمی کی جائے گی۔حکومت نے نجی بجلی گھروں کے ساتھ معاہدوں کی تکمیل جون 2026 تک یقینی بنانے جبکہ کے الیکٹرک سے مالی تنازع دسمبر 2026 تک حل کرنے کا بھی عندیہ دیا ہے ۔ اسی طرح بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری یا نجی انتظام میں منتقلی 2027 کے اوائل تک متوقع ہے ۔توانائی اصلاحات کے تحت ترسیلی نظام کی بہتری، نقصانات میں کمی اور جدید انفراسٹرکچر کی ترقی کیلئے نئے ادارہ جاتی اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں جبکہ غیر مؤثر سرکاری پاور پلانٹس کی نجکاری یا تنظیم نو پر بھی غور جاری ہے ۔دستاویز کے مطابق قابل تجدید توانائی کے فروغ کیلئے 2025 سے 2035 تک کا جامع منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے جس میں شمسی توانائی اور دیگر متبادل ذرائع کو فروغ دینے پر زور دیا گیا ہے ۔گیس کے شعبے میں بھی نرخوں میں باقاعدہ ردوبدل جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور درآمدی گیس کی لاگت مکمل طور پر صارفین تک منتقل کی جائے گی، تاہم کم آمدنی والے طبقے کو تحفظ دینے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے ۔ذرائع کے مطابق ان اقدامات کے نتیجے میں بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے ۔