مذاکرات : اسلام آباد جانے سے انکار نہیں کیا، پاکستان زندہ باد ایرانی وزیر خارجہ
امریکی میڈیا موقف غلط اندازمیں پیش کررہا،ہم جنگ کا مکمل خاتمہ چاہتے ،ثالثی کی کوششوں پر پاکستان کے شکرگزار:عباس عراقچی ،بھائی کی وضاحت کا خیرمقدم :اسحاق ڈار ، ایرانی ہم منصب کو ٹیلی فون ثالثی پرسوشل میڈیا کی جھوٹی خبریں قیاس آرائیوں پر مبنی،یو اے ای کے مالی ذخائر پر تبصرے بے بنیاد اور حقیقت کے منافی،ذمہ دارانہ صحافت اور محتاط سفارتکاری کی اشد ضرورت:ترجمان وزارت خارجہ
تہران ،اسلام آباد (دنیا نیوز)ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران نے کبھی بھی مذاکرات کیلئے اسلام آباد جانے سے انکار نہیں کیا جس پرنائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے اس وضاحت پر ان کاشکریہ ادا کیاا ورٹیلیفون پر رابطہ کرکے خطے کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئرکرتے ہوئے پاکستان سے اظہار تشکر کیا اور کہا کہ ایران کے مؤقف کو امریکی میڈیا کی جانب سے غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے ، ہم ثالثی کی پاکستان کی کوششوں کیلئے شکر گزار ہیں۔ ایران نے کبھی بھی اسلام آباد جا کر مذاکرات کرنے سے انکار نہیں کیا، غیر قانونی جنگ کے حتمی اور دیرپا خاتمے کی شرائط سے متعلق فکر مند ہیں، جنگ ہم پر مسلط کی گئی ہے اورہم امریکی مطالبات کو مناسب نہیں سمجھتے اور چاہتے ہیں کہ جنگ کا جامع اور دائمی خاتمہ ہونا چاہئے ، عباس عراقچی نے پاکستان زندہ باد کا نعرہ بھی لگایا۔ایک روز قبل امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے اسلام آباد میں امریکی حکام سے ملاقات سے انکار کر دیا ہے ۔وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کے بیان کا خیرمقدم کیا ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا کہ اپنے عزیز بھائی عباس عراقچی کی وضاحت کا خیر مقدم کرتا ہوں۔بعدازاں اسحاق ڈار نے عباس عراقچی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور خطے کی تیزی سے بدلتی صورتحال پر تفصیلی بات چیت کی ۔دفتر خارجہ کے مطابق گفتگو کے دوران اسحاق ڈار نے پاکستان کے اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ وہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے کی جانے والی ہر کوشش کی حمایت کرتا ہے اور اس بات پر زور دیا کہ موجودہ مسائل کا پائیدار حل صرف مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے ، فریقین کو تحمل اور تدبر کا مظاہرہ کرنا چاہئے ۔دونوں وزرائے خارجہ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ موجودہ حالات میں قریبی رابطہ رکھا جائے تاکہ بدلتی صورتحال کے مطابق بروقت مشاورت اور ہم آہنگی برقرار رکھی جا سکے ۔اسحاق ڈار نے گزشتہ روز بحرین کے وزیر خارجہ عبداللطیف بن راشید الزیانی سے ٹیلی فونک رابطہ کیا۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق رابطے میں خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، اسحاق ڈار نے کشیدگی میں فوری کمی کی ضرورت پر زور دیا۔اسحاق ڈار نے مصر کے وزیر خارجہ بدر عبداللطیف کے ساتھ بھی ٹیلیفونک رابطہ کرکے خطے کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے حالیہ علاقائی صورتحال اور جاری سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔ ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کے حوالے سے سوشل میڈیا پر زیر گردش جھوٹی خبروں کی تردید کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور قیاس آرائیوں پر مبنی قرار دے دیا۔انہوں نے میڈیا بریفنگ میں سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ مختلف ذرائع خصوصاً سوشل میڈیا پر ایسی رپورٹس سامنے آئی ہیں جن میں پاکستان کی جانب سے امن اور مذاکرات کے فروغ کیلئے مبینہ اقدامات کو سرکاری ذرائع سے منسوب کیا گیا ہے تاہم یہ دعوے حقیقت پر مبنی نہیں۔ سرکاری ذرائع سے منسوب تمام ایسے بیانات غلط ہیں اور وزارت خارجہ کی جانب سے اس نوعیت کی کوئی معلومات جاری نہیں کی گئیں۔ترجمان طاہر اندرابی نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ جمعہ کو وزارت خارجہ میں ہونے والی بریفنگ کو غلط انداز میں پیش کیا گیا، جس میں ایسے معاملات کو شامل کیا گیا جن پر نہ بات ہوئی اور نہ ہی کوئی اشارہ دیا گیا، خطے میں بڑھتی ہوئی حساس صورتحال کے پیش نظر ذمہ دارانہ صحافت اور محتاط سفارت کاری کی اشد ضرورت ہے۔
انہوں نے میڈیا پلیٹ فارمز پر زور دیا کہ وہ قیاس آرائیوں سے گریز کریں اور درست و مستند معلومات کیلئے صرف سرکاری بیانات اور میڈیا ریڈ آؤٹس پر انحصار کریں، موجودہ حالات میں غیر مصدقہ خبروں کا پھیلاؤ صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے ، اس لئے ذمہ داری کا مظاہرہ ناگزیر ہے ۔وزارت خارجہ نے یو اے ای کے مالی ذخائر سے متعلق تبصرے بھی مسترد کر دئیے اورکہاکہ یو اے ای کے مالی ذخائر سے متعلق حالیہ تبصرے بے بنیاد اور حقیقت کے منافی ہیں، سٹیٹ بینک میں رکھے گئے ذخائر دو طرفہ تجارتی معاہدوں کا حصہ تھے ۔ یو اے ای کے ذخائر پاکستان کے معاشی استحکام کیلئے مضبوط حمایت کا مظہر ہیں اور حکومتِ پاکستان طے شدہ شرائط کے مطابق مدت پوری ہونے پر ذخائر واپس کر رہی ہے ۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ذخائر کی واپسی ایک معمول کی مالیاتی کارروائی ہے ، اسے غلط رنگ دینا گمراہ کن ہے ۔ پاکستان اور یو اے ای کے درمیان دیرینہ اور برادرانہ تعلقات قائم ہیں تجارت، سرمایہ کاری اور دفاع سمیت مختلف شعبوں میں سٹریٹجک تعاون جاری ہے ۔ پاکستانی عوام پاک امارات دوستی کے قیام میں شیخ زاید بن سلطان النہیان کے کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان یو اے ای کے ساتھ مضبوط تعلقات کو مزید فروغ دینے کے عزم پر قائم ہے ۔