ایران 48 گھنٹے میں ڈیل کرلے ورنہ قیامت ٹوٹ پڑے گی : ٹرمپ
10دن دئیے تھے اب وقت ختم ہورہاہے :امریکی صدر ،زمینی کارروائی کو قتل گا ہ میں تبدیل کردیاجائے گا ،ایران امریکی افواج کو خطے سے نکال کر دم لے گا:ترجمان فوج بوشہرایٹمی پلانٹ اورکیمکل فیکٹریوں پر حملے ،6افراد شہید ،امریکا اور اسرائیل کے حملوں سے تابکاری کا سنگین خطرہ ،ایران کا اقوام متحدہ اور عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کو خط
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک،نیوز ایجنسیاں) امریکی ز صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے پاس کسی معاہدے پرپہنچنے یا آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے 48گھنٹے باقی ہیں ورنہ ان پر قیامت ٹوٹ پڑے گی ۔ٹرمپ نے سوشل میڈیا پیغا م میں لکھا یاد رکھیں وہ وقت کہ جب میں نے ایران کو دس دن دئیے تھے کہ یا تو معاہدہ کریں یا آبنائے ہرمز کھول دیں، اب وقت ختم ہو رہا ہے ،48 گھنٹے باقی ہیں، اس کے بعد ان پر قیامت ٹوٹ پڑے گی۔27 مارچ کو ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ وہ ایرانی توانائی تنصیبات پر کسی بھی ممکنہ حملے کو دس دن کیلئے روک رہے ہیں۔اس سے چند لمحے قبل ایک اور سوشل میڈیا پوسٹ میں جس میں وہ امریکی معیشت پر محصولات کے اثرات کا ذکر کر رہے تھے، انہوں نے اختتام پر لکھا کہ اس سب کے ساتھ ساتھ، ایک ایٹمی ایران سے نجات۔
امریکی صدر کے بیان کے بعد ایرانی افواج کے جنرل سٹاف کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ابوالفضل شیکرچی نے کہا ہے کہ جنگ میں ایران کی سٹریٹجی امریکی افواج کو عرب ممالک سے نکالنا ہے ، اس خطے کو امریکی فوجی اہلکاروں کیلئے ناقابل برداشت بنایا جائے گا۔ کسی بھی امریکی زمینی کارروائی کو قتل گاہ میں تبدیل کر دیا جائے گا جس کا مقصد اتنا بھاری نقصان پہنچانا ہے کہ آنے والی امریکی نسلیں فوج میں شامل ہونے سے خوفزدہ ہو جائیں گی۔آبنائے ہرمز کو امریکی اور اسرائیلی جہازوں کیلئے بند کر دیا گیا ہے ، انہیں کسی بھی بہانے رسائی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ایرانی پارلیمنٹ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کیلئے ایران کی اجازت لازمی ہوگی،آبنائے ہرمز اپنی سابقہ حالت میں واپس نہیں آئے گی اور موجودہ سکیورٹی صورتحال میں یہ ایران کیلئے ایک اہم سٹریٹجک اثاثہ بن چکی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز اس وقت فوجی کنٹرول میں ہے اور ایران اس سٹریٹجک مقام کا ہر قیمت پر دفاع کرے گا۔
ایران میں بوشہرجوہری پاورپلانٹ پیری میٹرکے قریب میزائل حملے میں ایک شخص شہیدہو گیا۔ایرانی میڈیا کے مطابق حملے میں بوشہرپاورپلانٹ کے مرکزی حصوں کو نقصان نہیں پہنچا، پاور پلانٹ کی پروڈکشن متاثر نہیں ہوئی۔ ایران کے جنوبی صوبے خوزستان کے گورنر کے نائب سکیورٹی انچارج نے بتایاکہ ماہشہر پیٹروکیمیکل کمپلیکس کو نشانہ بنایا گیا جہاں 5افراد شہید ہوگئے جبکہ بندر امام پیٹروکیمیکل کمپنی پربھی بمباری کی گئی ،اس دوران 5افراد زخمی ہوگئے ۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا کہ مزید حملے خلیجی ممالک میں تابکاری کا سبب بن سکتے ہیں،تابکاری کا اخراج ہوا تو تہران میں ہی نہیں بلکہ خلیجی دارالحکومتوں میں بھی زندگی ختم ہو جائے گی۔عراقچی نے سوشل میڈیا بیان میں کہاکہ یوکرین میں زاپوریژیا جوہری پاور پلانٹ کے قریب جھڑپوں پر مغرب کے غم و غصے کو یاد کریں۔ اسرائیل اور امریکا ہماری بوشہر تنصیب پر اب تک چار بار بمباری کر چکے ہیں۔ ہماری پیٹروکیمیکل تنصیبات پر حملے بھی انکے اصل مقاصد کو ظاہر کرتے ہیں۔
عباس عراقچی نے اقوام متحدہ اور عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے سربراہوں کو لکھے گئے مراسلے میں خبردار کیا ہے کہ جوہری تنصیبات پر حملے خطے کو ایک بڑے المیے سے دوچار کر رہے ہیں۔ امریکا اور اسرائیل کے ان حملوں سے تابکاری کے پھیلاؤ کا سنگین خطرہ ہے ،جو نہ صرف انسانی جانوں بلکہ بین الاقوامی اداروں کی ساکھ کیلئے بھی چیلنج ہے ۔مراسلے میں انکشاف کیا گیا کہ جنگ کے آغاز سے اب تک جوہری تنصیبات پر 7 حملے کئے جا چکے ہیں،جبکہ بوشہر جوہری پلانٹ کو بار بار نشانہ بنانا انتہائی تشویشناک عمل ہے ۔بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے سربراہ رفائل گروسّی نے تابکاری میں اضافہ نہ ہونے کے باوجود شدید تشویش کا اظہار کیا۔ایران کے جنوبی صوبے ہرمزگان میں بندر خمیر کے سیمنٹ پلانٹ کو ہفتے کو امریکی و اسرائیلی حملے کا سامنا کرنا پڑا، تاہم کسی کے زخمی ہونے یا ہلاک ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔ آپریشن وعدہ صادق 4 کے تحت حملوں کی 93ویں لہر میں ایران نے شہید نیول چیف ریئر ایڈمرل علی رضا تنگسیری کی یاد میں اسرائیل پر گائیڈڈ میزائلوں سے حملہ کر دیا۔
ترجمان پاسداران انقلاب کے مطابق مغربی گلیلی، حیفہ، کفرکنہ اور کرائیوٹ پر گائیڈڈ میزائل داغے گئے ، تل ابیب اور حیفہ سمیت مختلف شہروں میں متعدد عمارتیں تباہ ہوگئیں، گاڑیوں میں آگ لگ گئی، جبکہ اسرائیل کا دفاعی نظام میزائل روکنے میں بری طرح نا کام رہا۔ پاسداران انقلاب نے تل ابیب میں موساد کا ہیڈکوارٹرز میزائل حملے سے تباہ کر نے کا دعویٰ بھی کیاہے ۔امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ میں امریکا اپنی فضائیہ کے کم از کم 7 جنگی طیارے کھو چکا ہے ۔ ایران کی جانب سے امریکا کے گرائے گئے جہازوں میں ایف 35 ، ایف 15 ایگل اور ای تھری جاسوس طیارہ شامل ہے ۔ امریکی حکام نے تسلیم کیاہے کہ ایران کی جانب سے سعودی عرب میں امریکی سفارتخانے پر 3 مارچ کو حملے میں ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے اور یہ بھی کہ وزیرخارجہ مارکو روبیو نے حملے سے نقصانات کے بارے میں جو بات کہی تھی وہ غلط تھی۔
امریکی میڈیا کے مطابق ریاض میں امریکی سفارتخانے پر حملے سے عمارت میں جو آگ لگی تھی اس سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی، عمارت میں محفوظ ترین حصے بھی نشانہ بنے اور آگ آدھے دن تک بجھائی نہ جاسکی تھی، جبکہ ایران نے ریاض میں امریکی سفارتخانے پر حملے کی تردید کر دی، پاسدارانِ انقلاب کا کہناہے کہ ریاض میں امریکی سفارتخانے پر حملے سے ایرانی فوج کا کوئی تعلق نہیں۔ایران کے جنوبی صوبے کہگیلویہ و بویراحمد میں پاسدارانِ انقلاب کے ایک ذیلی یونٹ اور صوبائی گورنر نے امریکی جنگی طیارے ایف 15 کے عملے کے رکن کی گرفتاری کی خبروں کی تردید کر دی، تاہم ریاست سے منسلک ایرانی چینلز نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ عملے کے رکن کو زندہ گرفتار کریں اور اس کے بدلے انعامات کی پیشکش بھی کی گئی ہے۔
متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع کی جانب سے بیان میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ روز ایران سے آنے والے 23 بیلسٹک میزائلوں اور 56 ڈرونز کو ناکارہ بنایا گیا۔تنازع کے آغاز سے اب تک کل 498 بیلسٹک میزائل، 23 کروز میزائل اور 2141 ڈرونز کو ناکارہ بنایا جا چکا ہے جبکہ اماراتی مسلح افواج کے دو اہلکار، ایک کنٹریکٹر اور 10 دیگر افراد ہلاک ہو چکے اور 217 زخمی ہوئے ہیں۔بحرین میں ایرانی ڈرونزکے حملوں میں چار افراد معمولی زخمی ہوئے ، سترہ کے علاقہ میں کچھ گھر بھی متاثر ہوئے ۔ بحرین انتظامیہ کاکہناہے کہ ایران کی جانب سے داغے گئے 453 حملہ آور ڈرونز اور 188 میزائلوں کو ناکارہ بنایا اور تباہ کیا گیا ہے۔