ٹرمپ جنگ بندی اعلان سے قبل فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ فون پررابطے میں رہے
سعودی پیٹرو کیمیکل تنصیب پر ایرانی حملے نے ریاض میں شدید غصہ پیدا کیا اور کئی ہفتوں کی خفیہ سفارتکاری کو خطرے میں ڈال دیا ،فوجی اور سول قیادت پھر بھی رات بھر سرگرم رہی پاکستان نے واشنگٹن سے یہ یقین دہانی طلب کی کہ وہ اسرائیل کو قابو میں لائے گا ، آبنائے ہرمز پر ایران کا دعویٰ امریکا کیلئے ناقابل قبول :سفارتکار تہران ایٹمی توانائی کے حصول اور خطے کے ممالک کیساتھ دفاعی معاہدہ کا حق بھی مانگ رہا تھا،وفود کو شہبازشریف کی دعوت کے وقت سورج طلوع ہور ہا تھا :ذرائع
اسلام آباد (رائٹرز) ایران میں جاری جنگ کو روکنے کی ثالثی کی کوششیں تب چند گھنٹوں کے فاصلے پر ناکام ہونے والی تھیں، جب پاکستان نے رات بھر سفارتی کوششیں کیں تاکہ عارضی جنگ بندی کو یقینی بنایا جائے اور واشنگٹن اور تہران کو براہِ راست مذاکرات کے لیے لایا جا سکے ، یہ بات چار پاکستانی ذرائع نے رائٹرز کو بتائی ۔ذرائع کے مطابق ایران کی جانب سے سعودی پیٹرو کیمیکل تنصیب پر حملے نے ریاض میں شدید غصہ پیدا کیا اور کئی ہفتوں کی خفیہ سفارتکاری کو خطرے میں ڈال دیا۔ یہ ذرائع مذاکرات سے براہِ راست واقف تھے ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقرر کردہ آخری تاریخ کے قریب آتے ہی، پاکستانی حکام نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان پیغامات پہنچانے کے لیے آخری کوشش کی، کیونکہ ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اسی رات لڑائی جاری رہنے کی صورت میں ایک پوری تہذیب ختم ہو سکتی ہے ۔ایک ذریعہ کے مطابق پاکستان کی یہ کوشش تمام فریقین کے اعلیٰ حکام کے ساتھ براہِ راست رابطے پر مشتمل تھی، جس میں ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس اور امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے علاوہ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور پاسداران انقلاب کے سینئر کمانڈر احمد وحیدی بھی شامل تھے ۔ایک دوسرے ذریعہ کے مطابق، کئی سخت اور سانس روک دینے والے گھنٹوں کے بعد، جن کے دوران مذاکرات تقریباً ختم ہو چکے تھے ، ایران نے بغیر کسی شرط کے عارضی جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کی اور مذاکرات میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔
شام کے وقت ایران مشکل صورتحال میں تھا کیونکہ سعودی عرب پر حملوں کے بعد وہ کمزور پوزیشن میں تھا، لیکن انہیں معلوم تھا کہ آخری تاریخ میں کوئی توسیع نہیں ہوگی، ۔پاکستان کی فوجی اور سول قیادت رات بھر سرگرم رہی اور سینئر امریکی، ایرانی، سعودی اور دیگر حکام سے بات کرتی رہی، یہاں تک کہ ٹرمپ نے بریک تھرو کا اعلان کیا۔ذرائع کے مطابق، ٹرمپ جنگ بندی اعلان پوسٹ کرنے سے چند منٹ قبل پاکستان کے سپہ سالار ، فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ فون پر رابطے میں تھے ۔ پاکستان نے سعودی عرب پر حملے کے حوالے سے ایران کے خلاف اپنا اب تک کا سب سے شدید غصہ ظاہر کیا جس کے ساتھ اسلام آباد کا ایک باہمی دفاعی معاہدہ ہے جو اسے جنگ میں ملوث کر سکتا تھا ، یہی وہ وقت تھا کہ پاکستان نے واشنگٹن سے یہ یقین دہانی بھی طلب کی کہ وہ اسرائیل کو قابو میں لائے گا کہ وہ ایران پر مزید حملے نہ کر ے ۔دوسرے ذریعہ کے مطابق، ایرانی حکام نے کہا کہ انہوں نے جبیل میں پیٹرو کیمیکل کمپلیکس پر حملہ ایک اسرائیلی حملے کے جواب میں کیا، جو ایران کی ایک پیٹرو کیمیکل تنصیب پر ہوا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایسے حملے جاری رہے تو تہران مذاکرات میں شامل نہیں ہو سکتا ۔ذرائع کے مطابق پاکستان نے پھر واشنگٹن کو بتایا کہ اسرائیل کے اقدامات اس کی امن کی کوششوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں اور اسلام آباد شاید ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے قائل نہ کر سکے ۔پاکستان صرف اس یقین دہانی کے بعد ہی تہران کو بغیر کسی شرط کے عارضی جنگ بندی پر رضامند کر سکا کہ اسرائیل مزید حملے نہیں کرے گا۔دو اسرائیلی ذرائع نے کہا کہ اسرائیل ایران کے ساتھ معاہدے کی مخالفت کر رہا تھا کیونکہ اسے یقین تھا کہ فوجی کار روائی سے مزید بہت کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے ، البتہ آخرکار اس نے ٹرمپ کے کسی بھی فیصلے کی حمایت کرنے کا فیصلہ کیا۔ایک اسرائیلی عہدیدار نے کہا کہ واشنگٹن نے اسرائیل کے ساتھ ہم آہنگی رکھی اور یہ جنگ بندی کسی بھی طرح ایران کے ساتھ جنگ کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے ، ایران کو معاوضہ دینے یا پابندیاں ختم کرنے کی یقین دہانی شامل نہیں کرتی۔
عہدیدار نے مزید کہا کہ تہران کے ساتھ مذاکرات میں، امر یکا یہ شرط رکھے گا کہ ایران اپنا ایٹمی مواد حوالے کرے ، یورینیم کی افزودگی بند کرے اور بیلسٹک میزائل پروگرام سے پیدا ہونے والے خطرے کو ختم کرے ۔اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر نے تبصرے کے لیے درخواست کا جواب نہیں دیا۔تقریباً آدھی رات کے قریب پاکستانی وزیرِ اعظم شہباز شریف نے تمام فریقین سے کہا کہ وہ جنگ بندی پر عمل کریں تاکہ امن عمل شروع ہو سکے ۔ذرائع کے مطابق، یہ درخواست ایک مربوط کوشش تھی تاکہ جنگ بندی کو یقینی بنایا جا سکے اور یہ اس کے بعد آئی جب دونوں جانب اصولی طور پر متفق ہو چکے تھے ۔پہلے ذریعہ نے کہا اگر جواب منفی ہوتا تو ہم یہ درخواست نہ کرتے رات گئے بات چیت میں ایک امریکی 15 نکاتی تجویز پر بار بار تبادلۂ خیال ہوا اور دو بنیادی سوالات پر توجہ دی گئی: جنگ بندی کس طرح کی ہوگی اور جمعہ کے مذاکرات کے پیرامیٹرز کیا ہوں گے ۔ مشرق وسطیٰ کے ایک سفارتکار نے بتایا جو دونوں جانب سے رابطے میں رہا ہے کہ ایران نے بین الاقوامی سمندر کے راستے آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کو تسلیم کرنے کی تجویز دی، جو تنازعے کا مرکز ہے اور یہ مطالبہ واشنگٹن کے لیے ممکنہ طور پر ناقابلِ قبول ہے ۔سفارتکار نے مزید کہا کہ تہران ایٹمی توانائی کے حصول اور خطے کے ممالک کے ساتھ دوطرفہ دفاعی معاہدے کرنے کا حق بھی مانگ رہا تھا جبکہ ثالث یہ کوشش کر رہے تھے کہ مذاکرات کو ایسے مسائل سے دور رکھا جائے جو فوری تصادم کا سبب بن سکتے تھے ۔
اگرچہ پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ وفود جمعرات کو اسلام آباد پہنچیں گے لیکن یہ واضح نہیں کہ ہر ملک کی نمائندگی کون کرے گا۔دو پاکستانی ذرائع کے مطابق، ایرانی وفد کی قیادت عباس عراقچی اور پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کریں گے جبکہ امر یکا کی نمائندگی جے ڈی وینس کریں گے ۔ایک تیسرے پاکستانی ذریعہ نے کہا کہ اس عمل کا سب سے مشکل حصہ ایران کو بغیر کسی شرط کے جنگ بندی قبول کرنے پر راضی کرنا تھا۔آخری لمحوں تک ایران سخت گیر رویہ اختیار کیے ہوئے تھا۔ ایرانی اپنے مطالبات پہلے پیش کیے بغیر کوئی قدم اٹھانے کے لیے تیار نہیں تھے ۔ ہم نے انہیں بتایا کہ مطالبات بعد میں بھی رکھے جا سکتے ہیں تاکہ مذاکرات ہو سکیں، ۔جب ٹرمپ نے جنگ بندی کا اعلان کیا اور شہباز شریف نے دونوں ممالک کے وفود کو دعوتیں بھیجیں، تب اسلام آباد پر سورج تقریباً طلوع ہو رہا تھا۔ شہبازشریف نے بدھ کو کابینہ کے اجلاس میں کہاہم نے رات بھر کام کیا ہے ، اگر ہم اسے ایک کتاب کی شکل دے دیں تو یہ قوم اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک بڑا سبق ثابت ہوگی کہ کس طرح مایوس کن حالات میں بھی ہار نہیں ماننا چاہیے ۔