مقدمات کے غیر ضروری التوا پر جرمانہ ہوگا:سپریم کورٹ
التوا قانونی حق نہیں استثنائی رعایت، صرف ناگزیر وجوہات پر دی جا سکتی بلاجواز التوا انصاف میں تاخیر کا باعث:تحریری فیصلہ جاری، اپریل خارج
اسلام آباد (اے پی پی)سپریم کورٹ نے مقدمات کے غیر ضروری التوا کا سخت نوٹس لیتے ہوئے واضح کیا کہ وکلا کی ذاتی مصروفیات یا سہولت کی بنیاد پر سماعت ملتوی نہیں کی جا سکتی ، بلاجواز التوا کی درخواستیں برداشت نہیں کی جائیں گی، آئندہ جرمانے اور دیگر قانونی اقدامات کئے جائیں گے ۔ التوا کوئی حق نہیں بلکہ استثنائی رعایت ہے جو صرف ناگزیر وجوہات پر دی جا سکتی ہے ۔ تحریری فیصلہ کے مطابق چیف جسٹس یحیی آفریدی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سول پٹیشن میں درخواست گزار عباس علی کی اپیل خارج کر دی۔ عدالت نے قرار دیا کہ التوا اسی صورت میں دیا جا سکتا جب ایڈووکیٹ آن ریکارڈ باقاعدہ درخواست دائر کرے ۔ جنوری تا مارچ 2026 وکلا کی 653 مرتبہ التوا کی درخواستیں دائر کی گئیں۔ بلاجواز التوا سے وسائل ضائع ہوتے اور یہ سائلین خصوصاً کم وسائل والے افراد کیلئے اضافی اخراجات اور انصاف میں تاخیر کا باعث بنتا ہے ۔