پنجاب اسمبلی : زکوٰ ۃ ورکرز کی 20 ہزار تنخواہ کا انکشاف، معاملہ قائمہ کمیٹی کے سپرد

پنجاب اسمبلی : زکوٰ ۃ ورکرز کی 20 ہزار تنخواہ کا انکشاف، معاملہ قائمہ کمیٹی کے سپرد

جیلوں میں زائد قیدیوں پربحث، اپوزیشن وقت ضائع کرتی ، یہ اسمبلی اجلاس ،تحریک انصاف کا جلسہ نہیں :مجتبیٰ شجاع پنجاب انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ بل منظور،اپوزیشن کی تمام ترامیم مسترد، کورم پورانہ ہونے پراجلاس آج تک ملتوی

لاہور (سپیشل رپورٹر،سیاسی نمائندہ،حمزہ خورشید سے )پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں محکمہ زکوٰۃ و عشر میں کام کرنے والے ورکرز کو ماہانہ 20 ہزار 240 روپے تنخواہ ملنے کا انکشاف ہوا جس پر سپیکر ملک محمد احمد خان نے معاملہ قائمہ کمیٹی برائے زکوٰۃ و عشر کے سپرد کرتے ہوئے آج ہی رپورٹ طلب کر لی جبکہ حکومت ایوان میں کورم پورا کرنے میں ناکام رہی۔پنجاب اسمبلی کا اجلاس 55 منٹ کی تاخیر سے سپیکر ملک محمد احمد خان کی صدارت میں شروع ہوا۔ آغاز پر شہید لیفٹیننٹ کرنل خالد حسین کے لیے دعائے مغفرت کی گئی۔ سپیکر نے کہا کہ 20 ہزار 240 روپے تنخواہ غیر انسانی ہے اور حیرت ہے کہ اس رقم میں ملازمین کیسے گزارا کرتے ہیں۔ بتایا جائے یہ ملازمین کس قانون کے تحت کام کر رہے ہیں۔ حکومتی رکن امجد علی جاوید نے بھی انکشاف کیا کہ ایک کلرک کی تنخواہ 20 ہزار روپے ہے جو انتہائی افسوسناک ہے ۔

پارلیمانی سیکرٹری نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ ملازمین مہینے میں چار دن کام کرتے ہیں۔اجلاس میں رحمت کارڈ پروگرام کا بھی ذکر آیا جس میں دو لاکھ درخواستیں موصول ہونے کا بتایا گیا۔ دوسری جانب پنجاب کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدیوں کا معاملہ بھی ایوان میں زیر بحث آیا۔ رکن اسمبلی طاہرہ مشتاق کے مطابق صوبے کی جیلوں میں 38 ہزار قیدیوں کی گنجائش کے مقابلے میں 71 ہزار سے زائد قیدی موجود ہیں۔ اڈیالہ جیل میں 2171 کی گنجائش کے باوجود 8 ہزار جبکہ بہاولپور جیل میں 176 کی گنجائش کے مقابلے میں 770 قیدی رکھے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تمام جیلوں میں علاج کے لیے صرف 10 ڈاکٹر تعینات ہیں۔ پارلیمانی سیکرٹری خالد رانجھا نے کہا کہ نئی جیلیں تعمیر ہو رہی ہیں جس سے صورتحال بہتر ہوگی۔اجلاس کے دوران اپوزیشن رکن شعیب امیر کی جانب سے کورم کی نشاندہی کی گئی جس پر گھنٹیاں بجانے کے بعد کورم پورا کیا گیا۔

دوبارہ اجلاس شروع ہونے پر صوبائی وزیر میاں مجتبیٰ شجاع الرحمان نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن ایوان کا وقت ضائع کرتی ہے ،کلاز ٹو پر بات کرنی ہوتی ہے یہ کلاز بیس پر بات کرتے ہیں،یہ پنجاب اسمبلی کا اجلاس ہے کوئی تحریک انصاف کا جلسہ نہیں ہورہا ،ان سے کہیں رولز کے مطابق بات کیا کریں ۔ پنجاب انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس صرف برآمدات اور درآمدات پر لگایا جا رہا ہے اور یہ کوئی نیا سیس نہیں بلکہ پہلے سے موجود ہے ، دیگر صوبوں کے مقابلے میں پنجاب میں یہ شرح کم ہے ، سندھ اس مد میں 170 ارب روپے تک اکٹھا کر رہا ہے جبکہ پنجاب صرف 9 سے 10 ارب روپے جمع کر پا رہا ہے۔ ایوان نے پنجاب انفراسٹرکچر ڈیویلپمنٹ سیس (ترمیم) بل 2026 اور پنجاب انفراسٹرکچر ڈیویلپمنٹ سیس بل 2026 کثرت رائے سے منظور کر لیے ، پنجاب انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس ایکٹ کے مطابق پنجاب میں اشیاء کی برآمد و درآمد پر 0.90 فیصد سیس لاگو ہو گا جبکہ صوبے میں درآمد ہونے والی یا پنجاب کی حدود سے گزرنے والی درآمد شدہ اشیا بھی اسی شرح کے تحت آئیں گی جبکہ اپوزیشن کی تمام ترامیم مسترد کر دی گئیں۔ بعد ازاں اپوزیشن رکن میاں اعجاز شفیع کی جانب سے دوبارہ کورم کی نشاندہی پر کورم پورا نہ ہو سکا جس پر اجلاس آج دوپہر 2 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں