معاہدہ ایک ہفتے میں ہوسکتا : ٹرمپ، تجاویز پر غور جاری : ایران

معاہدہ ایک ہفتے میں ہوسکتا : ٹرمپ، تجاویز پر غور جاری : ایران

معاہدہ نہ ہواتوحملے کرینگے :امریکی صدر ، معاملہ حل ہونے کیلئے پرامید:پاکستان ایرانی وزیر خارجہ کا اسحاق ڈار کو فون ،مسعودپزشکیان کافرانسیسی صدر سے رابطہ

اسلام آباد، تہران، واشنگٹن (وقائع نگار، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ امن معاہدہ ایک ہفتے میں طے پا سکتا ہے ، تاہم اگر تہران نے آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے جلد معاہدہ نہ کیا تو امریکا نئے حملے کرے گا، جبکہ ایرانی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ امریکی تجاویز پر غور جاری ہے اور جلد جواب پاکستان کے ذریعے واشنگٹن بھجوا دیا جائے گا۔امریکی ٹی وی کو انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان گزشتہ 24 گھنٹوں میں مثبت مذاکرات ہوئے ہیں اور تہران جنگ کے خاتمے کیلئے امریکی تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا ایران سے افزودہ یورینیم حاصل کرنا چاہتا ہے کیونکہ ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پگوٹ نے کہا کہ صدر ٹرمپ سفارتی راستے کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم امریکا کسی خراب معاہدے پر جلد بازی نہیں کرے گا۔ امریکی میڈیا کے مطابق توقع ہے کہ ایران جنگ بندی تجاویز پر آج ثالث ملک پاکستان کے ذریعے اپنا جواب واشنگٹن کو بھجوا دے گا۔سی این این نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ دونوں فریق جنگ کے خاتمے کے معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، جبکہ ایرانی میڈیا کے مطابق بعض ناقابل قبول شقوں کے باعث تہران اب بھی تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے ۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تصدیق کی کہ پاکستان کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کا تبادلہ جاری ہے ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ممکنہ جنگ بندی معاہدہ ایک صفحے تک محدود ہو چکا ہے ، جس میں جنگ کے خاتمے ، آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کرنے اور بعض پابندیوں میں نرمی جیسے نکات شامل ہیں۔

پاسداران انقلاب کے سابق سربراہ اور ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر محسن رضائی نے کہا ہے کہ ایران جوہری معاملے پر کسی سے مذاکرات نہیں کرے گا اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول ایران ہی کے پاس رہے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر آبنائے ہرمز کا کنٹرول ایران سے نکلا تو دشمن اسے دوبارہ ایران کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کرے گا۔محسن رضائی نے امریکا سے جنگی نقصانات کے ہرجانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکی دھمکیاں ایران پر اثرانداز نہیں ہو سکتیں۔ دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون سے گفتگو میں کہا کہ ایران سفارتی راستہ اختیار کرنے کیلئے سنجیدہ ہے ، تاہم جنگ کے خاتمے اور مستقبل میں حملے نہ ہونے کی ضمانت ضروری ہے ۔ایرانی صدر نے امریکا کے رویے کو ‘‘پیٹھ میں چھرا گھونپنے ’’ کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کے دوران ایران پر حملوں نے تہران کا اعتماد مجروح کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی کیلئے امریکا کی بحری ناکہ بندی ختم کرنا ہوگی۔

قبل ازیں ایرانی صدر نے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات کا انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ ملاقات ڈھائی گھنٹے جاری رہی اور رہبر اعلیٰ کے انداز، عاجزی اور نقطہ نظر نے انہیں متاثر کیا۔ادھر ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جلد معاہدے کی توقع ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک دیانت دار ثالث کے طور پر کردار ادا کر رہا ہے اور فریقین کے درمیان معاملات کے حل کیلئے پرامید ہے ۔ترجمان نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے سے متعلق تمام آپشنز زیر غور ہیں اور پاکستان کا ایک قطرہ پانی بھی کوئی چوری نہیں کر سکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاک افغان سرحد کے دونوں جانب عوام امن چاہتے ہیں، تاہم افغان سرزمین سے دہشت گردی خطے میں مسائل پیدا کر رہی ہے ۔دریں اثنا ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس میں خطے کی صورتحال اور سفارتی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے مذاکرات اور سفارتکاری جاری رکھنے پر زور دیا۔علاوہ ازیں اسحاق ڈار نے سنگاپور کے وزیر خارجہ ڈاکٹر ویوین بالا کرشنن سے بھی ٹیلیفون پر گفتگو کی۔ سنگاپور کے وزیر خارجہ نے خطے میں امن و استحکام کیلئے پاکستان کے کردار کو سراہا جبکہ دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات اور بحری امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں