عمران کا علاج ورنہ پارلیمنٹ نہیں چلنے دینگے: اچکزئی، نئی ترمیم کی تیاری جاری : فضل الرحمان

 عمران کا علاج ورنہ پارلیمنٹ نہیں چلنے دینگے: اچکزئی، نئی ترمیم کی تیاری جاری : فضل الرحمان

پاکستان کو کچھ ہوا تو ذمہ دار نواز،زرداری، مولانا ہونگے :اپوزیشن لیڈر، خون سستا پٹرول مہنگا ہوگیا:سربراہ جے یو آئی صوبے کی تقسیم کیلئے دوتہائی اکثریت ضروری :بیرسٹر گوہر، ایوان کا مسلح افواج کو خراجِ تحسین، متفقہ قرارداد منظور

 اسلام آباد (نامہ نگار،سٹاف رپورٹر اے پی پی) قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان بیمار ہیں تو انہیں ہسپتال منتقل کیوں نہیں کیا جاتا؟ ایک ہفتے میں علاج اور ان سے ملاقات کرائیں ورنہ یہ ایوان پھر نہیں چلے گا۔ انہوں نے تجویز دی کہ نواز شریف سمیت تمام سیاسی قیادت مل بیٹھ کر کم از کم نکات پر اتفاق کرے تاکہ ملک کو بحران سے نکالا جا سکے ۔ پاکستان کو کچھ ہوا تو ذمہ دار نواز شریف، آصف علی زرداری، مولانا فضل الرحمن اور بلاول بھٹو زرداری ہوں گے ، حکومت نے ماحول درست نہ کیا تو پھر دما دم مست قلندر ہوگا۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ شہباز شریف کہنے کو تو وزیر اعظم ہیں مگر صرف ترامیم لانے کے لیے ہیں، پہلے ناجائز ترامیم کی گئیں اب ایک اور آئینی ترمیم کی تیاری کی جارہی ہے ۔فضل الرحمان نے کہا کہ ان کی گفتگو قوم تک نہیں پہنچائی جا رہی حالانکہ حکومت اور اپوزیشن کے حقوق برابر ہیں۔اٹھارہویں ترمیم کو دوبارہ غیر موثر بنایا جا رہا ہے اور اگر یہی طرز عمل جاری رہا تو پارلیمان ایک بار پھر ربڑ سٹیمپ پارلیمان کہلائے گی۔

انہوں نے بلاول بھٹو اور پیپلز پارٹی سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنا موثر کردار ادا کریں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں خون سستا پٹرول مہنگا ہوگیا، فضل الرحمان نے سوال اٹھایا کہ آبنائے ہرمز سب کے لیے بند ہے مگر تیل سب سے مہنگا پاکستان میں ہی کیوں ہے ؟ بھارت کے بھی جہاز رکے ہوئے ہیں مگر وہاں تو تیل مہنگا نہیں ہوا، باقی ملکوں میں تیل مہنگا نہیں ہوا، مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ بھارت کے خلاف جنگ میں پاک فوج نے بہادری دکھائی، انہوں نے کہا پیپلز پارٹی بتائے رفتہ رفتہ اٹھارہویں ترمیم رول بیک ہونے میں کیوں حصہ بن رہی ہے ؟ آج پارلیمان ربڑ سٹیمپ بنتی چلی جارہی ہے ۔ اپوزیشن کھڑی ہے ڈٹ کر کھڑی رہے گی، میں اپوزیشن لیڈر سے درخواست کروں گا کہ ایوان سے واک آؤٹ کا اعلان کریں۔ تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ خارجہ پالیسی، مہنگائی، دہشت گردی، ان کیمرہ اجلاس اور بانی چیئرمین پی ٹی آئی کی ملاقاتوں و علاج کے نکات اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے گئے ہیں جن پر حکومت کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔

انہوں نے رول 17 کے تحت ڈپٹی سپیکر سے رولنگ دینے کا مطالبہ کیا تاکہ متعلقہ وزرا کل ایوان میں جواب دیں۔تاہم ڈپٹی سپیکر نے رولنگ دینے کے بجائے اجلاس آج صبح 11 بجے تک ملتوی کر دیا جس کے باعث اپوزیشن کا مشترکہ واک آ ئوٹ نہ ہو سکا۔ بعدازاں میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ کوئی صوبہ تب تک تقسیم نہیں ہو سکتا جب تک اس صوبے کی دو تہائی اکثریت نے ووٹ نہ دیا ہو۔وزیر اطلاعات و نشریات عطا اﷲ تارڑ نے کہا کہ میڈیا ورکرز کے حقوق کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے ، اتحادیوں اور اپوزیشن کے ساتھ مل کر صحافیوں کے مسائل حل کئے جائیں گے ، 170 ملازمین کو برطرف کرنے والے ٹی وی چینل کے اشتہارات فی الفور بند کر دئیے گئے ۔ قبل ازیں قومی اسمبلی نے 10 مئی 2025 کو بھارتی جارحیت کے خلاف پاکستان کی مسلح افواج کے بہادر اور پیشہ وارانہ ردعمل کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ایک تاریخی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی۔ایوان زیریں نے خصوصی اقتصادی زونز ترمیمی بل 2026 سمیت پانچ بلز منظور کر لیے ۔ منظور ہونے والے دیگربلوں میں معیاری وقت تشریح حوالہ جات ترمیمی بل 2026،سول ملازمین ایکٹ 1973 میں مزید ترمیم کا بل ‘‘سول ملازمین ترمیمی بل 2025’’،قومی ادارہ برائے عوامی و روایتی ورثہ (لوک ورثہ) ترمیمی بل 2025 اور بحری جہازوں کے خطرناک مواد کے ماحول دوست انتظام سے متعلق بل 2025 شامل ہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں