اپوزیشن سے ملاقات چوری چھپے نہیں، اوپن ہوگی:رانا ثنا اللہ
میرے گھرملنا ہے تو حاضرہوں ، وزیراعظم آئیں گے تو کیا یہ چھپ پائے گا؟
لاہور (سلمان غنی)وزیراعظم کے سیاسی امور کے مشیر رانا ثنا اﷲ نے اپوزیشن سے اپنے رابطوں کی تصدیق کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر وہ ملک کو درپیش ایشوز پر مذاکرات کیلئے سنجیدہ ہوں یا اپنے لیڈر کی ملاقات اور اس کے علاج میں دلچسپی رکھتے ہوں تو یہ باتیں بیٹھ کر ہو سکتی ہیں لیکن ملاقات کہیں پس پردہ یا ڈھکے چھپے انداز میں نہیں ،اوپن ہوگی۔اپوزیشن لیڈر یا ان کے دیگر ذمہ دار مذاکرات میں دلچسپی رکھتے ہیں تو میرے ساتھ چلیں، وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کا بندوبست کروا دیتا ہوں،اگر یہ چوری چھپے کسی جگہ ملتے ہیں تو یہ کیسے ممکن ہوگا ، وزیراعظم کہیں چھپ کر نہیں مل سکتے۔
دنیا سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر اور پارٹی کے دیگر ذمہ داروں کیلئے عذاب سوشل میڈیا پر بیٹھے ان کے نادان دوست ہیں جو کسی بھی سنجیدہ تحریک یا سیاسی ایشوز پر پیش رفت کے جواب میں آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں جس پر یہ پسپائی اختیار کر لیتے ہیں، لہٰذا مسئلہ ان کی جانب سے ہے ،حکومت کی طرف سے نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم تو پارلیمنٹ کے فلور پر کہہ چکے ہیں کہ اگر یہ مذاکرات میں سنجیدہ ہیں تو میرے ساتھ مل کر بیٹھیں اور بات کریں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی ایشوز پر بات چیت ہونی چاہئے جس کے لئے ہم تیار ہیں لیکن پہلے اپوزیشن یکسو اور سنجیدہ ہو۔
رانا ثنا اﷲ نے کہا کہ میرے گھر پر ملنے کے لئے تیار ہیں تو میں حاضر ہوں لیکن مذاکرات کے لئے جب وزیراعظم آئیں گے تو کیا یہ چھپ پائے گا؟، سیاسی لوگ ہیں تو سیاسی طرز عمل اختیار کریں،چوری چھپے ملنے کی بجائے کھلے عام ملیں ۔انہوں نے کہا اپوزیشن کے دوست بار بار کہتے ہیں کہ پاکستان ٹوٹ جائے گا، یہ دشمن کی خواہش تو ہو سکتی ہے کسی محب وطن کی نہیں، پاکستان ان کی سوچ سے بھی زیادہ مضبوط ہے ۔ اپوزیشن کو چاہئے کہ سیاسی معاملات کو ملکی بقا و سلامتی سے نہ جوڑیں،ضد اور ہٹ دھرمی نے انہیں اس نہج پر پہنچا دیا ہے کہ انہیں اب آگے کچھ نظر نہیں آ رہا ۔ انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ دہشت گردی پر سیاست کی گنجائش نہیں، اسے حکومت کو ڈرانے کیلئے استعمال نہ کریں ،ہمیں پتہ ہے کہ ہم نے کیا کرنا ہے۔