ٹھوس شواہدکے بغیرملازم کی سزابرقرارنہیں رہ سکتی :سپریم کورٹ

ٹھوس شواہدکے بغیرملازم کی سزابرقرارنہیں رہ سکتی :سپریم کورٹ

خیبر پختونخوا فرنٹیئر ریزرو پولیس کانسٹیبل کی ملازمت سے برطرفی کالعدم، بحالی کا حکم معاہدہ سے لاعلمی ثابت نہ کرسکنے پر جائیداد کے خریدار کو قانونی تحفظ نہیں، اپیلیں خارج

اسلام آباد (کورٹ رپورٹر)سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ جب تک سرکاری ملازم کے خلاف ٹھوس اور قابلِ اعتماد شواہد موجود نہ ہوں اس کے خلاف سزا برقرار نہیں رکھی جا سکتی، عدالت نے اسی اصول کے تحت خیبر پختونخوا فرنٹیئر ریزرو پولیس کے کانسٹیبل امیر وسیم کی ملازمت سے برطرفی کالعدم قرار دے کر بحالی کا حکم دے دیا۔ جسٹس شفیع صدیقی کی سربراہی میں جسٹس شاہد وحید اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل تین رکنی بینچ نے تحریری تفصیلی فیصلے میں کہا کہ محکمانہ انکوائری میں ایسے شواہد پیش نہیں کیے گئے جو درخواست گزار کو جعلی تبادلہ و تعیناتی آرڈر کے اجرا سے براہِ راست منسلک کرتے ۔ سروس ٹریبونل کی سزا میں نرمی کے باوجود جب بنیادی الزام ہی ثابت نہ ہو تو کوئی سزا قانونی طور پر برقرار نہیں رہ سکتی۔ سپریم کورٹ نے ٹریبونل کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے کانسٹیبل امیر وسیم کو بحال کرنے کا حکم دیا۔

ایک اور مقدمہ میں سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اگر بعد میں جائیداد خریدنے والا خریدار قانون کے مطابق اپنی نیک نیتی، مناسب تحقیق اور سابقہ معاہدے سے لاعلمی ثابت کرنے میں ناکام رہے تو وہ کسی قانونی تحفظ کا مستحق نہیں رہتا، سپریم کورٹ نے اسی اصول کی بنیاد پر جائیداد تنازع سے متعلق تمام اپیلیں خارج کر دیں اور لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق جسٹس شاہد وحید، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شفیع صدیقی پر مشتمل تین رکنی بینچ نے سول اپیل سمیت دیگر متعلقہ اپیلوں کی سماعت کی۔ عدالت نے قرار دیا کہ زیرِ بحث جائیداد کے اصل مالکان نے ابتدائی معاہدہ فروخت تسلیم کیا تھا، بعد میں دعویٰ کرنے والے خریدار یہ ثابت نہ کر سکے کہ انہوں نے خریداری کے وقت کسی سابقہ معاہدے یا تنازع سے لاعلمی میں اور مکمل نیک نیتی کے ساتھ لین دین کیا۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں