چینی صدر کی ٹرمپ کو جنگ کی وارننگ : تائیوان کے معاملے پر دو ٹوک گفتگو، چین نے آبنائے ہرمز کھلوانے میں مدد کی پیشکش کی : امریکی صدر
ہمیں ایک دوسرے کا حریف نہیں،شراکت دار بننا چاہئے ،تعاون سے فائدہ اورتصادم سے نقصان ہوگا ،تمام عالمی بحرانوں کا حل صرف سفارت کاری اور مذاکرات میں ہے :شی جن پنگ امریکا چین کیساتھ تجارت کا خواہاں ،دونوں ممالک مل کر کام کرینگے ،چینی صدر کیساتھ دو گھنٹے طویل ملاقات انتہائی مثبت رہی،انہیں 24 ستمبر کودورہ امریکا کی دعوت دی :ڈونلڈٹرمپ
بیجنگ (مانیٹرنگ ڈیسک ،نیوزایجنسیاں) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان بیجنگ میں گزشتہ روز تاریخی ملاقات ہوئی جس میں دونوں رہنماؤں نے آبنائے ہرمز کھلی رکھنے ، عالمی تجارت کے تحفظ، مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، تائیوان، عالمی معیشت، مصنوعی ذہانت اور دوطرفہ تعلقات سمیت اہم عالمی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ امریکا اور چین کو ایک دوسرے کا حریف نہیں بلکہ شراکت دار بن کر عالمی استحکام کیلئے کردار ادا کرنا چاہئے تاہم چینی صدر نے تائیوان کے حوالے سے دو ٹوک گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر کو کشیدگی بڑھنے کی وارننگ دیتے ہوئے مناسب انداز اپنانے کا مشورہ دیا۔امریکی صدر کے دورئہ چین کے موقع پر گریٹ ہال آف دی پیپل میں شاندار استقبالیہ تقریب ہوئی ، جہاں چینی صدر شی جن پنگ نے ڈونلڈ ٹرمپ کا پرتپاک استقبال کیا۔
چینی فوج کے چاق و چوبند دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا جبکہ فوجی بینڈ نے دونوں ممالک کے قومی ترانے بجائے اور 21 توپوں کی سلامی بھی دی گئی، بچوں نے امریکی اور چینی پرچم لہرا کر مہمانوں کا خیرمقدم کیا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ واضح ہے آبنائے ہرمز کھولنے میں چین کی بڑی دلچسپی ہے ، چینی صدر آبنائے ہرمز کو کھلا دیکھنا چاہتے ہیں اور انہوں نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے مدد کی پیشکش کی ہے ۔صدر ٹرمپ نے بیجنگ آمد پر پرتپاک استقبال پر چینی قیادت کا شکریہ ادا کیا اور صدر شی جن پنگ کو دنیا کے عظیم رہنماؤں میں شمار کیا۔قبل ازیں وفود کی سطح پر مذاکرات کے آغاز میں اوراستقبالیہ تقریب سے خطاب میں چینی صدر شی جن پنگ نے امریکی وفد کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ دنیا اس وقت ایران تنازع، عالمی سپلائی چین کے بحران اور تیزی سے بدلتی بین الاقوامی صورتحال سے گزر رہی ہے، ایسے میں چین اور امریکا کی ذمہ داری ہے کہ وہ عالمی امن اور معاشی استحکام کیلئے مشترکہ کردار ادا کریں، تمام عالمی بحرانوں کا حل صرف سفارت کاری اور مذاکرات میں ہے ۔
شی جن پنگ نے کہا کہ چین اور امریکا دو بڑی طاقتیں ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان اختلافات سے زیادہ مشترکہ مفادات موجود ہیں۔توقع رکھتا ہوں کہ سال 2026 چین اور امریکا کے تعلقات میں ایک تاریخی اور اہم سنگِ میل ثابت ہوگا، چین اور امریکا کے درمیان مستحکم تعلقات پوری دنیا کے مفاد میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ایک دوسرے کا حریف نہیں بلکہ شراکت دار بننا چاہئے ، تعاون سے دونوں ممالک فائدہ اٹھا سکتے ہیں جبکہ تصادم سے نقصان ہوگا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ تائیوان کا مسئلہ چین امریکا تعلقات میں سب سے حساس معاملہ ہے اور اگر اسے درست انداز میں نہ سنبھالا گیا تو دونوں ممالک کشیدگی کی طرف جا سکتے ہیں۔صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کہا کہ امریکا اور چین کے تعلقات دنیا کی تاریخ کے سب سے اہم تعلقات میں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شی جن پنگ ان کے بہت اچھے دوست ہیں اور دونوں رہنماؤں کے درمیان ہمیشہ مثبت رابطہ رہا ہے ۔ ٹرمپ نے کہا کہ جب بھی کوئی مسئلہ پیدا ہوا، ہم نے ایک دوسرے سے رابطہ کیا اور مل کر حل نکالا ۔
آج کا دن بہت بہترین ہے اور یہ دورہ دونوں ممالک کے تعلقات میں نئی جہت پیدا کرے گا، امریکا چین کے ساتھ تجارت کا خواہاں ہے اور مستقبل میں دونوں ممالک مل کر کام کریں گے ۔ ہم دونوں کا ایک ساتھ شان دار مستقبل ہے ،چین کا بہت احترام کرتا ہوں، اب ہمیں اپنا فوکس تجارت پر مرکوز کرنا ہے ۔ امریکی صدر نے کہا کہ چینی صدر کے ساتھ ان کی دو گھنٹے طویل ملاقات انتہائی مثبت اور تعمیری رہی۔ انہوں نے چینی صدر کو 24 ستمبر کو امریکا کے دورے کی دعوت بھی دی اور کہا کہ دونوں ممالک کے پاس تعاون اور خوشحالی کے بہتر مستقبل کی تعمیر کا بہترین موقع موجود ہے ۔وائٹ ہاؤس کے مطابق ملاقات میں دونوں صدور نے اس بات پر اتفاق کیا کہ عالمی توانائی کی ترسیل اور بین الاقوامی تجارت کے تحفظ کیلئے آبنائے ہرمز کھلی رہنی چاہئے ۔ چینی سرکاری ٹی وی کے مطابق دونوں رہنماؤں نے مشرقِ وسطیٰ، یوکرین اور کوریا کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا جبکہ تجارت، زراعت، صحت، سیاحت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔
سرکاری مذاکرات کے بعد صدر ٹرمپ نے بیجنگ کے تاریخی مقام ٹیمپل آف ہیون کا دورہ کیا جہاں بعدازاں چینی صدر شی جن پنگ بھی پہنچ گئے ۔ دونوں رہنماؤں نے تاریخی عبادت گاہ کے سامنے تصاویر بنوائیں۔ اس موقع پر ٹرمپ نے کہا کہ یہ ناقابل یقین حد تک زبردست جگہ ہے ، چین بہت خوبصورت ہے ۔امریکی میڈیا نمائندوں نے دونوں رہنماؤں سے تائیوان کے معاملے پر سوالات بھی کئے تاہم دونوں صدور نے جواب دینے سے گریز کیا۔ٹرمپ نے مذاکرت کو بہترین کہا تاہم تائیوان کے حوالے سے سوال کا جواب نہیں دیا۔ چین کے صدر شی جن پنگ نے جمعرات کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ چین کے موقع پر آنے والے امریکی تاجروں سے ملاقات کی۔
چین کی سرکار ی نیوزایجنسی شہنوا کے مطابق ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون اور سرمایہ کاری کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔صدر ٹرمپ نے اس موقع پر کہا کہ وہ اپنے ساتھ امریکی کاروباری برادری کے نمایاں نمائندوں کو لائے ہیں جو چین کا احترام کرتے ہیں اور اس کے ساتھ تعاون کو وسعت دینے کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے تمام امریکی تاجروں کا صدر شی سے تعارف بھی کرایا۔ مبصرین کے مطابق 2017 کے بعد یہ ڈونلڈ ٹرمپ کا دوسرا بڑا دورہ چین ہے جسے امریکا اور چین کے درمیان کشیدہ تعلقات میں ممکنہ سفارتی ری سیٹ قرار دیا جا رہا ہے ۔ عالمی میڈیا کے مطابق اس تاریخی سربراہی ملاقات میں تجارت، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، امریکی ٹیرف، ایران جنگ اور عالمی توانائی بحران جیسے معاملات پر ہونے والی گفتگو آئندہ عالمی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔