21 افسروں کی ترقی پر ازسر نو غور، منفی رائے کی واضح وجوہات ریکارڈ پر لائیں : اسلام آباد ہائیکورٹ
CSB کے ترقی نہ ہونے ، سپر سیشن و ڈیفرمنٹ کے فیصلے غیر قانونی، کالعدم قرار، مارچ 2025اجلاس کے متنازعہ فیصلے مسترد کیسز واپس، رولز 2019کے تحت دو بارہ غور کا حکم، بورڈ پیرامیٹرز اور دستاویزی شواہد کی بنیاد پر جانچ کا پابند:تفصیلی فیصلہ
اسلام آباد (رضوان قاضی)اسلام آباد ہائیکورٹ نے سنٹرل سلیکشن بورڈ کے فیصلے کالعدم قرار دے کر 21 افسروں کی ترقی کے کیسر پر ازسرنو غور کرنے کا حکم دے دیا۔جسٹس انعام امین منہاس نے پولیس سروس، پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس اور سول سروس کے گریڈ 20 اور 21 میں ترقی سے محروم رہنے والے 21 افسروں کی درخواستوں پر 56 صفحات کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا،درخواست گزاروں میں ڈاکٹر مطاہر شاہ، اقبال احمد شیخ، شکیل احمد شکیل، مرزا ناصر علی،مطیع الرحمن ممتاز،ولایت خان، سید علی عدنان ، محمد زاہد، ممتاز علی بوہیو،امین قریشی،عتیق الرحمن مغل،اسلم جمرو، ڈاکٹر اختر عباس، نثار احمد خان، بلال احمد بٹ، ساجد حسین آرائیں، ارباب قیصر احمد،ناصر خان، اسرار احمد خان، مجاہد اکبر خان اور آغا محمد یوسف شامل ہیں۔
عدالت نے درخواستیں منظورکرتے ہوئے حکم دیا کہ پٹیشنرز کے کیسز کا مروجہ طریقہ کار کے مطابق جائزہ لیا جائے اور منفی رائے کی صورت میں واضح وجوہات ریکارڈ پر لائی جائیں۔ ہائیکورٹ نے سنٹرل سلیکشن بورڈ کے افسروں کی ترقی نہ ہونے ، سپر سیشن اور ڈیفرمنٹ کے فیصلے غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کر دیئے اور 11 سے 14 مارچ 2025 تک بورڈ کے اجلاس کے کئی متنازع فیصلوں کو مسترد کر دیا، عدالت نے متاثرہ افسروں کے کیسز دوبارہ جائزہ لینے کے لیے سینٹرل سلیکشن بورڈ کو واپس بھیجتے ہوئے کہا بورڈ صرف رولز میں فراہم کردہ پیرامیٹرز اور دستاویزی شواہد کی بنیاد پر ہی جانچ پڑتال کا پابند ہے ۔
بورڈ کا فیصلہ سنی سنائی باتوں، افواہوں یا ممبران کے ذاتی علم اور تاثرات پر مبنی نہیں ہو سکتا، افسر کی اہلیت کا جائزہ لینے کے لیے صرف پروموشن رولز 2019 کے طے شدہ طریقہ کار پر عمل کرنا لازمی ہے ، محکمہ جاتی نمائندے کو کسی افسر کی دیانتداری یا پیشہ ورانہ اہلیت پر اپنی ذاتی رائے دینے کا قانونی اختیار نہیں، اس کا کردار صرف معلوماتی مواد فراہمی تک محدود ہے وہ کردار کشی نہیں کر سکتا،عدالت نے ڈی آر کے منفی ریمارکس کو قانونی حدود سے تجاوز قرار دیتے ہوئے کہاکہ کسی افسر کا سروس ریکارڈ تسلی بخش ہے تو اسے ٹھوس ثبوت کے بغیر مشکوک دیانتداری کا حامل قرار نہیں دیا جا سکتا، بہترین سروس ریکارڈ رکھنے والے افسر کو اوسط درجے کا قرار دے کر ترقی سے نہیں روکا جا سکتا۔