چینی کی مالیاتی منڈی میں پاکستان کا پہلا پانڈا بانڈ کامیابی سے جاری : اصل رقم سے 5 گنا زیادہ سرمایہ کاری پیشکشیں

چینی کی مالیاتی منڈی میں پاکستان کا پہلا پانڈا بانڈ کامیابی سے جاری : اصل رقم سے 5 گنا زیادہ سرمایہ کاری پیشکشیں

25کروڑمالیت کاپانڈا بانڈ چینی کرنسی میں جاری کیا گیا ، سرمایہ کاروں کی طرف سے 8.8ارب یوآن کی پیشکشیں موصول شرح سود صرف 2.5فیصد پر سرمایہ حاصل ہوا، عالمی مالیاتی منڈیوں میں پاکستان کی پوزیشن مستحکم ہو گئی :مشیر خزانہ

 اسلام آباد(مدثر علی رانا) حکومت نے چائنیز مارکیٹ میں 25 کروڑڈالر مالیت کے برابر پانڈا بانڈ کا اجرا کر دیا ۔ پاکستان نے چین کی مالیاتی منڈی میں اپنا پہلا پانڈا بانڈ کامیابی سے جاری کر دیا ۔ پاکستان نے دنیا کی دوسری بڑی کیپٹل مارکیٹ تک رسائی حاصل کرلی ۔ پانڈا بانڈ 3 سالہ بانڈ چینی کرنسی یوآن میں جاری کیا گیا ہے ۔ پاکستان نے 1.75 ارب یوآن کے بانڈز پیش کیے جبکہ سرمایہ کاروں کی طرف سے 8.8 ارب یوآن کی پیشکشیں موصول ہوئیں جو کہ اصل رقم سے 5 گنا زیادہ ہیں۔ مضبوط ڈیمانڈ کی وجہ سے پاکستان کو یہ سرمایہ صرف 2.5 فیصد کی کم شرح سود پر ملا ہے ۔مشیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق پاکستان بحرانوں سے نکل کر استحکام اور طویل مدتی ترقی کی طرف بڑھ رہا ہے ۔ پاکستان عالمی مالیاتی منڈیوں میں ایک قابلِ بھروسہ ملک کے طور پر ابھرا ہے ۔

دوسری جانب رواں مالی سال 2025-26 کے دوران سرمایہ کاری اور بچت کی شرحیں اہداف سے کم رہیں اور بجٹ میں مقررہ اہداف حاصل نہ ہو سکے ۔ قومی آمدنی کے مقابلے میں سرمایہ کاری کی شرح 14.4 فیصد رہی جو حکومتی ہدف 14.7 فیصد سے کم ہے جبکہ قومی بچت بھی 14.4 فیصد کی سطح پر برقرار رہی۔ ذرائع کے مطابق سرکاری شعبے کی سرمایہ کاری کم ہو کر جی ڈی پی کے 3.1 فیصد تک محدود ہوگئی جبکہ گزشتہ مالی سال میں یہ شرح 3.3 فیصد تھی۔ نجی شعبے کی سرمایہ کاری بڑھ کر جی ڈی پی کے 9.6 فیصد تک پہنچ گئی۔ حکومت غیر ملکی سرمایہ کاری لانے میں خاطر خواہ کامیاب نہ ہو سکی۔ مجموعی سرمایہ کاری کی شرح گزشتہ مالی سال 2024-25 اور رواں مالی سال 2025-26 دونوں میں 14.4 فیصد پر جمود کا شکار رہی۔بچت کے رجحان میں معمولی بہتری دیکھی گئی۔ قومی بچت کی شرح مالی سال 2022-23 میں 13 فیصد تھی جو 2023-24 میں کم ہو کر 12.6 فیصد رہ گئی تھی تاہم 2024-25 میں یہ بڑھ کر 14.1 فیصد اور رواں مالی سال میں 14.4 فیصد تک پہنچ گئی۔

گھریلو بچتوں میں بھی مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو 6.8 فیصد سے بڑھ کر 7.3 فیصد تک پہنچ گئی۔ ماہرین کے مطابق مہنگائی میں نسبتاً کمی نے عوام کو بچت کا موقع فراہم کیا۔علاقائی تقابل میں پاکستان کی معاشی کارکردگی بدستور کمزور رہی۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران بھارت کی معاشی شرح نمو اوسطاً 6.5 فیصد، ویتنام کی 6.7 فیصد جبکہ بنگلہ دیش کی 5.4 فیصد رہی جبکہ پاکستان کی اوسط شرح نمو صرف 4.4 فیصد ریکارڈ کی گئی۔وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پانڈا بانڈ کے اجرا کو تاریخی کامیابی قرار دیا ۔ اپنے بیان میں وزیر خزانہ کہا کہ پاکستان کے پہلے پانڈا بانڈ کو عالمی سرمایہ کاروں کی غیر معمولی پذیرائی حاصل ہوئی ہے ۔ پانڈا بانڈ کے کامیاب اجرا سے پاکستان پر عالمی اعتماد میں اضافہ ہوا ہے ۔ دنیا کا پاکستان کی اقتصادی اصلاحات اور خودمختار مالی ساکھ پر اعتماد مضبوط ہوا ہے ۔ پانڈا بانڈ اجرا پاکستان کے اقتصادی سفر میں اہم سنگِ میل ہے ۔ پاکستان کی اصلاحاتی رفتار نے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو متوجہ کر لیا ہے ۔ پانڈا بانڈ اجرا سے عالمی مالیاتی منڈیوں میں پاکستان کی پوزیشن مستحکم ہوئی ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں