آئندہ وفاقی بجٹ:ٹیکس بڑھاؤ خسارہ کنٹرول کرو کی حکمت عملی

آئندہ وفاقی بجٹ:ٹیکس بڑھاؤ  خسارہ کنٹرول کرو کی حکمت عملی

کراچی(رپورٹ:محمد حمزہ گیلانی) پاکستان کا آئندہ وفاقی بجٹ سخت مالیاتی نظم و ضبط، ٹیکس اہداف میں نمایاں اضافے اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں خصوصاً آئی ایم ایف کی ترجیحات کے مطابق ترتیب دیے جانے کا امکان ہے ۔

 مالیاتی اداروں کی تازہ تجزیاتی رپورٹ کے مطابق بجٹ 2026-27 بنیادی طور پر ٹیکس بڑھاؤ اور خسارہ کنٹرول کرو کی حکمت عملی کے گرد گھومے گا، جس میں ایک طرف ریونیو بڑھانے کے لیے نئے اقدامات تجویز کیے گئے ہیں تو دوسری جانب محدود ریلیف کے ذریعے عوامی دباؤ کو کم کرنے کی کوشش بھی کی جائے گی۔رپورٹ کے مطابق کم آمدنی والے تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس میں جزوی کمی زیر غور ہے ، تاہم مجموعی طور پر ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے پر زیادہ زور دیا جائے گا۔ کارپوریٹ سیکٹر کے لیے عائد سپر ٹیکس میں مرحلہ وار کمی کی تجویز دی گئی ہے تاکہ سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنایا جا سکے ۔ دوسری جانب آٹو سیکٹر میں بھی پالیسی تبدیلیوں کا امکان ہے ، جہاں درآمدی ڈیوٹی میں رد و بدل اور پلگ ان ہائبرڈ گاڑیوں پر ٹیکس میں نرمی متوقع ہے تاکہ ماحول دوست ٹیکنالوجی کو فروغ دیا جاسکے ۔ مالیاتی اداروں کی جاری کردہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ حکومت آئندہ مالی سال کے دوران نئے ٹیکس اقدامات کے ذریعے تقریباً 445 ارب روپے اضافی جمع کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے ، جس کے ذریعے ریٹیل اور ہول سیل سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں لاتے ہوئے 199ارب روپے حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جبکہ پٹرولیم مصنوعات پر ایک فیصد گرین لیوی عائد کر کے 65 ارب روپے اکٹھے کیے جائیں گے ۔

اسی طرح سگریٹ اور تمباکو پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی بڑھا کر51 ارب روپے ، مشروبات پر ٹیکس میں اضافے سے 18 ارب روپے حاصل کرنے کی تجویز ہے ۔ مزید برآں ڈیجیٹل معیشت کو بھی ٹیکس دائرے میں لایا جا رہا ہے ، جہاں ڈیجیٹل سروسز پر ایک فیصد ٹیکس کے ذریعے 11 ارب روپے اور آن لائن گیمنگ پر ایک فیصد ٹیکس سے 8 ارب روپے جمع کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے ۔ کارپوریٹ اشتہارات پر 2 فیصد لیوی عائد کر کے مزید 11 ارب روپے حاصل کرنے کی منصوبہ بندی ہے ۔ فاٹا اور پاٹا کے لیے ٹیکس چھوٹ ختم کر کے 18 فیصد سیلز ٹیکس نافذ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے ، جو ایک اہم پالیسی تبدیلی تصور کی جا رہی ہے ۔دوسری جانب ایف بی آر کے لیے 16 ہزار ارب روپے سے زائد کا ہدف مقرر کیے جانے کا امکان ہے ، تاہم رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ہدف کے مقابلے میں 500 ارب روپے سے زائد کا شارٹ فال بھی سامنے آ سکتا ہے ۔

حکومتی اخراجات میں اضافہ بدستور ایک بڑا چیلنج رہے گا، جہاں کرنٹ اخراجات 16 ہزار ارب روپے تک پہنچنے کی توقع ہے ، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 11 فیصد زیادہ ہوں گے ۔ مالیاتی خسارہ بھی قابو میں آتا نظر نہیں آ رہا اور مجموعی بجٹ خسارہ 4 کھرب روپے سے تجاوز کرنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے ۔ معاشی ترقی کی رفتار بھی سست رہنے کا خدشہ ہے جہاں مالی سال 2026-27 میں جی ڈی پی گروتھ 3.5 فیصد تک محدود رہ سکتی ہے ، جبکہ مہنگائی کی شرح 7.2 فیصد سے بڑھ کر 8.4 فیصد تک جانے کا امکان ہے ۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے 0.9 فیصد کے قریب رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے ۔ مجموعی طور پر یہ بجٹ سخت فیصلوں، محدود ریلیف اور مالیاتی نظم و ضبط کا عکاس ہوگا، جس میں حکومت کو ایک طرف عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد برقرار رکھنا ہے تو دوسری جانب عوامی دباؤ اور معاشی سست روی جیسے چیلنجز سے بھی نمٹنا ہوگا۔ یہ بجٹ آنے والے سال میں معیشت کی سمت کا تعین کرے گاجہاں پالیسی فیصلوں کی کامیابی یا ناکامی براہ راست عوام اور کاروباری سرگرمیوں پر اثرانداز ہوگی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں