ٹرمپ انتظامیہ کی ووٹنگ مشینوں پر پابندی کی کوشش ناکام
انتخابی سکیورٹی مشیر کرٹ اولسن ہاتھ سے ووٹ گننے کانظام نافذ کرنا چاہتے ہیں اولسن کی ٹیم مشینیں ہٹانے کاقانونی جواز نہ ڈھونڈسکی ، ڈیموکریٹس کی شدید تنقید
واشنگٹن (رائٹرز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے انتخابی سکیورٹی مشیر کرٹ اولسن نے گزشتہ برس امریکہ کی نصف سے زائد ریاستوں میں استعمال ہونے والی ڈومینین ووٹنگ مشینوں پر پابندی لگانے کی کوشش کی۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق منصوبے کے تحت یہ جانچنے کی کوشش کی گئی کہ آیا ان مشینوں کے پرزہ جات کو قومی سلامتی کیلئے خطرہ قرار دیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ذرائع کے مطابق اولسن اور دیگر حکام اس امکان پر غور کر رہے تھے کہ وفاقی حکومت انتخابات کے انتظامی اختیارات ریاستوں سے اپنے ہاتھ میں لے لے ۔ اولسن ملک بھر میں ہاتھ سے گنے جانے والے کاغذی بیلٹ کا نظام نافذ کرنا چاہتے تھے تاہم انتخابی ماہرین نے اسے کم مؤثر اور زیادہ خطرناک قرار دیا۔رپورٹ کے مطابق ستمبر میں محکمہ تجارت کے حکام نے اس منصوبے کے قانونی جواز تلاش کرنا شروع کئے لیکن بعد میں یہ کوشش ناکام ہو گئی کیونکہ اولسن کی ٹیم کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہ کر سکی۔اس معاملے میں تلسی گبارڈ کے دفتر سے وابستہ پال میک نامارا سمیت دیگر حکام بھی شامل تھے تاہم قومی انٹیلی جنس دفتر اور محکمہ تجارت نے اس منصوبے میں باضابطہ کردار کی تردید کی ہے ۔ڈیموکریٹک سینیٹر الیکس پاڈیلا نے اولسن کو جمہوریت کیلئے خطرہ قرار دیتے ہوئے انہیں برطرف کرنے کا مطالبہ کیا۔رپورٹ کے مطابق اولسن کی ٹیم اس بے بنیاد نظریے کے ثبوت تلاش کر رہی تھی کہ ڈومینین مشینوں میں وینزویلا سے منسلک کوڈ موجود تھا حالانکہ متعدد تحقیقات اور عدالتی فیصلوں میں ایسے کسی دعوے کی تصدیق نہیں ہوئی۔ 2023 میں فوکس نیوز بھی جھوٹے انتخابی دھاندلی کے دعوؤں پر ڈومینین کو 787 ملین ڈالر ادا کر چکا ہے ۔