پولیس پنکی کا مزید جسمانی ریمانڈ لینے میں ناکام
مؤثر پیشرفت ظاہر نہ کرنے پر ملزمہ کو 19مقدمات میںجیل بھیج دیاگیا
کراچی (سٹاف رپورٹر)منشیات ڈیلر انمول عرف پنکی کے خلاف قتل اور منشیات کے مقدمات میں پراسیکیوشن کی بھرپور کوششوں کے باوجود پولیس ملزمہ کا مزید جسمانی ریمانڈ لینے میں ناکام ہوگئی۔ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی نے تفتیش میں مؤثر پیشرفت ظاہر نہ کرنے پر ملزمہ کو 19 مقدمات میں عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔ سینٹرل جیل کے جوڈیشل کمپلیکس میں ہونے والی سماعت کے دوران پولیس نے سخت سکیورٹی میں ملزمہ پنکی کو جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی اور وسطی کے روبرو ضلع جنوبی کے 18 اور ضلع وسطی کے ایک مقدمے میں ریمانڈ کے حصول کیلئے پیش کیا۔ ڈپٹی ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر شکیل عباسی نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمہ ایک ہائی پروفائل منشیات فروش ہے اور منشیات کے وسیع نیٹ ورک سے متعلق تحقیقات ابھی مکمل نہیں ہوسکیں، اس لیے مزید جسمانی ریمانڈ دیا جائے ۔ شکیل عباسی نے عدالت کو بتایا کہ منشیات کے استعمال سے جاں بحق ہونے والے شخص کے پاس سے ملزمہ کی تیار کردہ منشیات ملی تھیں جبکہ ملزمہ سے مبینہ طور پر 850 کسٹمرز کی فہرست بھی برآمد ہوئی ہے ۔ پراسیکیوٹر نے بتایا کہ ملزمہ متعدد مقدمات میں مطلوب ہے اور صرف 9 روز میں تمام مقدمات کی تفتیش مکمل کرنا ممکن نہیں، لہٰذا مزید جسمانی ریمانڈ ضروری ہے ۔
وکیل صفائی میر ہدایت اللہ نے جسمانی ریمانڈ کی سخت مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس 9 روز کے دوران کسی ٹھوس پیشرفت کا ثبوت پیش نہیں کرسکی۔ وکیل صفائی کے مطابق بیشتر مقدمات میں برآمدگیاں پہلے ہی ہوچکی ہیں جبکہ ملزمہ کو دوران حراست تشدد کا بھی نشانہ بنایا گیا۔تفتیشی افسران نے عدالت کو بتایا کہ تحقیقات جاری ہیں اور منشیات نیٹ ورک سے متعلق مزید معلومات حاصل کی جارہی ہیں تاہم عدالت پولیس کی جانب سے پیش کی گئی پیشرفت سے مطمئن نہ ہوسکی۔ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی شہزاد خواجہ نے 18 مقدمات میں ریمانڈ کی درخواست پر جاری مشترکہ تحریری حکم نامے میں قرار دیا کہ قتل کیس میں بھی تفتیشی ادارے کی پیشرفت زبانی بیانات اور خودساختہ ڈائریوں تک محدود رہی۔ عدالت نے کہا کہ موجودہ مواد مزید جسمانی ریمانڈ دینے کے لیے کافی نہیں جبکہ پوسٹ مارٹم اور کیمیکل رپورٹ کے انتظار کے دوران ملزمہ کی جسمانی تحویل ضروری ثابت نہیں کی جاسکی۔ عدالت نے حکم نامے میں مزید کہا کہ قانون کے مطابق کسی شخص کی آزادی مضبوط وجوہات کے بغیر سلب نہیں کی جاسکتی اور جب تفتیشی ادارہ مؤثر پیشرفت ظاہر کرنے میں ناکام رہے تو مزید جسمانی ریمانڈ دینا لاحاصل عمل ہوگا۔ عدالت نے قرار دیا کہ ضابطہ فوجداری کے تحت قتل اور ڈکیتی کے مقدمات کے علاوہ خاتون ملزمہ کا جسمانی ریمانڈ دینے کی ممانعت ہے ۔ عدالت نے ملزمہ کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی استدعا مسترد کرتے ہوئے ملزمہ انمول عرف پنکی کو قتل اور دیگر منشیات مقدمات میں عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا جبکہ تفتیشی افسران کو تحقیقات مکمل کرکے چالان پیش کرنے کی ہدایت کردی۔