سانحہ پکا قلعہ مہاجر قوم کی تاریخ کا کربلا ، خالد مقبول
کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)متحدہ قومی موومنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ سانحہ پکا قلعہ مہاجر قوم کی تاریخ کا کربلا ہے ، 26 اور 27 مئی 1990ء کی تاریخ ہماری قومی جدوجہد کا وہ خونچکاں باب ہے۔۔۔
جسے فراموش نہیں یا جاسکتا۔سانحہ پکا قلعہ حیدرآباد کے شہدا کی برسی پر مرکز بہادر آباد سے جاری کردہ اپنے خصوصی بیان میں انہوں نے شہدائے پکا قلعہ کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا ۔ان کا کہنا تھا کہ یہ سانحہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ مظلوم اور پرامن مہاجر قوم کی نسل کشی کی ایک منظم ریاستی سازش تھی۔ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پکا قلعہ کی زمین آج بھی ہمارے معصوم بچوں بوڑھوں اور تڑپتی ہوئی ماؤں بہنوں کے خون کی خوشبو سے مہک رہی ہے ۔ چیئرمین ایم کیو ایم نے اس دور کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت کی صوبائی اور وفاقی حکومتوں نے جمہوریت کا لبادہ اوڑھ کر آمریت اور فاشزم کا وہ ننگا ناچ ناچا گیا۔
جس نے چنگیز خان اور ہلاکو خان کے مظالم کی یاد تازہ کر دی، مقتدر حلقوں کی یہ مجرمانہ خاموشی اس ملک کے عدالتی نظام پر ایک بدنما داغ ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم اپنے شہداء کے خون کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ جب تک ایم کیو ایم کا ایک بھی کارکن زندہ ہے شہداء کے مشن سے غداری نہیں ہونے دی جائے گی، ہم سرخرو ہوں گے ، اپنے حقوق چھین کر لیں گے اور سندھ کے شہری علاقوں کے عوام کو ان کا جائز حق دلوا کر رہیں گے ، مظلوموں محروموں کا یہ قافلہ ستم گروں کے سامنے کبھی نہیں جھکے گا۔