حافظ نعیم کا بیان مایوسی، حقائق سے چشم پوشی،ذوالفقار شاہ

   حافظ نعیم کا بیان مایوسی، حقائق سے چشم پوشی،ذوالفقار شاہ

جماعت اسلامی بیانات کے ذریعے سیاست چمکانے کی کوشش کر رہی،صوبائی وزیر پیپلز پارٹی پر تنقید کرنے والے آج صدر سے ہی مطالبات کر رہے :سعدیہ جاوید

کراچی (این این آئی، مانیٹرنگ ڈیسک) صوبائی وزیر ثقافت سید ذوالفقار علی شاہ نے حافظ نعیم الرحمن کی پریس کانفرنس پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا بیان مایوسی، سیاسی پوائنٹ سکورنگ اور حقائق سے چشم پوشی پر مبنی ہے ۔اپنے ایک بیان میں ذوالفقار شاہ نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات میں عوامی فیصلے کے بعد جماعت اسلامی آج تک اس کے سیاسی اثرات سے باہر نہیں نکل سکی، جس کے باعث اس کی قیادت مسلسل بے بنیاد الزامات اور تنقید کے ذریعے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے ، حافظ نعیم ہر پریس کانفرنس میں وہی پرانے الزامات دہراتے ہیں، گویا کوئی واشنگ مشین ایک ہی عمل کو بار بار دہرا رہی ہو۔

صوبائی وزیر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر الزام تراشی اور تنقید برائے تنقید کا کوئی میڈل دیا جاتا تو وہ یقیناً حافظ نعیم الرحمن کے حصے میں آتا۔ انہوں نے کہا جماعت اسلامی کی قیادت کراچی کے عوامی مسائل کے حل کے لیے عملی کردار ادا کرنے کے بجائے صرف سیاسی بیانات کے ذریعے اپنی سیاست چمکانے کی کوشش کر رہی ہے ۔صوبائی حکومت کراچی کے انفرااسٹرکچر کی بہتری، سڑکوں، نکاسی آب اور شہری سہولیات کی فراہمی کیلئے مسلسل اقدامات کر رہی ہے ۔انہوں نے کہا عیدالاضحی جیسے بڑے موقع پر انتظامات کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف تنقید کرنا افسوسناک عمل ہے ۔

ذوالفقار شاہ نے کہا سیاسی جماعتیں عوامی مسائل کے حل کیلئے مثبت کردار ادا اور بے بنیاد تنقید کے بجائے تعمیری تجاویز پیش کریں تاکہ کراچی اور سندھ کی ترقی کے سفر کو مزید تیز کیا جا سکے ۔ ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے کہا کہ جہاں جماعت اسلامی نے کام نہیں کیا وہاں جیالے میئر نے کام کر کے دکھایا۔حافظ نعیم الرحمٰن کی پریس کانفرنس پر ردِعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سارا دن سیاسی جماعتوں پر الزامات لگانے والے گلگت بلتستان میں اتحادی بن جاتے ہیں اور سارا دن پیپلز پارٹی پر تنقید کرنے والے آج صدر زرداری سے ہی مطالبات کر رہے ہیں۔آمروں کے ادوار میں اقتدار کے مزے لوٹنے والے کس منہ سے ہمیں بی ٹیم کہہ رہے ہیں؟عوامی خدمت کے بجائے کھالوں کے پیچھے لگنے والوں کو اپنا نظام اور ترجیحات بدلنے کی ضرورت ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں