عدالت احکامات پر عمل نہیں کرا سکتی تو پورا نظام ختم :ہائیکورٹ
ڈی سی حافظ آباد پیش ،چیف جسٹس درخواست گزار کے بیانات میں تضاد پر برہم
لاہور (کورٹ رپورٹر)لاہور ہائیکورٹ نے عدالتی احکامات کے باوجود ضلعی انتظامیہ کی جانب سے پراپرٹی کے قبضے دلوانے سے متعلق معاملے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس د یئے ہیں کہ اگر عدالت اپنے احکامات پر عملدرآمد نہیں کرا سکتی تو پورا نظام ختم ہو جائے گا۔چیف جسٹس ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے محمد یار کی درخواست پر سماعت کی، جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ ڈپٹی کمشنر حافظ آباد عبدالرزاق عدالتی حکم کے باوجود درخواست گزار کو پراپرٹی سے دستبردار ہونے پر مجبور کر رہے ہیں۔ جو غیر قانونی اقدام ہے لہذا ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے ، سماعت کے دوران ڈی سی حافظ آباد عدالت میں پیش ہوئے ۔
عدالت نے ڈی سی سے استفسار کیا کہ کیا انہوں نے درخواست گزار کو قبضہ چھوڑنے کا کہا؟ جس پر ڈی سی نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایسا کوئی حکم نہیں دیا۔عدالت نے درخواست گزار سے بھی پوچھا کہ انہیں قبضہ چھوڑنے کا کس نے کہا، جس پر انہوں نے بتایا کہ ڈی سی کے ریڈر نے انہیں فون کر کے بلایا جبکہ اسسٹنٹ کمشنر نے قبضہ چھوڑنے کا کہا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سرکاری افسر کس طرح عدالتی احکامات کو نظر انداز کر سکتے ہیں، اگر ایسا ہوتا رہا تو ان کی نوکری بھی جا سکتی ہے ۔ عدالت نے درخواست گزار کے بیانات میں تضاد پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جھوٹ بولنے پر جرمانہ بھی عائد کیا جا سکتا ہے تاکہ آئندہ کوئی عدالت کے سامنے غلط بیانی نہ کرے ۔ درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ان کا موکل ان پڑھ ہے اور عدالتی معاملات کی نزاکت کو پوری طرح نہیں سمجھتا، اس لیے اسے جرمانہ نہ کیا جائے ۔ درخواست گزار نے درخواست واپس لینے کی استدعا کی تو عدالت نے درخواست واپس لینے کی بنیاد پر نمٹادی۔