پاکستان ایسی مفاہمت کیلئے کوشاں جوتنازعات کا حل نکالے
معاملات میں پیشرفت تبھی ممکن جب امریکا،ایران ایک دوسرے پر اعتماد کریں
(تجزیہ:سلمان غنی)
وزیرداخلہ محسن نقوی کے دورہ ایران کو اپنے مقاصد اور ٹائمنگ بارے نہایت اہمیت کاحامل قرار دیا جا رہا ہے ۔ پاکستان نہیں چاہتا کہ امریکا و ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل ناکام ہو اسلئے کہ امریکا ایران کے درمیان تنائو کا فریقین کو اتنا نقصان نہ ہو لیکن اس کیفیت کے علاقائی صورتحال پر اچھے اثرات نہیں ہونگے یہی وجہ ہے کہ پاکستان پھرسے سفارتی محاذ پر سرگرم ہے اور وزیرداخلہ محسن نقوی فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کا ایرانی سپریم لیڈر کیلئے اہم مکتوب اور وزیراعظم شہباز شریف کا خصوصی پیغام لیکر ایران گئے ہیں جہاں انکی ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی سمیت اہم حکومتی ذمہ داران سے ملاقاتیں ہوئی ہیں جسکے حوالے سے اطلاعات یہ ہیں کہ پاکستان چاہتا ہے کہ صورتحال میں بہتری کیلئے اپنی اپنی ذمہ داری اور مفادات کا احساس کرتے ہوئے آگے بڑھا جائے اور ایسی صورتحال سے بچا جائے جو علاقائی امن و استحکام کیلئے خطرناک ہو۔
لہٰذا وزیرداخلہ کے دورہ، مقاصد اثرات اور نتیجہ خیزی کا جائزہ لینا ضروری ہے اور یہ دیکھنا پڑے گا کہ کیا ایسی وجوہات ہیں جو امریکا اورایران کی لیڈر شپ میں مفاہمتی عمل کی نتیجہ خیزی میں رکاوٹ بن رہی ہیں اور کیا انکے درمیان تنائو کا یہ عمل پھر سے ٹکرائو کا باعث تو نہیں بن پائے گا جہاں تک محسن نقوی کے ہنگامی دورہ ایران کا تعلق ہے تو یہ اس مفاہمتی عمل کا حصہ ہے جسکی ذمہ داری پاکستان نے لے رکھی ہے اور وہ نتیجہ خیزی کیلئے سرگرم ہے اور یہ دورہ بھی سفارتی رابطوں کا تسلسل ہے ۔ ایران سے آمدہ خبروں کے مطابق محسن نقوی نے جہاں ایرانی سپریم لیڈر کیلئے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کا خصوصی مکتوب اور وزیر اعظم شہباز شریف کا خصوصی پیغام پہنچایا وہاں ایرانی لیڈر شپ سے علاقائی سلامتی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور انہیں باور کرایا کہ امریکاسے تنازعات کا حل ڈائیلاگ کے ذریعہ ممکن ہے اور پاکستان چاہتا ہے کہ کسی حقیقت پسندانہ حل کی طرف بڑھا جائے اور یہی آپشن خطے میں امن و استحکام کیلئے ضروری ہے ۔
ایرانی لیڈر شپ کاکہنا تھا کہ ہم پاکستان کو مایوس نہیں کرناچاہتے لیکن اس کیلئے امریکی لیڈر شپ کو اپنے طرز عمل میں ٹھہرائو لانا ہوگا اور مذاکراتی عمل میں سنجیدگی دکھانا پڑے گی جس پر محسن نقوی نے کہا پاکستان فریقین میں ایسے مفاہمتی عمل کیلئے کوشاں ہے جس پر دونوں کو اعتماد ہو جن سے تنازعات کا حل بھی نکلے اور مستقبل میں کسی تنائو اور ٹکرائو کے امکانات بھی ختم ہوں۔ وزیرداخلہ کے دورہ ایران بارے ایک رائے یہ پائی جا رہی ہے کہ ان کا انتخاب پاکستانی ریاست کے بعض اہم معاملات پر حساسیت کے پیش نظر کیا گیا اور وہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کے قابل اعتماد رفیق کے طور پر ایرانی قیادت سے رابطے میں ہیں اور ایرانی قیادت بھی ان پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتی نظر آ رہی ہے ۔
یہی وجہ ہے کہ امریکا ایران تنازع کے بعد یہ وزیرداخلہ محسن نقوی کا پانچواں دورہ ہے اورحالیہ دورہ کا مقصد ایران کو حقیقت پسندانہ حل کی طرف لانا ہے کیونکہ حالیہ دنوں میں امریکا اور ایران میں کشیدگی واقعات نے پھر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے اور اس پر پاکستان سمیت سبھی حلقوں اور خصوصاً خطہ کے ممالک میں تشویش ہے اور پاکستان کو یہ اعزاز حاصل ہے امریکا ایران تنازعہ میں خطہ کے ممالک اپنے تحفظات اور تشویش پاکستان پر ظاہر کرتے اور اسکے حل پر زور دیتے نظر آتے ہیں اور پاکستان دونوں فریقین میں ثالثی اور پیغام رسانی کا فریقین خوش اسلوبی سے ادا کرتا نظر آ رہا ہے مگر امن کیلئے کاوشوں کی کامیابی کا تقاضا یہ ہے کہ دونوں ممالک بھی ذمہ داری کا حساس کریں اور کسی ایسے حل کی طرف بڑھیں جو خود انکے مفادات کے ساتھ عالمی و علاقائی امن کا باعث ہو امریکا اور ایران میں نئی کشیدگی اس حوالے سے خطرناک ہے کہ یہ اعتماد کی بحالی کی ان کوششوں کیلئے نقصان دہ ہوسکتی ہے ۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی کوششیں تبھی کارگر ہونگی جب واشنگٹن اور تہران خود لچک دکھائیں گے اور مفاہمتی عمل کی کامیابی کا انحصار دونوں ممالک کے فیصلوں پر آئے گا تاہم حالیہ کشیدگی کے باوجود ابھی تک کسی بھی سطح پر ایسا تو تاثر سامنے نہیں آیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکراتی اور مفاہمتی عمل میں کوئی ڈیڈلاک پیدا ہوا ہو جہاں تک امریکا اور ایران میں مفاہمتی عمل میں رکاوٹ کا سوال ہے تو بڑی رکاوٹ ایران اپنے منجمد اثاثوں سے خاطر خواہ رقوم حاصل کرنا اور امریکا ایران کی افزدہ یورینیم کی منتقلی چاہتا ہے اور ان معاملات میں پیشرفت تبھی ممکن ہوگی جب فریقین ایک دوسرے پر اعتماد کریں۔
عدم اعتماد کی تو بہت سی وجوہات ہیں مگر موجودہ صورتحال میں اس کیفیت سے نکلنا عالمی امن اور کیفیت کیلئے ناگزیر سمجھا جا رہا ہے ۔ پاکستان ثالثی، پیغام رسانی کا ذریعہ احسن انداز سے ادا کر رہا ہے لیکن کیا پاکستان تنازعات کے حل بارے کوئی کردار ادا کر پائے گا اور کیا فریقین پاکستان پر اعتماد کرسکیں گے یہ سوال اہم ہے اور وزیرداخلہ محسن نقوی کی شٹل ڈپلومیسی کو اس ضمن میں معنی خیز بنایا جا رہاہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا ایران تنازعات کے حل میں کسی تیسری پارٹی کا کردار ہی نتیجہ خیز ہوگا۔ موجودہ صورتحال میں پاکستان کو یہ ذمہ داری بھی اٹھانا پڑسکتی ہے لیکن کیا وہ یہ ذمہ داری اٹھا پائے گا اس بارے کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔