ایران اور اسرائیل نے ٹرمپ کی درخواست مان لی، ایک دوسرے پر حملے روک دیئے
جوابی کارروائیوں کا موجودہ مرحلہ مکمل ، لبنان پر حملوں کاجواب دینگے :ایران ،امریکی درخواست پرحملے روکے ،حزب اللہ کی کارروائیوں کا جواب دیاجائیگا:اسرائیل امن کیلئے حتمی مذاکرات جاری :ٹرمپ ،میدانِ جنگ چھوڑا نہ مذاکرات کا راستہ ترک کیا:مسعود پزشکیان،24گھنٹوں میں جو ہوا اسکا ذمہ دار امریکا :اسماعیل بقائی
واشنگٹن،تہران (مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کی درخواست پر ایران اور اسرائیل نے ایک دوسرے پر حملے روکنے کا اعلان کر دیا ہے ، تاہم دونوں ممالک نے خبردار کیا ہے کہ اگر اشتعال انگیز کارروائیاں جاری رہیں تو سخت جواب دیا جائے گا۔عرب میڈیا کے مطابق دو ماہ قبل ہونے والی جنگ بندی کے بعد یہ کشیدگی کا سب سے سنگین واقعہ تھا، جس نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک بار پھر جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔ ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار کے مطابق اسرائیل نے امریکی درخواست پر ایران پر حملے روک دئیے ہیں، تاہم اگر حزب اللہ اسرائیلی شہروں پر حملے جاری رکھتا ہے تو اسرائیل بیروت کے جنوبی علاقوں کو دوبارہ نشانہ بنا سکتا ہے ۔دوسری جانب ایران کی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل کے خلاف جوابی کارروائیوں کا موجودہ مرحلہ مکمل ہو چکا ہے تاہم اگر اسرائیل نے لبنان پر حملے جاری رکھے تو ایران دوبارہ کارروائی کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے ۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کہا کہ اسرائیل اور ایران فوری جنگ بندی چاہتے ہیں اور امن کیلئے حتمی مذاکرات جاری ہیں تاہم یہ عمل جہالت یا حماقت سے متاثر ہو سکتا ہے ۔ ان کے بقول دونوں فریق جنگ بندی پر آمادہ ہیں اور معاملات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔
ناکہ بندی برقرار ہے اور یہ پوری قوت کے ساتھ جاری رہے گی جب تک ایک حتمی معاہدہ طے نہیں پا جاتا۔ ایک اسرائیلی عہدیدار نے عالمی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ بھی ہوا، جس میں خطے کی صورتحال اور جنگ بندی کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران نے نہ میدانِ جنگ چھوڑا ہے اور نہ مذاکرات کا راستہ ترک کیا ہے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ سفارت کاری اور دفاع قومی طاقت کے دو اہم ستون ہیں اور ایران اپنے قومی مفادات اور عوام کے حقوق کے تحفظ سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بیان میں کہا کہ ایران کی اولین ترجیح قومی سلامتی اور عوام کا تحفظ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اتحاد، دانشمندی اور قومی یکجہتی کے ذریعے ایران موجودہ آزمائش سے بھی کامیابی کے ساتھ نکل آئے گا۔ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ اسرائیل امریکی اجازت کے بغیر خطے میں کوئی حرکت نہیں کرسکتا، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران جو کچھ بھی ہوا اس کا ذمہ دار امریکا ہے۔
تہران میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ موجودہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی براہِ راست ذمہ داری امریکا پر عائد ہوتی ہے ، جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ امریکا کی طرف سے ترتیب دیا گیا تھا اور یہی کشیدگی میں دوبارہ اضافے کا باعث ہے ،ہم ملکی سلامتی اور مفادات کے دفاع کیلئے تیار ہیں۔ ان کاکہناتھاکہ لبنان میں جنگ کا خاتمہ معاہدے کا حصہ تھا، جب جنگ بندی کی شق کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو سفارتی ٹریک بھی متاثر ہوتا ہے ۔امریکا کی متضاد پالیسیوں اور موقف نے اب تک سفارتی راستے کو متاثر کیا ، ہم انتہائی بے اعتمادی کے ماحول میں امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ کر رہے تھے ، 24 گھنٹوں کے دوران جو کچھ ہوا اس سے سفارتی عمل میں مزید مشکل پیدا ہو جائے گی۔دوسری طرف پیر کے روز ایران اور اسرائیل کے درمیان ایک دوسرے پر حملوں کا تبادلہ ہوا، جبکہ یمن کے حوثی گروپ نے بھی اسرائیل پر میزائل داغنے اور بحیرہ احمر میں جہاز رانی متاثر کرنے کی دھمکی دی۔ اسرائیلی حکام کے مطابق ایران نے تین مرحلوں میں میزائل حملے کئے جنہیں دفاعی نظام کے ذریعے روکنے کی کوشش کی گئی جبکہ تل ابیب اور وسطی اسرائیل کے مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے ایران کی پیٹروکیمیکل تنصیبات پر اسرائیلی حملے کے جواب میں حیفہ کی پیٹروکیمیکل تنصیبات پر میزائل حملہ کیا ہے ۔شہری اہداف اور تیل و توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنانا ایک خطرناک کھیل ہے جو پورے خطے کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو خطرے میں ڈال سکتا ہے ۔اس سے قبل اسرائیل نے اعلان کیا تھا کہ اس نے ماہ شہر کے پیٹروکیمیکل کمپلیکس میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا ہے ۔ایرانی مسلح افواج کے خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹر نے اپنے بیان میں کہا کہ جنوبی لبنان اور بیروت کے علاقے ضاحیہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے جواب میں ایران نے سخت اوردردناک ردعمل دیا تاہم فی الحال یہ آپریشن روک دیا گیا ہے ۔ بیان میں خبردار کیا گیا کہ اگر جارحیت کا سلسلہ جاری رہا تو اس سے کہیں زیادہ شدید اور تباہ کن اقدامات کئے جائیں گے ۔ادھر ایران کی پارلیمانی قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے کہا ہے کہ ایران کسی بھی ممکنہ حملے کا پہلے سے زیادہ طاقتور جواب دینے کیلئے تیار ہے۔
ان کے مطابق جنگ بندی کے بعد ایرانی افواج نے اپنی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ اور نقصانات کا ازالہ کر لیا ہے ۔علاقائی کشیدگی کے باعث ایران نے اپنی مغربی فضائی حدود غیر معینہ مدت کیلئے بند کر دی ہیں اور تمام پروازیں تاحکمِ ثانی معطل کر دی گئی ہیں۔ ایرانی سول ایوی ایشن حکام کے مطابق فضائی حدود کی بندش حفاظتی اقدامات کے تحت کی گئی ہے ۔دوسری جانب عراق نے بھی عارضی طور پر اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں جبکہ شام نے جنوبی فضائی حدود مختصر مدت کیلئے بند کرکے دمشق ایئرپورٹ پر فضائی آپریشن معطل کیا۔ اسی دوران مقبوضہ بیت المقدس میں امریکی سفارت خانے نے اپنے عملے اور ان کے اہلِ خانہ کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایات جاری کی ہیں۔