آزاد کشمیر : کالعدم ایکشن کمیٹی رہنماؤں کیخلاف بغاوت کا مقدمہ ،1 ہزار سے زائد نامعلوم افراد نامزد

آزاد کشمیر : کالعدم ایکشن کمیٹی رہنماؤں کیخلاف  بغاوت کا مقدمہ ،1 ہزار سے زائد نامعلوم  افراد نامزد

عوام کو بغاوت پر اکسانے کا الزام ، مطلوب افراد میں شوکت نواز ، عمر نذیر ، مہران ارشد ،سردار امان شامل ،معلومات دینے والے کو 1 ،1کروڑ انعام دینے کا اعلان احتجا جی کال مسترد ، دارالحکومت سمیت میرپور ، راولاکوٹ، باغ ،کوٹلی میں بازار، تعلیمی ادارے کھلے ،مظفر آباد میں آپریشن 5 افراد گرفتار ، اسلحہ،مواصلاتی آلات برآمد فتنہ الخوارج، را ، کالعدم ایکشن کمیٹی کے مبینہ روابط بے نقاب، خطے میں عدم استحکام ، انتشار کے خدشات بڑھ گئے ، 5 ار کا ن کا کالعدم ایکشن کمیٹی سے لاتعلقی کا اعلان

 اسلام آباد (اے پی پی، دنیا نیوز، مانیٹرنگ ڈیسک، خصوصی نیوز رپورٹر) حکومت آزاد جموں و کشمیر نے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کر دی ہیں ،مظفر آباد میں کمیٹی کے رہنماؤں شوکت نواز میر اور خواجہ مہران ارشد کے خلاف محکمہ داخلہ آزاد کشمیر کی شکایت پر بغاوت کا مقدمہ درج کر لیا گیا ،پولیس کے مطابق ملزمان پر تقاریر اور تحریروں کے ذریعے لوگوں کو بغاوت پر اکسانے کا الزام ہے ۔ کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی  کے رہنماؤں کے خلاف آزاد کشمیر پینل کوڈ کی دفعہ 124 اے کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ،مقدمے میں ایک ہزار سے زائد نامعلوم افراد کو بھی نامزد کیا گیا ۔ ایف آئی آر میں اشتعال انگیزی کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں ، دوسری جانب آزاد کشمیر بھر میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی احتجاجی کال کو عوام نے مسترد کر دیا اور تمام کاروباری، تعلیمی اور سماجی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رہیں۔ دارالحکومت مظفرآباد سمیت میرپور، راولاکوٹ، باغ اور کوٹلی میں بازار، تجارتی مراکز، سرکاری و نجی ادارے معمول کے مطابق کھلے رہے ، تعلیمی اداروں میں تدریسی سرگرمیاں جاری رہیں جبکہ ٹریفک کی روانی بھی معمول کے مطابق رہی۔

میرپور کے شہریوں نے احتجاجی سیاست پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لاک ڈاؤن سے کاروبار اور خصوصاً دیہاڑی دار طبقہ متاثر ہوگا، مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالا جانا چاہئے ۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ پاکستان اور کشمیر ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوسکتے اور کسی کو بھی پرامن ماحول خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے ۔ راولاکوٹ، باغ اور کوٹلی میں بھی عوام نے احتجاجی کال مسترد کرتے ہوئے معمولاتِ زندگی جاری رکھے اور اختلافات کے حل کیلئے مذاکرات پر زور دیا۔ ادھر 5 ار کا ن نے کالعدم ایکشن کمیٹی سے لاتعلقی کا اعلان کردیا جن میں فیصل گیلانی ، احسان شبیر ،محسن خلیل دیگر شامل ہیں ، سید فیصل گیلانی نے ویڈیو بیان میں کہا کہ وہ ابتدا سے عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ آٹا، بجلی اور دیگر بنیادی حقوق کیلئے متحرک رہے ، تاہم موجودہ صورت حال میں راولاکوٹ میں خونریزی ہو رہی ہے ، جس کے باعث وہ کالعدم ایکشن کمیٹی کی کارروائیوں سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہیں۔ ادھر مظفرآباد میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر چہلہ کے علاقے میں کارروائی کرتے ہوئے پانچ مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا۔ ذرائع کے مطابق خفیہ اطلاع پر کئے گئے ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران گرفتار افراد کے قبضے سے لیپ ٹاپ، موبائل فونز اور دیگر مواصلاتی آلات برآمد کئے گئے۔

ابتدائی تحقیقات میں ڈیجیٹل آلات سے مشکوک روابط اور حساس نوعیت کا مواد سامنے آیا جبکہ ایک ملزم کی نشاندہی پر بڑا اسلحہ ذخیرہ بھی برآمد کیا گیا، جس میں سات خودکار ہتھیار، متعدد گرینیڈز اور دیگر جنگی سامان شامل ہے ۔ ذرائع کے مطابق حساس تنصیبات کے نقشے ، دستاویزات اور ریکارڈ بھی برآمد ہوا ہے جبکہ دشمن خفیہ ایجنسی کے ساتھ مبینہ رابطوں کے شواہد بھی تحقیقات کا حصہ بن گئے ہیں۔ برآمد شدہ موبائل فونز، لیپ ٹاپس اور دیگر مواد کا فرانزک و تکنیکی تجزیہ جاری ہے جبکہ ممکنہ سہولت کاروں، مالی معاونت کے ذرائع اور وسیع نیٹ ورک کی چھان بین کی جا رہی ہے ۔ سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی سے حساس تنصیبات اور عوامی سلامتی کو ممکنہ خطرے سے محفوظ بنانے کا دعویٰ کیا ہے ،حکومت آزاد جموں و کشمیر نے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے تعلق رکھنے والے چار مطلوب افراد کی گرفتاری میں مدد فراہم کرنے والے کیلئے ایک، ایک کروڑ روپے انعام مقرر کر دیا محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری فہرست میں شوکت نواز میر، عمر نذیر کشمیری، خواجہ مہران ارشد اور سردار امان خان کے نام شامل ہیں۔ محکمہ داخلہ کے نوٹیفکیشن کے مطابق مطلوب افراد کی گرفتاری میں مؤثر معلومات فراہم کرنے والے شخص کو ایک کروڑ روپے انعام دیا جائے گا جبکہ اطلاع دینے والے کی شناخت مکمل طور پر خفیہ رکھی جائے گی۔ اس حوالے سے آئی جی پولیس آزاد کشمیر کو ضروری اقدامات کی ہدایت بھی جاری کر دی گئی ہے۔

حکومت نے بغاوت اور ریاست مخالف سرگرمیوں کے الزامات پر شوکت نواز میر اور خواجہ مہران ارشد کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے جرم آمیز تقاریر، تحریروں اور الیکٹرانک مواصلات سے متعلق تحقیقات کا بھی حکم دے دیا ۔ محکمہ داخلہ کے مطابق دستیاب مواد کے جائزے کے بعد یہ الزامات مزید تحقیقات کے متقاضی قرار د ئیے گئے ہیں۔ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 196 کے تحت متعلقہ ضلعی پولیس سربراہان کو تحقیقات مکمل کرکے عدالت میں چالان پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ،حکومتی ذرائع کے مطابق 6 جون کو سامنے آنے والی مبینہ لیک آڈیو اور راولاکوٹ میں پیش آنے والے پرتشدد واقعات کے درمیان مماثلت نے تحقیقات کو مزید تقویت دی ہے ۔ ایس ایس پی مظفرآباد کو شوکت نواز میر جبکہ ایس ایس پی میرپور کو خواجہ مہران ارشد کے خلاف تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ دریں اثنا فتنہ الخوارج، بھارتی خفیہ ایجنسی را اور کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان مبینہ روابط سے متعلق نئے شواہد سامنے آنے کا دعویٰ کیا گیا ، جن میں ایک ویڈیو اور آڈیو ریکارڈنگ شامل ہیں۔

افغانستان میں موجود خارجی کمانڈر شہزاد کی ایک ویڈیو منظرعام پر آئی ہے جس میں وہ ایک تحریر شدہ بیان پڑھتے ہوئے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے حوالے سے گفتگو کرتا دکھائی دیتا ہے ۔ ویڈیو میں خارجی شہزاد دعویٰ کرتا ہے کہ مذکورہ کمیٹی احتجاجی سرگرمیوں کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتی تھی جبکہ وہ پاکستان کی ریاست کے حوالے سے آئندہ پیش رفت اور اس کے ممکنہ اثرات کا بھی ذکر کرتا ہے ۔ اسی طرح ایک آڈیو کال بھی منظرعام پر آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے جس میں خارجی شہزاد اور کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ایک رہنما کے درمیان گفتگو سنائی دیتی ہے ۔ آڈیو میں آزاد کشمیر میں کارکنوں کو متحرک کرنے ، بدامنی ، انتخابات کی مخالفت کرنے اور انہیں روکنے سے متعلق گفتگو ریکارڈ ہونے کا دعویٰ کیا گیا ،سکیورٹی امور کے بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ سامنے آنے والی ویڈیو اور آڈیو مواد سے خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششوں کے خدشات کو تقویت ملتی ہے ، ماہرین کے مطابق فتنہ الخوارج کی جانب سے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی حمایت اور صف بندی سے آزاد کشمیر میں انتشار پھیلانے کے عزائم سے متعلق خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں