پاکستان میں فی کس آمدنی خطے میں سب سے کم، ویتنام، بنگلہ دیش سے بھی پیچھے

پاکستان میں فی کس آمدنی خطے میں سب سے کم، ویتنام، بنگلہ دیش سے بھی پیچھے

1990ء میں فی کس آمدنی 344ڈالر، 35برسوں میں صرف 1ہزار 824ڈالر ہو سکی، بھارت کی 2675ڈالر پر پہنچ گئی بنگلہ دیش کی فی کس آمدنی 2653ڈالر، ویتنام 5026ڈالر، چین کی 14ہزار ڈالر ہو گئی:وزارت منصوبہ بندی دستاویزات

اسلام آباد (حریم جدون) وزارت منصوبہ بندی کی دستاویزات کے مطابق پاکستان گزشتہ 35 سالوں میں فی کس آمدنی میں خطے کے دیگر ممالک کی نسبت پیچھے رہ گیا۔ پاکستان کی 1990 میں فی کس آمدنی 344 ڈالر تھی جو 2025 میں محض 1 ہزار824 ڈالر ہو سکی۔ مالی سال 2026 کیلئے فی کس آمدن کا ہدف 5 لاکھ 60 ہزار 830 روپے سالانہ رکھا گیا تھا لیکن حکومت ہدف حاصل نہ کر سکی اور فی کس آمدنی 5 لاکھ 33 ہزار 629 روپے تک محدود رہی، 35 برسوں پاکستان کی فی کس آمدنی محض 1 ہزار 477 ڈالر بڑھ سکی، بھارت کی فی کس آمدنی میں 2 ہزار 312 ڈالر اضافہ ہوا، بنگلہ دیش کی 2 ہزار 329 ڈالر اور ویتنام کی فی کس آمدن میں 4 ہزار 927 ڈالر اضافہ ہوا، خطے کے دیگر ممالک کی نسبت چین نے فی کس آمدنی میں سب سے 13 ہزار 639 ڈالر کا سب سے زیادہ اضافہ کیا۔

دستاویزات کے مطابق 2025 میں بنگلہ دیش کی فی کس آمدنی 1990 میں 324 ڈالر تھی اور آج 2 ہزار653 پر پہنچ چکی ہے ۔بھارت کی فی کس آمدنی 1990 میں 363 ڈالر تھی جو آج 2 ہزار675 پر پہنچ چکی ہے ۔ ویتنام کی فی کس آمدنی 1990میں پاکستان سے کہیں پیچھے صرف 99 ڈالرتھی یعنی پاکستان کی معیشت ویتنام سے تین گنا سے بھی زیادہ مضبوط تھی تاہم 2025 میں حیران کن طور پر اس کی فی کس آمدنی 5 ہزار 26 ڈالر تک جا پہنچی ہے ۔ چین نے 1990 میں 361 ڈالرفی کس آمدن سے سفر شروع کیا جو آج 14 ہزارڈالرکے ساتھ معاشی سپر پاور بن چکا ہے ۔ پاکستان عالمی اور علاقائی سطح پر معاشی ترقی کی دوڑ میں اپنے ہمسایوں سے بہت پیچھے رہ گیا ہے ۔

سرکاری رپورٹس اور ورلڈ بینک و آئی ایم ایف کے اعداد و شمار کے مطابق ملک کے پالیسی سازوں کے لیے ایک بڑا لمحہ فکریہ ہے ۔ یہ فرق جغرافیائی برتری یا وسائل کی وجہ سے نہیں بلکہ ان ممالک نے 5 بنیادی شعبوں میں سرمایہ کاری کی جنہیں پاکستان نے یکسر نظرانداز کر دیا۔ ان میں تعلیم، ہنر، آبادی پر کنٹرول، افرادی قوت میں خواتین کی شمولیت اور برآمدات میں مسابقت پر جارحانہ سرمایہ کاری ہے جس میں پاکستان ناکام رہا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بڑھتا ہوا فرق پالیسی سازوں کیلئے سنجیدہ انتباہ ہے ۔ اگر انسانی سرمایہ، برآمدات اور پیداواری شعبوں میں اصلاحات نہ کی گئیں تو پاکستان اور اس کے علاقائی حریفوں کے درمیان معاشی خلیج مزید وسیع ہو سکتی ہے ۔ جب پاکستان 1990 میں بنگلہ دیش اور ویتنام سے آگے تھا تو آج ان سے پیچھے کیوں؟ یہ سوال معاشی پالیسیوں اور ترقیاتی ترجیحات پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں