بجٹ متوسط طبقے ، رجسٹرڈ کاروبار پر بوجھ ڈالے گا

  بجٹ متوسط طبقے ، رجسٹرڈ کاروبار پر بوجھ ڈالے گا

مہنگے ایندھن، بجلی اور ٹیکسز کازیادہ بوجھ رجسٹرڈ کاروباراور تنخواہ داروں پرپڑیگا حکومتی مقصدغریب کو تحفظ دیکر آمدنی میں اضافہ ،اخراجات میں کٹوتی کرناہے زراعت، ریٹیل اور ریئل اسٹیٹ جیسے بااثر شعبوں پر ٹیکس لگانا اب بھی مشکل پالیسی سازوں کو بیل آؤٹ پیکیج کی شرائط ،خطے میں جنگ کے اثرات کا سامنا دفاع اور داخلہ کے علاوہ اگلے سال کوئی نیا منصوبہ شروع نہیں ہوگا:احسن اقبال

اسلام آباد (رائٹرز)وفاقی حکومت آج ایک ایسا بجٹ پیش کرنے جا رہی ہے جو متوسط طبقے اور رجسٹرڈ کاروباروں پر بھاری بوجھ ڈالے گا کیونکہ حکومت کا مقصد غریب ترین طبقے کو تحفظ دیتے ہوئے آمدنی میں اضافہ اور اخراجات میں کٹوتی کرنا ہے ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق آئی ایم ایف کی سخت شرائط کو پورا کرنے کے دباؤ کے تحت وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اگلے ماہ سے شروع ہونے والے مالی سال کیلئے تاخیر کا شکار 17.1 ٹریلین روپے (61 ارب ڈالر)کا مالیاتی پلان پیش کریں گے ۔ برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ ایندھن، بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور ٹیکسوں کا زیادہ تر بوجھ باقاعدہ رجسٹرڈ کاروباروں اور تنخواہ دار ملازمین پر پڑے گا کیونکہ زراعت، ریٹیل (پرچون فروخت)اور ریئل اسٹیٹ جیسے سیاسی طور پر بااثر شعبوں پر ٹیکس لگانا اب بھی مشکل بنا ہوا ہے ۔

ماہر معیشت مصطفی پاشا نے کہاکہ حکومت کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں کیونکہ وہ ایک بار پھر معاشی ترقی کے بجائے مالیاتی استحکام (خسارہ کم کرنے )کو ترجیح دے گی۔ان کا کہناتھاکہ اپنے اہداف حاصل کرنے کیلئے حکومت کو نان فائلرز، زراعت اور تاجروں کے خلاف سخت کارروائی کرنا ہوگی لیکن ٹیکس نیٹ کو گہرا کرنے (موجودہ لوگوں پر بوجھ بڑھانے )کے بجائے اسے وسیع کرنے (نئے لوگوں کو شامل کرنے )کا سیاسی عزم مفقود ہے ۔وزارت خزانہ نے بجٹ کے اعداد و شمار یا اپنی مالیاتی ترجیحات پر تبصرے کی درخواست کا فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔پالیسی سازوں کو نہ صرف آئی ایم ایف کے حالیہ بیل آؤٹ پیکیج کی شرائط کا سامنا ہے بلکہ ایران پر امریکا اور اسرائیل کی جنگ کے بڑے اثرات کا بھی مقابلہ کرنا پڑ رہا ہے ،جنگ کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافے نے پاکستان میں مہنگائی کو دوبارہ ڈبل ہندسوں میں پہنچا دیا ہے ، حالانکہ معیشت سنبھلتی ہوئی دکھائی دے رہی تھی۔

حکومت کا ہدف مالی سال 2026-2027 میں معاشی ترقی کی شرح کو 4.1فیصدتک پہنچانا ہے ، جو اس سال کے متوقع 3.7فیصد اور آئی ایم ایف کی 3.5فیصد کی پیش گوئی سے زیادہ ہے ۔ حکومت نے پورے سال کیلئے مہنگائی کا ہدف 8.2فیصد رکھا ہے ، جو مئی میں رپورٹ ہونے والی 11.7فیصد کی شرح سے نمایاں طور پر کم ہے تاہم مئی میں کاروباری اعتماد کی سطح گزشتہ سال ایس اینڈ پی کی جانب سے مینوفیکچرنگ سروے شروع کیے جانے کے بعد سے سب سے کم رہی جبکہ پیداواری لاگت 21 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی اور ملازمتوں کے مواقع مسلسل دوسرے مہینے بھی کم ہوئے ۔ مرکزی بینک نے اپریل میں شرح سود میں ایک فیصد کا اضافہ کیا، جو گزشتہ تین سالوں میں پہلا اضافہ تھا۔ حکومت پاکستان فیڈرل بورڈ آف ریونیو پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ اگلے سال ٹیکس وصولی کو رواں سال کے ہدف سے 37 فیصد زیادہ بڑھائے ،جس ہدف کو حاصل کرنے میں یہ ادارہ پہلے ہی ناکام ہے ۔

پاکستان کی وسیع غیر دستاویزی معیشت کی وجہ سے نقدی کا ایک بڑا حصہ ایف بی آر کی پہنچ سے دور رہتا ہے ، گزشتہ سال صرف 1.3 فیصد پاکستانیوں نے قابلِ ٹیکس آمدنی کے گوشوارے جمع کرائے اور صرف 7.7 فیصد بالغ افراد کے پاس ڈیبٹ یا کریڈٹ کارڈ ہیں۔ٹیکس فائلرز کی تعداد میں تو اضافہ ہوا ہے لیکن اس حساب سے ریونیو نہیں بڑھا۔ کارپوریٹ ٹیکس کی شرحیں عالمی معیار کے مطابق پہلے ہی بہت زیادہ ہیں جبکہ انکم ٹیکس میں مزید اضافہ ان لوگوں کی قوتِ خرید کو مکمل طور پر ختم کر دے گا جو گزشتہ دو سال کی بدترین مہنگائی سے ابھی سنبھل رہے ہیں۔لندن سکول آف اکنامکس کے پبلک اکنامکس ریسرچر مظہر وسیم نے کہاکہ باقی رقم نئے ٹیکس اقدامات یا سخت نفاذ کے ذریعے حاصل کرنا ہوگی، یہ عام طور پر وہ شعبے ہیں جہاں ایف بی آر ناکام ہو جاتا ہے ۔

سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عابد سلہری نے کہاہے کہ زراعت، ریئل اسٹیٹ اور ریٹیل پر ٹیکس لگائے بغیر مالیاتی خسارہ تو شاید کم ہو جائے لیکن شہریوں اور ریاست کے درمیان اعتماد کا فقدان مزید گہرا ہو جائے گا،معاشی ترقی پر ہونے والے اخراجات بھی شدید کٹوتی کا شکار ہیں۔ وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ دفاع اور داخلی پالیسیوں کے علاوہ اگلے سال کوئی نیا منصوبہ شروع نہیں کیا جائے گا،توقع ہے کہ بجٹ میں غریب ترین شہریوں کو کیش ٹرانسفرز (مالی امداد) فراہم کر کے ان کا تحفظ کیا جائے گا۔حکومت نے بجٹ پیش کرنے میں ایک ہفتے کی تاخیر کی کوئی وجہ نہیں بتائی تاہم ایک ذریعے نے رائٹرز کو بتایا کہ اس کی وجہ حکومت کی آئی ایم ایف کے ساتھ کچھ معاملات حل کرنے کی کوشش تھی جس میں صوبوں کی طرف سے وفاقی اخراجات کیلئے فنڈز کی دستبرداری کا معاملہ بھی شامل تھا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں